گوردوارہ تھم صاحب جمبر کلاں ،تحریر:نادر فہمی
نقطہ نظرپنجاب کی تاریخ، سکھ روایات اور مذہبی رواداری کی ایک قدیم یادگار

پنجاب کی سرزمین اپنی ہزاروں سالہ تاریخ، تہذیبی روایات اور مذہبی ہم آہنگی کے حوالے سے ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ اس دھرتی نے مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں کو اپنے دامن میں جگہ دی ہے۔ یہاں موجود تاریخی عمارتیں صرف ماضی کی یادگاریں نہیں بلکہ ہماری تہذیبی شناخت اور اجتماعی تاریخ کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ ضلع قصور کے علاقے جمبر کلاں میں واقع گوردوارہ تھم صاحب بھی ایسی ہی ایک تاریخی یادگار ہے جو اپنے اندر سکھ مذہب کی روایات اور پنجاب کی قدیم تاریخ سموئے ہوئے ہے۔
گوردوارہ تھم صاحب کو سکھ مذہب کے پانچویں گرو گرو ارجن دیو جی سے منسوب کیا جاتا ہے۔ سکھ روایات کے مطابق گرو ارجن دیو جی اپنے سفر کے دوران جمبر کلاں تشریف لائے تھے۔ اس مقام کے حوالے سے ایک روایت یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ یہاں پانچ مقامی افراد کیدارا، سمڈھو، مکھنڈا، تلسی اور لالو نے گرو ارجن دیو جی کی تعلیمات سے متاثر ہو کر سکھ مذہب اختیار کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مقام سکھ برادری کے لیے تاریخی اور مذہبی اہمیت رکھتا ہے۔
گوردوارہ تھم صاحب کی عمارت اپنے منفرد طرز تعمیر اور تاریخی حیثیت کے باعث خصوصی توجہ کی مستحق ہے۔ اس عمارت کے ساتھ وسیع رقبے کی زمین منسلک ہونے کے تاریخی حوالے بھی ملتے ہیں۔ اس گوردوارے کی تعمیراتی ساخت ماضی کے فن تعمیر اور اس دور کی مذہبی عمارتوں کی جھلک پیش کرتی ہے۔ یہ مقام اس بات کی یاد دہانی بھی کرواتا ہے کہ پنجاب کی سرزمین پر مختلف مذاہب کے ماننے والوں نے اپنی عبادت گاہیں تعمیر کیں اور اپنے عقائد کے مطابق زندگی گزاری۔
1947ء میں برصغیر کی تقسیم نے پورے خطے کی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ لاکھوں خاندانوں کو ہجرت کرنا پڑی، بستیاں اجڑ گئیں اور بہت سی تاریخی عمارتیں اپنی رونقوں سے محروم ہوگئیں۔ گوردوارہ تھم صاحب کی تاریخ کا ایک افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ تقسیم ہند کے وقت اس کی تعمیر مکمل نہیں ہو سکی تھی۔ حالات کی تبدیلی اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ تاریخی عمارت بھی عدم توجہی اور خستہ حالی کا شکار ہوتی چلی گئی۔
آج جب ہم اس تاریخی مقام کی طرف دیکھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہماری سرزمین پر موجود ایسے ورثے کو محفوظ کرنا کتنا ضروری ہے۔ یہ عمارت صرف سکھ برادری کی تاریخ سے تعلق نہیں رکھتی بلکہ پاکستان کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کا بھی حصہ ہے۔ کسی بھی ملک کی پہچان صرف اس کی جدید عمارتوں، سڑکوں اور ترقیاتی منصوبوں سے نہیں ہوتی بلکہ اس کی اصل شناخت اس کے تاریخی آثار، تہذیبی روایات اور ثقافتی ورثے سے بھی قائم ہوتی ہے۔
پاکستان میں موجود سکھ مذہب کی تاریخی عبادت گاہیں دنیا بھر کی سکھ برادری کے لیے خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔ پاکستان میں کرتارپور، ننکانہ صاحب، پنجہ صاحب اور دیگر تاریخی مقامات کے ساتھ گوردوارہ تھم صاحب جیسے مقامات بھی توجہ کے مستحق ہیں۔ ایسے مقامات مذہبی سیاحت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ دنیا کو پاکستان کے تاریخی اور ثقافتی تنوع سے روشناس کروانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پنجاب، محکمہ آثار قدیمہ اور متعلقہ ثقافتی ادارے گوردوارہ تھم صاحب کی تاریخی حیثیت کا باقاعدہ جائزہ لیں۔ اس کی عمارت کو مزید نقصان سے بچانے، تاریخی ریکارڈ محفوظ کرنے اور مناسب بحالی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ اس کے علاوہ تعلیمی اداروں اور مقامی سطح پر بھی اس مقام کے حوالے سے آگاہی پیدا کی جائے تاکہ نئی نسل اپنے علاقے کی تاریخ سے واقف ہو سکے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ ایسے تاریخی مقامات کو مذہبی رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے استعمال کیا جائے۔ دنیا میں وہی قومیں اپنی شناخت برقرار رکھتی ہیں جو اپنے ماضی کی قدر کرتی ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے اپنے تاریخی ورثے کو محفوظ بناتی ہیں۔
گوردوارہ تھم صاحب جمبر کلاں ضلع قصور کی ایک ایسی تاریخی نشانی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور اس کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ یہ مقام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تاریخ کسی ایک مذہب یا قوم کی ملکیت نہیں ہوتی بلکہ تاریخی ورثہ پوری انسانیت کا مشترکہ سرمایہ ہوتا ہے۔
میری نظر میں گوردوارہ تھم صاحب کی حفاظت صرف ایک قدیم عمارت کی حفاظت نہیں بلکہ پنجاب کی تاریخ، ثقافت اور مذہبی رواداری کے ایک روشن باب کو محفوظ بنانے کی کوشش ہے۔
مزید پڑھیں




