ماہرین فلکیات کا کائنات میں پہلا 'سبز ستارہ' دریافت کرنیکا دعویٰ

ماہرین فلکیات نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے ایک ایسے ستارے کا پتا لگایا ہے جو انسانی آنکھ کو سبز رنگ کا دکھائی دے سکتا ہے۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق یہ تحقیق برطانیہ کی یونیورسٹی آف واروک کے ماہرِ فلکیات مارک ہالینڈز اور ان کے ساتھیوں نے کی محققین نے زمین کے قریب موجود 151 سفید بونے ستاروں کا جائزہ لیا ان میں سے بعض ستاروں کی رنگت عام ستاروں سے مختلف پائی گئی تحقیق کے نتائج سائنسی جریدے آر اے ایس تکنیک اینڈ انسٹرومنٹس (آر اے ایس ٹی آئی)میں شائع ہوئے ہیں۔
سفید بونے ایسے ستارے ہوتے ہیں جو اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ گزار چکے ہوتے ہیں۔ سورج جیسے ستارے بھی اپنی زندگی کے آخری مرحلے میں اس شکل میں تبدیل ہوسکتے ہیں یہ ستارے سائز میں چھو ٹے، لیکن مادے کے لحاظ سے بہت بھاری ہوتے ہیں۔
عام طور پر ستارے نارنجی، سفید یا نیلے رنگ کے دکھائی دیتے ہیں، لیکن کچھ سفید بونے ستاروں کی رنگت مختلف بھی ہوسکتی ہے سائنس دانوں کے مطابق اس کی ایک وجہ ان کی بیرونی تہوں میں موجود مختلف عناصر ہیں۔
تحقیق کے مطابق اس ستارے میں کیلشیم، سوڈیم اور لیتھیم نامی مادے موجود ہیں یہ مادے ستارے کی روشنی پر اثر ڈال سکتے ہیں، جس کی وجہ سے اس کا رنگ عام ستاروں سے مختلف دکھائی دیتا ہے۔
سائنس دانوں نے بعض سفید بونے ستاروں کی سطح پر لوہا اور میگنیشیم جیسے مادے بھی پائے ہیں یہ مادے عام طور پر چٹانوں میں موجود ہوتے ہیں ان کی موجودگی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کبھی ان ستاروں کے قریب سیارے یا دوسرے چٹانی اجسام موجود رہے ہوں گے۔
جب کوئی چٹانی جسم کسی ستارے کے بہت قریب پہنچ جاتا ہے تو ستارے کی طاقتور کشش اسے توڑ سکتی ہے۔ اس کے ٹکڑے ستارے کی بیرونی تہوں میں شامل ہوجاتے ہیں۔ سائنس دان ان مادوں کا جائزہ لے کر اندازہ لگاسکتے ہیں کہ ماضی میں موجود سیارے کن چیزوں سے بنے تھے۔
تحقیق کے دوران ایک اور ستارہ بھی سامنے آیا جو انسانی آنکھ کو گلابی مائل نارنجی رنگ کا دکھائی دے سکتا ہےماہرین کے مطابق اس ستارےمیں کاربن کے مادے کی زیادہ مقدار اس کی رنگت کی وجہ ہو سکتی ہے۔
امریکا کی یونیورسٹی پین اسٹیٹ اسکرینٹن کی پروفیسر ایگنس کم، جو اس تحقیق میں شامل نہیں تھیں، کے مطابق یہ تحقیق پہلے سے موجود معلومات کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ اس لیے ضروری نہیں کہ اس سے ستاروں کے بارے میں کوئی بالکل نئی بات معلوم ہوئی ہو، لیکن ستاروں کے رنگوں کو سمجھنے کا یہ طریقہ دلچسپ ضرور ہے۔
ان کے مطابق یہ جاننا حیرت انگیز ہے کہ اگر یہ ستارے زمین کے قریب ہوتے اور انہیں براہِ راست دیکھا جاسکتا تو کچھ سبز اور کچھ گلابی دکھائی دیتےیہ ستارے زمین سے بہت دور ہیں، اس لیے سائنس دانوں نے ان کے رنگ معلوم کرنے کے لیے ان سے آنے والی روشنی کا جائزہ لیا روشنی کو مختلف حصوں میں تقسیم کرکے اس کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اس سے پتا چل سکتا ہے کہ ستارے میں کون سے مادے موجود ہیں اور اس کی خصوصیات کیا ہیں۔
ماہرین کے مطابق ستاروں کے رنگ، درجہ حرارت اور ان میں موجود مادوں کی مدد سے انہیں مختلف گروہوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح سائنس دان یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کچھ ستاروں کے رنگ دوسروں سے مختلف کیوں ہوتے ہیں۔
تحقیق کے مرکزی مصنف مارک ہالینڈز اب مزید سفید بونے ستاروں کا مطالعہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق بہت سے ایسے ستارے موجود ہیں جن کی روشنی کا تفصیلی جائزہ ابھی نہیں لیا گیا۔
نئے سائنسی آلات کی مدد سے اب زمین سے زیادہ فاصلے پر موجود ستاروں کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی جاسکیں گی۔ ہالینڈز کا اندازہ ہے کہ مستقبل میں ایسے سفید بونے ستاروں کی تعداد، جن کی روشنی کا تفصیلی ریکارڈ دستیاب ہوگا، موجودہ تعداد سے تقریباً 10 گنا بڑھ سکتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر مزید تحقیق میں ایسے ستارے ملتے رہے تو سبز رنگ کے سفید بونے ستاروں کی تعداد ایک یا دو سے بڑھ کر 10 یا 20 تک پہنچ سکتی ہے۔ تاہم، یہ مستقبل کے بارے میں ایک اندازہ ہے، ابھی تک دریافت ہونے والے ستاروں کی حتمی تعداد نہیں۔
مزید پڑھیں




