پیر، 2 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

والدین کے حقوق اور ہماری معاشرتی ذمہ داریاں،تحریر: سائرہ علی


والدین کی خدمت، محبت اور احترام محض اخلاقی فریضہ نہیں بلکہ ایمان، تہذیب اور انسانی کردار کی پہچان ہے

انسانی زندگی میں بعض رشتے ایسے ہوتے ہیں جن کی محبت کسی غرض، مفاد یا توقع کی محتاج نہیں ہوتی۔ یہ رشتے وقت کے ساتھ کمزور نہیں پڑتے بلکہ زندگی کے ہر بدلتے موسم میں اپنی محبت، خلوص اور قربانیوں کی خوشبو بکھیرتے رہتے ہیں۔ ان بے لوث رشتوں میں والدین کا مقام سب سے بلند اور منفرد ہے۔ والدین وہ عظیم ہستیاں ہیں جن کی دعاؤں کے سائے میں اولاد پروان چڑھتی ہے، جن کی قربانیوں سے زندگی کے راستے ہموار ہوتے ہیں اور جن کی محبت اولاد کی کامیابیوں میں اپنی خوشی تلاش کرتی ہے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ آج کا انسان ترقی، مصروفیت، معاشی دوڑ اور دنیاوی کامیابیوں کے حصول میں اس قدر الجھ گیا ہے کہ بعض اوقات اسے اپنے ہی والدین کی خاموش نگاہوں میں چھپی ہوئی امیدیں دکھائی نہیں دیتیں۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، جو انسان کو صرف عبادات ہی نہیں سکھاتا بلکہ زندگی کے تمام رشتوں کے حقوق، ذمہ داریوں اور آداب سے بھی آگاہ کرتا ہے۔ اسلام میں والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ قرآنِ مجید نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کے حکم کے ساتھ والدین کے ساتھ نیکی کا حکم بیان کرکے ان کے مقام و مرتبے کو واضح فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا

ترجمہ: "اور تمہارے رب نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔"(سورۃ الإسراء، آیت 23)

یہ آیت محض ایک مذہبی حکم نہیں بلکہ انسانی معاشرت کی بنیاد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے فوراً بعد والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا ذکر کرکے واضح کردیا کہ والدین کی عزت، خدمت اور اطاعت انسانی کردار کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔ اسی آیت میں والدین کے بڑھاپے کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اُف تک نہ کہو، نہ انہیں جھڑکو بلکہ ان سے ادب اور احترام کے ساتھ گفتگو کرو۔

غور کیجیے! جس مذہب نے والدین کے سامنے معمولی ناگواری کے اظہار تک سے منع کردیا ہو، وہ ان کی دل آزاری، بے توقیری، تحقیر اور نافرمانی کو کس قدر ناپسند کرتا ہوگا۔ آج ہمارے معاشرے میں یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بعض گھروں میں والدین اپنی ہی اولاد کے درمیان اجنبیت محسوس کرتے ہیں۔ جن ہاتھوں نے کبھی بچوں کو انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا تھا، بڑھاپے میں وہی ہاتھ سہارا تلاش کرتے ہیں۔ جن لبوں نے راتوں کو جاگ کر بچوں کے لیے دعائیں مانگی تھیں، وہی لب کبھی اپنی اولاد سے چند محبت بھرے الفاظ سننے کے منتظر رہتے ہیں۔

زندگی کا المیہ یہ نہیں کہ والدین بوڑھے ہوجاتے ہیں، بلکہ اصل المیہ یہ ہے کہ بعض اولاد اپنے والدین کی بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ ان کے لیے اپنے وقت، محبت اور برداشت میں کمی کردیتی ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے والدین کے احسانات کو یاد دلاتے ہوئے فرمایا:

وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ

ترجمہ: "اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے بارے میں تاکید کی، اس کی ماں نے اسے کمزوری پر کمزوری برداشت کرکے پیٹ میں اٹھائے رکھا۔"

(سورۃ لقمان، آیت 14)

یہ آیت ماں کی عظیم قربانیوں کی یاد دہانی ہے۔ ایک ماں اپنی راحت، نیند، صحت اور خواہشات کو اولاد کی خوشی پر قربان کردیتی ہے۔ حمل کی تکالیف، ولادت کی اذیت اور پرورش کی مسلسل مشقت اس محبت کی ایسی داستان ہے جس کا مکمل حق کوئی اولاد ادا نہیں کرسکتی۔ اسی طرح باپ کی محنت، جدوجہد، ذمہ داریوں کا بوجھ اور خاندان کے لیے مسلسل تگ و دو بھی ایسی قربانیاں ہیں جنہیں اکثر اولاد اس وقت سمجھتی ہے جب خود زندگی کی مشکلات کا سامنا کرتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی والدین کے حقوق کی اہمیت کو نہایت واضح انداز میں بیان فرمایا۔ ایک شخص نے آپ ﷺ سے دریافت کیا کہ میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:

"تمہاری ماں۔"اس نے پوچھا، پھر کون؟ فرمایا: "تمہاری ماں۔" اس نے پھر پوچھا، پھر کون؟ فرمایا: "تمہاری ماں۔"اس نے پوچھا، پھر کون فرمایا: "تمہارا باپ۔"

(صحیح بخاری حدیث نمبر 5971، صحیح مسلم حدیث نمبر 2548) یہ حدیث مبارک ماں کے بلند مقام اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی عظمت کو نمایاں کرتی ہے۔ اس میں باپ کے حق کی اہمیت بھی پوری طرح واضح ہے۔ اسلام نے والدین کی محبت کو محض جذباتی وابستگی نہیں رہنے دیا بلکہ اسے عملی ذمہ داری اور عبادت کے قریب تر ایک نیک عمل کا درجہ عطا کیا ہے۔ والدین کے حقوق صرف ان کی زندگی تک محدود نہیں۔ ان کی وفات کے بعد بھی اولاد پر کچھ ذمہ داریاں باقی رہتی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب انسان فوت ہوجاتا ہے تو اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں، سوائے تین چیزوں کے: صدقہ جاریہ ایسا علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے اور نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔(صحیح مسلم حدیث نمبر 1631) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نیک اولاد کی دعائیں والدین کے لیے ایک عظیم تحفہ ہیں۔ لہٰذا والدین کی وفات کے بعد ان کے لیے دعائے مغفرت کرنا، ان کے جائز وعدوں کو پورا کرنا، ان کے عزیزوں سے حسنِ سلوک رکھنا اور ان کی نیک یادوں کو زندہ رکھنا اولاد کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ والدین کے حقوق کا ذکر کرتے ہوئے ایک اہم سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ہماری معاشرتی ذمہ داریاں کیا ہیں؟ کیا والدین کی خدمت صرف ان کے بچوں کا معاملہ ہے یا پورے معاشرے کی بھی اس حوالے سے کوئی ذمہ داری ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ایک مہذب معاشرہ وہی ہوتا ہے جو اپنے بزرگوں کو بوجھ نہیں بلکہ اپنی تاریخ، تجربے اور تہذیبی ورثے کا امین سمجھتا ہے۔ والدین کی عزت صرف گھروں کے اندر نہیں بلکہ معاشرتی رویوں میں بھی نظر آنی چاہیے۔ ہمیں اپنے بچوں کی تربیت اس انداز سے کرنی ہوگی کہ وہ بزرگوں کے احترام کو محض ایک نصیحت نہیں بلکہ اپنی شخصیت کا حصہ سمجھیں۔ گھر میں اگر بچے اپنے والدین کو اپنے والدین کے ساتھ محبت، ادب اور احترام سے پیش آتے دیکھیں گے تو ان کے دلوں میں بھی یہی اقدار پروان چڑھیں گی۔ والدین کی خدمت کا مطلب صرف انہیں کھانا، لباس اور رہائش فراہم کرنا نہیں بلکہ ان کی جذباتی ضروریات کو سمجھنا بھی ہے۔ ان کے ساتھ وقت گزارنا، ان کی بات توجہ سے سننا، ان کی بیماری میں تیمارداری کرنا، ان کے احساسات کا احترام کرنا اور انہیں تنہائی کا شکار نہ ہونے دینا بھی حسنِ سلوک کی اہم صورتیں ہیں۔ بعض اوقات والدین کو مہنگے تحائف کی ضرورت نہیں ہوتی، انہیں صرف اولاد کی موجودگی، چند محبت بھرے جملوں اور خلوص سے بھرپور توجہ درکار ہوتی ہے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ والدین کی اطاعت کی ایک حد شریعت نے مقرر کی ہے۔ اگر والدین کسی ایسی بات کا حکم دیں جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر مشتمل ہو تو اس معاملے میں ان کی اطاعت نہیں کی جائے گی، لیکن اس کے باوجود ان کے ساتھ حسنِ سلوک اور احترام کا رویہ برقرار رکھنا لازم ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے: وَإِن جَاهَدَاكَ عَلَىٰ أَن تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا

ترجمہ: "اور اگر وہ دونوں تم پر زور ڈالیں کہ تم میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک ٹھہراؤ جس کا تمہیں علم نہیں، تو ان کی بات نہ مانو، لیکن دنیا میں ان کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو۔"(سورۃ لقمان، آیت 15)

یہ اسلامی تعلیمات کا حسن ہے کہ نافرمانی کے معاملے میں بھی والدین کی بے ادبی کی اجازت نہیں دی گئی۔ اختلافِ رائے، ناراضی یا کسی شرعی حکم سے عدم اتفاق کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ انسان اپنے والدین کی عزت کو فراموش کردے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم والدین کے حقوق کو صرف تقریروں، تحریروں اور رسمی تقریبات تک محدود نہ رکھیں بلکہ اپنی عملی زندگی میں ان کا مظاہرہ کریں۔ سوشل میڈیا پر والدین سے محبت کے خوب صورت جملے لکھنا آسان ہے، مگر ان کے پاس بیٹھ کر ان کی بات سننا، ان کی ضروریات پوری کرنا اور ان کی ناراضی کو محبت سے دور کرنا اصل امتحان ہے۔ والدین کی خدمت کا حقیقی معیار ہمارے الفاظ نہیں بلکہ ہمارا کردار ہے۔ ہمیں اپنے معاشرے میں ایسے مثبت رویوں کو فروغ دینا ہوگا جہاں بزرگوں کی تنہائی کا احساس کیا جائے، مستحق والدین کی مدد کی جائے، یتیم بچوں کی تربیت میں تعاون کیا جائے اور خاندانوں کے اندر محبت، برداشت اور باہمی احترام کی فضا قائم کی جائے۔ جو معاشرہ اپنے بزرگوں کی قدر کرنا چھوڑ دیتا ہے، وہ دراصل اپنی اخلاقی بنیادوں کو کمزور کردیتا ہے۔ ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ والدین بھی اولاد کے ساتھ عدل، شفقت اور محبت کا رویہ اختیار کریں۔ بچوں کے درمیان بلاوجہ امتیاز، مسلسل تنقید، سخت رویہ اور ناانصافی خاندانی تعلقات کو متاثر کرتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اولاد کے درمیان انصاف کی تاکید فرمائی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

اتَّقُوا اللَّهَ وَاعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ

ترجمہ: "اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔"

(صحیح بخاری حدیث نمبر 2587؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1623) اس تعلیم سے واضح ہوتا ہے کہ مضبوط خاندان صرف اولاد کی فرمانبرداری سے نہیں بلکہ والدین کی شفقت، عدل اور باہمی احترام سے بھی تشکیل پاتا ہے۔ بالآخر ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ والدین زندگی کا وہ قیمتی سرمایہ ہیں جن کی موجودگی میں ان کی قدر کرنا ہماری سعادت اور ان کی جدائی کے بعد ان کے لیے دعا کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا۔ آج جن ہاتھوں کو ہماری ضرورت ہے، کل شاید ہم خود کسی کے سہارے کے منتظر ہوں۔ زندگی ہمیں بار بار یہ موقع نہیں دیتی کہ ہم اپنے بچھڑے ہوئے رشتوں کو دوبارہ گلے لگا سکیں۔ آئیے! عہد کریں کہ والدین کی عزت کو اپنی زندگی کا اصول بنائیں گے، ان کی جائز ضروریات کا خیال رکھیں گے، ان کے ساتھ نرم لہجے میں گفتگو کریں گے، ان کی دعاؤں کو اپنی کامیابی کا سرمایہ سمجھیں گے اور اپنی آنے والی نسلوں کو بھی احترامِ والدین کی تربیت دیں گے۔ یاد رکھیے! والدین کی خدمت کوئی احسان نہیں جس کا بدلہ لیا جائے، بلکہ یہ ایک ایسا مقدس فریضہ ہے جسے محبت، عاجزی اور خلوص کے ساتھ ادا کیا جاتا ہے۔ جس گھر میں والدین کی دعائیں، اولاد کا ادب اور باہمی محبت موجود ہو، وہاں زندگی کی مشکلات بھی امید کا راستہ تلاش کرلیتی ہیں۔ والدین کی قدر کیجیے، کیونکہ ان کی محبت کا نعم البدل دنیا کی کوئی دولت، کوئی منصب اور کوئی کامیابی نہیں ہوسکتی۔