شہرِ بے انصاف ،تحریر: پیر انتظار حسین مصور
نقطہ نظر
ہمارے اس دیس میں کمال کا تماشا لگا ہوا ہے۔ قانون کے رکھوالے ہوں یا عقل کے سوداگر، سب اس اندھی نگری میں اندھا دھند دوڑ رہے ہیں جہاں محنت کرنے والے کو پاگل اور مفت کی کھانے والے کو عاقل مانا جاتا ہے۔ بچپن سے جوانی تک ایک غریب کا بچہ دن رات اپنی آنکھیں پھوڑ کر، خون جگر جلا کر کتابوں کے انبار میں اپنی قابلیت کا دیا جلاتا ہے، مگر اسے کیا خبر کہ اس منڈی میں قابلیت کی کوئی دھلے ٹکے کی اوقات نہیں۔ یہاں تو وزن صرف اس سفید کاغذ کی پرچی کا ہے جو کسی اثر و رسوخ والے بابو کی میز کی کالی دراز سے نکلتی ہے۔
ہمارے ہاں میرٹ کا جنازہ بڑی دھوم دھام سے نکالا جاتا ہے۔ اس جنازے میں وہ سب لوگ خاموش کھڑے ماتم کرتے ہیں جو خود اس چکی میں پس رہے ہوتے ہیں، پر منہ پر تالا لگا کر مجبوری کا ناٹک کرتے ہیں۔ ایک طرف وہ بوڑھا باپ ہے جو اپنی زندگی کی ساری جمع پونجی، اپنا پسینہ نچوڑ کر اولاد کو پڑھاتا ہے، اس آس پر کہ شاید اس کا بیٹا اس اندھیرے کو کاٹ کر سویرا لے آئے گا؛ اور دوسری طرف وہ سفارش کا شہزادہ ہے جسے کتاب اٹھانے کی عادت تک نہیں ہوتی، کیونکہ اس کی پیٹھ پر کسی طاقتور کی موٹی چھتری تنی ہوتی ہے۔
جب کوئی پڑھا لکھا، محنت کش نوجوان نوکری کے دروازے پر دستک دیتا ہے، تو اس کی ڈگری کو دیکھ کر منہ پھیر لیا جاتا ہے اور دروازہ اس کے لیے چوڑے منہ کھول دیا جاتا ہے جو کسی اونچے افسر کا سالا، بھتیجا یا سفارشی کارندہ ہوتا ہے۔ اس ظلم کا انجام کیا ہوتا ہے؟ مایوسی کا وہ گہرا کنواں جہاں سے یا تو بندہ ہمیشہ کے لیے پاگل ہو کر ٹوٹ جاتا ہے یا پھر وہ بھی اسی گندے نظام کا پاپی بن کر دوسروں کا حق مارنے لگ جاتا ہے۔
تلخ سچ تو یہ ہے کہ جہاں ایمانداری کو بیوقوفی اور سفارش کو ہنر سمجھ لیا جائے، وہاں کے اسپتالوں میں علاج نہیں موت ملتی ہے، وہاں کے پل اور سڑکیں کاغذی ثابت ہوتی ہیں، اور وہاں کی پوری تقدیر اندھیروں کے حوالے ہو جاتی ہے۔ قومیں ایسے کھوکھلے نظاموں اور کرپٹ ڈھانچوں سے کبھی نہیں ابھرتی ہیں، ان کا انجام صرف اور صرف بربادی ہوتا ہے۔
پر کیا کبھی ہم نے بیٹھ کر سوچا کہ اس تباہی اور زوال کی اصل جڑ کہاں ہے؟ ہماری اس بدترین گراوٹ کی وجہ صرف سفارش کا ناسور نہیں ہے، بلکہ ہمارا اپنا یہ اجتماعی روگ ہے کہ ہم بحیثیت قوم قانون کو پاؤں کے نیچے روندنا اور ایک دوسرے کا حق کھانا اپنا شیوہ بنا چکے ہیں۔ دنیا کا کوئی بھی ملک اٹھا کر دیکھ لو؛ جہاں قانون سب کے لیے برابر ہوتا ہے، جہاں وزیر ہو یا مزدور، سب کو قانون کے آگے سر جھکانا پڑتا ہے، وہی قومیں تاریخ میں زندہ رہتی ہیں۔ ہمارے ہاں الٹا حساب ہے؛ قانون صرف کمزور کے گلے کا پھندا ہے اور امیر و طاقتور کے لیے کھیل تماشا ہے۔
جب تک یہ قانون توڑنے، بدمعاشی اور خود غرضی کا مرض ہمارے خون میں دوڑتا رہے گا، حالات کبھی نہیں بدلیں گے۔ قانون کی عزت اور پاسداری ہی کسی ملک کی زندگی کی واحد ضمانت ہوتی ہے۔ افسوس کہ ہم نے قانون کی دھجیاں اڑانا اپنی شان سمجھ لیا ہے۔ سڑکوں پر ٹریفک کے اشاروں سے لے کر بڑے بڑے قومی اداروں کے ضابطوں تک، ہر جگہ قانون کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ اور قانون کے ساتھ ساتھ ہم نے اخلاق کو بھی زندہ دفن کر دیا ہے۔ ہم نے ایک دوسرے کی عزتِ نفس کا پاس رکھنا بالکل چھوڑ دیا ہے۔ ذرا سی بات پر اختلاف ہو تو ہم اسے جانی دشمن سمجھ لیتے ہیں، اپنے سے چھوٹوں کو ذلیل کرنا اور بڑوں کی توہین کرنا ہمارا روز کا معمول بن چکا ہے۔
کان کھول کر سن لو! ہم اس وقت تک ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھ سکتے جب تک ہم قانون کا احترام کرنے اور ایک دوسرے کے حقوق اور انسانیت کا سچا احترام کرنا نہیں سیکھ جاتے۔ جب تک معاشرے میں کمزور کی آواز کو دبایا جاتا رہے گا اور طاقتور کی ہر ناانصافی پر آنکھیں بند کی جاتی رہیں گی، اس دیس کی مٹی سے کبھی اچھی خوشبو نہیں آ سکتی۔
۔ اپنی محنت اور اپنے سچے اصولوں پر بھروسہ رکھو، کیونکہ سفارش کی چھتری چند دن کی ہوتی ہے، مگر اپنے بازوؤں کی طاقت، قانون کا مان اور اپنوں کی عزت سے جو مقام بنتا ہے، وہی اصل زندگی ہے۔
مزید پڑھیں




