افغان طالبان حکومت دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کے خاتمے کی ذمہ داری پوری کرے،پاکستان

پاکستان نے افغان طالبان کے ترجمان کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاک افغان تعلقات میں کشیدگی کی بنیادی وجہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف جاری دہشت گردی ہے۔
وزارت اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان حکومت کو دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں کی سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا، کابل دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کے خاتمے کی ذمہ داری پوری کرے، بصورت دیگر پاکستان کو اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے عالمی قوانین کے مطابق تمام ضروری اقدامات کا حق حاصل ہے۔
وزارت اطلاعات کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ پاک افغان تعلقات میں کشیدگی کی بنیادی وجہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف جاری دہشت گردی ہےلیکن طالبان قیادت اس اہم مسئلے کا حل تلاش کرنے کے بجائے ذمہ داری اسلام آباد کی پالیسیوں پر ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔
https://x.com/MoIB_Official/status/2116584887558062406?a=aIpA3uxengHhOIRE13c&s=20
وزارت اطلاعات کے مطابق افغان طالبان قیادت مسلسل اسلام آباد کی پالیسیوں کو پاک افغان تعلقات میں خرابی کا ذمہ دار قرار دے رہی ہے، لیکن کابل اس بنیادی مسئلے کو نظرانداز کررہا ہے جو دونوں ممالک کے تعلقات میں زہر گھول رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشتگردی اور دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے میں افغان طالبان حکومت کی مسلسل ناکامی ہی دوطرفہ تعلقات کی بہتری میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی سرحدوں کے پار موجود ایسے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو برداشت نہیں کرے گا جو اس کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں، نہ ہی اپنے شہریوں کو افغانستان سے جنم لینے والی دہشتگردی کا نشانہ بننے دے گا۔
بیان میں کابل کو خبردار کیا گیا ہے کہ ان خطرات سے نمٹنے کی بنیادی ذمہ داری افغان طالبان حکومت پر عائد ہوتی ہے اور اسے اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکنا ہوگا پاکستان کے اپنے عوام کے تحفظ کے عزم کو کسی صورت کوئی کمزوری نہ سمجھا جائے۔
وزارت اطلاعات نے کہا ہے کہ افغان طالبان حکومت کی جانب سے دہشتگردی کے مسئلے سے مسلسل چشم پوشی پاک افغان تعلقات کو معمول پر لانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے، کھوکھلی یقین دہانیاں کرانے اور پاکستان کی پالیسیوں پر سوالات اٹھانے سے نہ تو موجودہ بحران حل ہوگا اور نہ ہی کابل اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ ہوسکے گا۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان طالبان قیادت کو تعلقات کی بہتری کے لیے الزام تراشی کے بجائے دہشتگر دی کے بنیادی مسئلے کے حل پر توجہ دینا ہوگی۔
وزارت اطلاعات نے اپنے بیان کے اختتام پر افغان طالبان قیادت کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی سلامتی کو افغان طالبان کی بے عملی، ٹال مٹول، ذمہ داریوں سے فرار یا غلط ترجیحات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔
بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ پاکستان اپنے شہریوں اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا اور دہشت گردی کے معاملے پر اس کا مؤقف غیر متزلزل ہے۔
واضح رہے کہ افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذ بیح اللہ مجاہد نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے دوطرفہ کشیدگی ختم کرنے میں سنجیدہ نہیں، جبکہ کابل کی جانب سے بات چیت اور سفارتی ذرائع سے مسئلے کے حل کی متعدد کوششیں تاحال نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکیں۔
مزید پڑھیں




