پیر، 2 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

وہ کتاب جو کبھی لکھی ہی نہیں گئی،تحریر: ارم نواز

نقطہ نظر

ہر انسان کے سینے میں ایک خاموش اور گمنام قبر ہے، اور اس قبر کے تعویز کے نیچے ایک ایسی کتاب دفن ہے جو کبھی منظرِ عام پر نہیں آ سکی۔

یہ وہ انمول کتاب ہے جس کا دیباچہ ہم نے معصوم بچپن کے سنہرے اور بے فکر دنوں میں تحریر کیا تھا، جس کا پہلا باب جوانی کی پرجوش سوچوں نے مرتب کیا، اور جس کا آخری جملہ ہم زندگی کی آخری سانسوں تک سوچتے رہتے ہیں۔ یہ کتاب کسی پرنٹنگ پریس میں کبھی شائع نہیں ہوئی، نہ ہی اسے کبھی کسی قاری کی نظروں نے چھوا، مگر سچ پوچھیے تو یہی وہ واحد کتاب ہے جو حرف بحرف سو فیصد سچی، شفاف اور بے داغ ہے۔

میں اکثر تنہائی کی آغوش میں سوچتی ہوں کہ ہمارے عظیم اساتذہ—جنہوں نے اپنی پوری زندگی دوسروں کی لکھی ہوئی کتابیں پڑھاتے ہوئے گزار دی؛ جنہوں نے تختۂ سیاہ (Blackboard) پر دوسروں کے فلسفے، دوسروں کی تاریخ اور دوسروں کے پیچیدہ فارمولے لکھے... کیا ان کے اپنے وجود کے اندر ان کی اپنی ایک کتاب نہیں ہوگی؟ یقیناً ہوگی! وہ جب شام کے وقت خالی کلاس روم کی اداس خاموشی میں اکیلے بیٹھتے ہوں گے، تو ان کے دل کے نہاں خانے میں بھی اک ورق کھلم کھلا ہوا نظر آتا ہوگا۔ ایک ایسا ورق جو انہوں نے زمانے کے ڈر سے، نوکری کے تحفظ کی خاطر، یا محض اپنی خاندانی شرافت کا بھرم رکھنے کے لیے کبھی بلیک بورڈ پر تحریر نہیں کیا۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ ہم سب اندر سے ایک نامکمل اور ادھوری کتاب ہیں۔

کسی کی اس داخلی کتاب کا عنوان "میری ماں" ہے—وہ ماں جس کی گود میں اس نے زندگی کا پہلا حرف یعنی 'الف' بولنا سیکھا، مگر وہ زندگی بھر اس ماں کی عظمت اور بے لوث قربانیوں پر دو سطریں بھی نہ لکھ سکا۔ کسی کی کتاب کا عنوان "میرے باپ کی خاموش محنت" ہے۔ کسی کی کتاب کا عنوان "میرے وہ خواب جو پشاور کی بارش اور یخ بستہ ہواؤں میں بہہ گئے" ہے۔

اور ان سب کے درمیان ایک کتاب ایسی بھی ہے جس کا عنوان صرف "میں" ہے۔ یہ دنیا کی سب سے مشکل اور کٹھن ترین کتاب ہے۔ اسے رقم کرنا سب سے زیادہ تکلیف دہ اور روح کو زخمی کر دینے والا کام ہے، کیونکہ اس میں انسان کو کسی رعایت کے بغیر صرف اور صرف اپنا سچ رقم کرنا پڑتا ہے۔

ہم عام طور پر سمجھتے ہیں کہ کتاب تحریر کرنے کے لیے بہت اچھا اور قیمتی قلم چاہیے، نفیس کاغذ چاہیے، وافر فارغ وقت چاہیے، یا کسی بڑے اور معتبر اشاعتی ادارے کی سرپرستی درکار ہوتی ہے۔ حالانکہ تلخ سچ یہ ہے کہ کتاب لکھنے کے لیے ان میں سے کسی شے کی ضرورت نہیں ہوتی... صرف ایک ہی چیز درکار ہوتی ہے: سچ لکھنے کی ہمت! اور سچ بولنا یا لکھنا اس منافق دنیا کا سب سے دشوار ترین عمل ہے۔

ہم جھوٹ بڑی آسانی، بے باکی اور روانی سے لکھ لیتے ہیں۔ ہم سوشل میڈیا کے سٹیٹس پر "الحمدلہ! بہت خوش ہوں" لکھ کر دنیا کو دھوکا دے دیتے ہیں، حالانکہ ہم اندر سے مکمل طور پر ٹوٹ چکے ہوتے ہیں۔ ہم فیس بک پر بڑی بڑی دانشوری جھاڑتے ہیں، مگر جیسے ہی ہمیں اپنی سچی اور واقعی کتاب کا ایک جملہ تحریر کرنا پڑتا ہے، ہمارے ہاتھ کانپنے لگتے ہیں اور قلم کی روشنائی سوکھ جاتی ہے۔

آخر ایسا کیوں ہے؟ کیونکہ ہمیں خوف لاحق ہوتا ہے۔

اگر میں نے یہ سچ لکھ دیا کہ میں اپنے مقاصد میں ناکام ہوئی ہوں، تو یہ باضمیر لوگ کیا کہیں گے؟ اگر میں نے یہ اعتراف کر لیا کہ میں نے کسی سے بے پناہ اور سچی محبت کی تھی مگر وہ مجھے نہ مل سکا، تو میری خاندانی عزت و وقار کا کیا بنے گا؟ اگر میں نے یہ لکھ دیا کہ میں اندر سے ڈری ہوئی ہوں، اکیلی ہوں اور زندگی کی اس دوڑ سے تھک چکی ہوں، تو کیا دنیا اسے میری بزدلی اور کمزوری نہیں سمجھے گی؟

اسی غیر ضروری خوف اور سماجی دباؤ کے تحت میں، ارم نواز، بھی اپنی کتاب کو اپنے ہی اندر دفن کیے بیٹھی ہوں۔ اور مجھ جیسی ہزاروں ارم نواز اسی انجانے ڈر کی وجہ سے چپ کا روزہ رکھے ہوئے ہیں۔

مگر آج میں نے اپنے دل میں یہ پختہ عہد کیا ہے کہ اب بس... بہت ہو چکا!

جو کتاب انسان کے اندر دبی رہ جائے، وہ وقت کے ساتھ دل پر سسکت ہوا پتھر بن جاتی ہے۔ وہ راتوں کی نیندیں چھین لیتی ہے، وہ دعاؤں کے درمیان بھی ایک کچوکے کی طرح یاد آتی ہے۔ اور اس کے برعکس، جو لفظ کاغذ پر منتقل ہو جائے—چاہے وہ کتنا ہی ٹوٹا پھوٹا اور بے ربط کیوں نہ ہو—وہ روح کو آزاد کر دیتا ہے۔ وہ گناہ نہیں، بلکہ ایک خالص دعا بن جاتا ہے۔

اس لیے میرا آپ تمام پڑھنے والوں سے ایک مخلصانہ مشورہ ہے—خاص طور پر ان حیا دار لڑکیوں اور خواتین سے جو میری طرح دل میں لکھنے کی تڑپ تو رکھتی ہیں مگر معاشرے سے ڈرتی ہیں: اپنی وہ کتاب لکھ ڈالیں! اس فانی دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے اسے ہر حال میں رقم کر دیں۔ چاہے وہ صرف ایک صفحے کی ہی کیوں نہ ہو! چاہے اسے کوئی پڑھے یا نہ پڑھے! چاہے آپ اسے لکھ کر دریا کی لہروں کے سپرد کر دیں یا پشاور کی سرد ہواؤں میں جلا کر خاک کر دیں۔

کم از کم اپنے آخری وقت میں آپ یہ باوقار بات تو کہہ سکیں گی کہ: "میں نے اپنی کہانی کا سچ خود لکھا تھا، میں نے کسی دوسرے کو اپنی داستان غلط رقم کرنے کی اجازت نہیں دی!"

یہ کالم میری اسی کتاب کا پہلا خوبصورت ورق ہے۔ وہ کتاب جو کبھی لکھی ہی نہیں گئی تھی... خدا کے فضل سے آج سے لکھی جا رہی ہے!