ایثار کا مطلب ہے کہ اپنی ضرورتوں پر دوسروں کی ضرورت کو ترجیح دینا۔
اس تعریف کو سوچیں تو ندامت سے نظر جھک جاتی ہے کہ کہنے کو ہم مسلمان ہیں۔ اور میرے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جو تعلیمات ہمیں دی تھیں۔ وہ آج اکثریت بھول چکی ہے. اسی بھول کی وجہ سے آج ہمارا معاشرہ بہت سے مسائل کا شکار ہے۔احساس، اخوت و رواداری، عزت و محبت، مخلصی و وفاداری، شرم و حیا، وعدے کی پاسداری، راست گوئی جیسی صفات کا فقدان ہے تو ایثار و قربانی کا جذبہ کیونکر ہوسکتا ہے۔؟ ان تمام جذبوں کی جڑ ایثار ہی تو ہے۔ایثار ہوگا تو یہ تمام جذبے جنم لیں گے ۔زندگی کے ہر قدم پہ ایثار کی کمی نظر آ جاتی ہے۔بازار جائیں ، بس اسٹاپ پر کھڑے ہوں یا ٹریفک کے ہجوم میں شامل ہوں،کھیل کے میدان میں ہوں یا کسی بھی چھوٹی سی دوکان پر کچھ لینے جائیں۔ تو ہر کوئی آگے نکل جانے کی کوشش کے ساتھ دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش میں بھی ہے ۔ایثار کا جذبہ تو ناپید ہو چکا ہے اور یہ کمی ہمارے معاشرتی مسائل میں اضافہ کر رہی ہے۔ نفسانفسی کے اس دور میں دنیا مادہ پرست ہو گئ ہے۔خواہشات کی تکمیل کے لیے نیکی بدی کے فرق کو بھی بھلا دیا ہے۔ اپنا معیار زندگی بلند کرنے کی دوڑ میں گم ہوکر دوسروں کے خواب پاوں تلے کچلنے کا احساس تک نہیں ہوتا ہے۔ انسان جو اشرف المخلوقات تھا۔ آج ایک درندہ بن چکا ہے کہ اب جنگل میں رہتے ہوئے درندے سے ڈر نہیں لگتا۔ ہاں دنیا میں انسان نما درندے سے ڈر لگتا ہے۔ جس کےلیےقتل وغارت اور دنگا و فساد بہت معمولی سی بات ہے ۔اس ملک میں ہر چیز مہنگی ہے۔بس سستی ہے تو انسانی جان۔۔۔ٹریگر دباتےہوئے دل تو کیا اب انگلی تک نہیں کانپتی۔
جذبہ ایثار تو اپنے پرائے کے فرق سے آزاد ہوتا ہے۔۔مگر افسوس صد افسوس کہ پرائے تو کیا اپنوں کے لئے بھی یہ جذبہ نہیں پایا جاتا ہے ۔اگر کوئی کام کرنا بھی ہے تو اپنے مفاد کی خاطر کیا جائے۔تعلق اب مطلب کےلیے بنا ئے جاتے ہیں ۔مطلب ختم ،تعلق ختم۔اس مفاد پرستی نے رشتوں کا مان اور بھرم کھو دیا ہے۔اپنوں میں دوری آ گئ ہے۔غیر کو کیا اپنا بنانا۔
ایثار کا مطلب صرف یہ نہیں کہ کھانے پینے،پہننے اوڑھنے میں دوسروں کو ترجیح دی جائے ۔بے شک غربت اور مہنگائی کا عفریت لوگوں کو کھا رہا ہے۔۔۔لیکن بہت سے مواقع اور موقع محل ہیں ۔جہاں پر دوسروں کو ترجیح دینا بھی ایثار ہی کہلائے گا ۔کیونکہ یہ ایک ایسی خوبی ہے۔ جس کا استعمال تمام شعبہ ہائے زندگی میں کیا جا سکتا ہے۔۔آغاز تو کریں۔۔جیسے گاڑی میں ہیں۔رفتار مناسب رکھیں ۔کوئی بزرگ، بچہ یا خاتون سڑک کے کنارے کھڑی نظر آئے تو رک کر یا آہستہ رفتار کر کے اسے سڑک پار کرنے دیں ۔ٹرین یا بس کا ٹکٹ لینا ہو تو قطار بنائیں ۔بزرگوں اور بیماروں کو آگے جگہ دیں۔بس میں ہوں تو اپنی سیٹ پر کسی بزرگ یا بیمار کو جگہ دیں۔کسی کو سامان اٹھانے میں دقت پیش آتی ہے تو اس کی مدد کریں ۔کھانا کھانے کے لئیے جائیں ۔کوئی ساتھ ہو تو اسے پہل کرنے دیں۔ روزمرہ معاملات میں تحمل اور برداشت کے ساتھ درگذر کی عادت بھی اپنایئں تو زندگی کے بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں ۔پیارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی جن تعلیمات کو مسلمان بھول چکے ہیں۔غیر مسلم اس پر عمل کرکے آج ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہورہے ہیں ۔۔۔۔ترقی کی اس دوڑ میں شامل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے نبی کی تعلیمات پر عمل کریں ۔
مزید پڑھیں






