پیر، 2 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

احساس کمتری،تحریر:ردا امانت علی

نقطہ نظر

احساس کمتری زندگی میں پیش آنے والے مختلف حالات و واقعات سے تعلق رکھتی ہے۔

بہت سے ایسے واقعات جو زندگی میں پیش آئے ہوئے ہوتے ہیں مثلاً جسمانی و ذہنی کمزوری، مالی نقصان ، والدین کے درمیان لڑائی جھگڑا یا والدین کی علیحدگی جس میں ماں باپ ایک دوسرے سے جدا ہو جاتے ہیں۔جس کی وجہ سے وہ بچوں پر توجہ نہیں دے پاتے اور ایسے بچے چھوٹی سی عمر میں ہی ڈپریشن اور احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔

وہ بچپن سے ہی دوسرے بچوں کو اپنے والدین کے ساتھ خوش دیکھ کر اندر ہی اندر جلتے ہیں اور نفرت کرتے ہیں کیونکہ وہ خود اس چیز سے محروم ہوتے ہیں۔ان میں احساس کمتری اس طرح پروان چڑھتی ہے کہ ان کو خود بھی سمجھ نہیں آرہا ہوتا کہ یہ لوگ احساس کمتری کا شکار ہو رہے ہیں ۔احساس کمتری والا شخص دوسروں کو خوش دیکھ نہیں سکتا، حسد کرے گا، نفرت کرے گا اور ہر اس انسان کے ساتھ بداخلاقی سے پیش آئے گا۔ جس کو خوش دیکھ کر اس کے دماغ و دل میں یہ بات آئی ہو کہ یہ چیز انسان جس کی وجہ سے خوش ہے ،اس کو اس سے دور کر کہ اس کو میں حاصل کر لوں ۔اگلا انسان ان کے لئے جس قدر بھی اچھائی کر لے ان کو اپنا کھانا کھلا کر خود بھوکا رہ لے پر احساس کمتری میں مبتلا انسان صرف اس سے نہیں بلکہ اس کی ہر اٌس اچھائی سے حسد کرے گا جس کی تعریف لوگ اس کی پیٹھ پیچھے کرتے ہوں گے۔

احساس کمتری میں مبتلا انسان ہر اک کوشش کرے گا کہ لوگ اس کی تعریف کریں کیونکہ اس میں اس چیز کی کمی شدت سے ہو گی وہ کوئی کام جس قدر جوش سے کرے گا کہ لوگ اس کی تعریف کریں اسی شدت سے وہ اس کام سے اُکتا جائے گا اور بہت زیادہ بلاوجہ باتیں کرے گا اور دکھاوا کرے گا کہ جیسے وہ بہت خوش ہے پر حقیقت میں وہ اپنے اندر کی کمی کو لوگوں سے چھپانے کی کوشش کر رہا ہو گا۔ ایسے لوگ نہ صرف خود کے لئے بلکہ ہر اس انسان کے لئے خطرناک ہیں جو ان کے قریب ہوتے ہیں ۔*احساس کمتری میں مبتلا انسان دوسروں کی خوشیوں کو اس طرح اپنی حسد اور نفرت بھری نظروں سے دیکھتا ہے اور اسی کوشش میں لگا ہوتا ہے کہ یہ اس کی خوشی کو غم میں بدل دے، کیونکہ اس کو خود پر اعتماد نہیں ہوتا کہ وہ یہ چیز حاصل کر سکتا ہے وہ محنت سے حاصل کرنے کی بجائے چھیننا اہم سمجھتے ہیں کیونکہ ایسا انسان جس نے بچپن سے ہی ایک ذہنی دباؤ میں گزارا ہو ایک ایک چیز کے لئے محروم رہا ہو ایسا انسان محنت سے حاصل کرنے کی بجائے دوسروں سے ان کی چیزیں خوشیاں چھیننے کے لئے دن رات ایک کر دے گا کہ اس کی خوشی کو غمی میں دیکھ کر احساس کمتری انسان کو دلی سکون حاصل ہوتا ہے اور خواہش رکھتا ہے کہ سب اس کی تعریف کریں کیونکہ ان کو اپنا چھوٹے سے چھوٹا کام کر کہ لوگوں سے اپنی بے تحاشا تعریفیں کی جائیں ۔

ایسے لوگ ہماری ذاتی زندگی میں ہمارے آس پاس ہوتے ہیں۔ جو ہم سے حسد کرتے اور ہمیں کامیاب کے راستوں کی طرف گامزن ہوتے دیکھ کر تعریف کرنے کی بجائے تنقید کرتے ہیں کیونکہ وہ ہماری برابری نہیں کر سکتے اور آپ کی خوشی کو چھین کر فتح حاصل کرنا چاہتے ہیں۔



میری سب قارئین سے التجا ہے کہ اپنی کامیابی اور خوشیوں کو ان لوگوں سے بانٹیں جو دل سے خوش ہوں اور دعائیں دیں نا کہ آپ کی کامیابی اور خوشیوں کو آپ سے دور کر دیں