پیر، 2 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

زن، زر اور زمین، تحریر: رئیس عنایت اللہ چاچڑ

نقطہ نظر
raees anayat

انسانی تاریخ کے اوراق پلٹیں تو ایک حقیقت بار بار سامنے آتی ہے کہ دنیا میں بہت سے جھگڑوں، دشمنیوں، سازشوں اور خون ریزیوں کے پیچھے تین چیزوں کا عمل دخل رہا ہے: زن، زر اور زمین۔ یہ تینوں انسانی زندگی سے جڑی ایسی حقیقتیں ہیں جن کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، مگر جب انسان ان کی محبت میں اعتدال، اخلاق اور انسانیت کی حدود بھول جاتا ہے تو یہی نعمتیں آزمائش بن جاتی ہیں۔ زن، زر اور زمین بظاہر تین الگ موضوعات ہیں، لیکن ان کے گرد گھومتی کہانیاں اکثر ایک جیسی ہوتی ہیں۔ کہیں رشتے دولت کی خاطر قربان کر دیے جاتے ہیں، کہیں زمین کے ایک ٹکڑے پر برسوں کی محبت دشمنی میں بدل جاتی ہے اور کہیں عورت کو عزت و احترام دینے کے بجائے انا، ضد اور ملکیت کی جنگ کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔ افسوس کہ انسان کبھی کبھی اپنی خواہشات کا اس قدر اسیر ہو جاتا ہے کہ اسے اپنے ہی عزیزوں کے چہرے اجنبی دکھائی دینے لگتے ہیں۔ زن معاشرے کا ایک محترم اور بنیادی کردار ہے۔ عورت ماں، بہن، بیٹی اور شریکِ حیات کے روپ میں محبت، قربانی اور خلوص کا پیکر ہے۔ وہ گھر کی رونق ہی نہیں بلکہ نسلوں کی تربیت اور معاشرتی استحکام کی بنیاد بھی ہے۔ مگر جب عورت کو انسان سمجھنے کے بجائے انا کی تسکین، ضد یا مقابلے کا ذریعہ بنا لیا جائے تو رشتوں کی خوبصورتی ماند پڑ جاتی ہے۔ عورت کوئی جاگیر نہیں کہ اس پر ملکیت جتائی جائے، بلکہ وہ عزت، محبت، اعتماد اور اپنے جائز حقوق کی مستحق ہے۔ معاشرے کی اصل خوبصورتی اسی میں ہے کہ عورت کو اس کا مقام دیا جائے اور رشتوں کو احترام کے ساتھ نبھایا جائے۔ زر یعنی دولت بھی زندگی کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے بغیر انسان کی بنیادی ضروریات پوری کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ دولت سے گھر بنتے ہیں، کاروبار چلتے ہیں، بچوں کی تعلیم اور خاندان کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ لیکن دولت جب ضرورت سے بڑھ کر زندگی کا مقصد بن جائے تو انسان کے اندر کا سکون چھین لیتی ہے۔ دولت کی ہوس میں بھائی بھائی کا دشمن، دوست دوست سے بے وفا اور قریبی رشتے دار ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہو جاتے ہیں۔ چند سکوں کی خاطر ضمیر کا سودا کرنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ کفن کی کوئی جیب نہیں ہوتی اور انسان اپنے ساتھ اپنی دولت نہیں بلکہ اپنے اعمال لے کر جاتا ہے۔ اصل امیری بینک بیلنس میں نہیں بلکہ کردار، قناعت اور دل کے اطمینان میں پوشیدہ ہے۔ زمین انسان کے لیے صرف مٹی کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ اس کی پہچان، روزگار، رہائش اور مستقبل کا سہارا بھی ہوتی ہے۔ کسان کے لیے زمین ماں جیسی ہے، جو محنت کے بدلے رزق عطا کرتی ہے۔ مگر جب یہی زمین لالچ اور وراثتی تنازعات کی وجہ بن جائے تو خاندانی محبتیں نفرتوں میں تبدیل ہونے لگتی ہیں۔ کہیں ایک مرلے کے لیے مقدمے نسلوں تک چلتے ہیں، کہیں بھائی اپنے ہی بھائی کے حق پر قبضہ کر لیتا ہے اور کہیں طاقت ور کمزور کی زمین ہتھیانے کو اپنی کامیابی سمجھتا ہے۔ حالانکہ زمین کسی انسان کے ساتھ ہمیشہ رہنے والی نہیں؛ آج ہم اس کے مالک ہیں، کل اسی مٹی کا حصہ بن جانا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زن، زر اور زمین بذاتِ خود برائی نہیں، برائی انسان کی نیت، لالچ، خودغرضی اور ناانصافی میں ہے۔ اگر عورت کو عزت، دولت کو امانت اور زمین کو ذمہ داری سمجھا جائے تو یہی تینوں انسانی زندگی میں آسانی اور خوش حالی کا سبب بن سکتی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ وراثت میں بہنوں اور بیٹیوں کو ان کا جائز حق دیا جائے، دولت کمائی جائے تو حلال طریقے سے، اور زمین کے معاملات طے کیے جائیں تو انصاف اور قانون کے مطابق۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا کی ہر چیز عارضی ہے۔ نہ حسن ہمیشہ رہتا ہے، نہ دولت کا غرور قائم رہتا ہے اور نہ زمین کی ملکیت انسان کو موت سے بچا سکتی ہے۔ انسان کی اصل پہچان اس کا اخلاق، اس کی دیانت اور دوسروں کے حقوق کا احترام ہے۔ آئیے! زن، زر اور زمین کے نام پر نفرتوں کی دیواریں کھڑی کرنے کے بجائے محبت، انصاف اور برداشت کے چراغ روشن کریں۔ کیونکہ زندگی کا اصل حسن چیزوں کو حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ انہیں حاصل کرنے کے لیے کسی کا حق نہ مارنے میں ہے۔ یاد رکھیے! دولت ختم ہو سکتی ہے، زمین ہاتھ سے نکل سکتی ہے اور وقت کے ساتھ ظاہری حسن بھی ڈھل جاتا ہے، مگر کسی کے دل میں چھوڑی ہوئی محبت، عزت اور اچھے کردار کی خوشبو ہمیشہ باقی رہتی ہے۔