بدھ، 14 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

تخت سے رنگون تک،بہادر شاہ ظفر کا نوحہ،تحریر:سید ضیغم حسن عابدی

نقطہ نظر
zaigham abidi syed

ہم تاریخ کو پڑھتے ہوئے اکثر فاتحین کے نام یاد رکھتے ہیں اور شکست خوردہ لوگوں کے حصے میں الزام چھوڑ دیتے ہیں۔ مغلیہ سلطنت کا زوال زیرِ بحث آئے تو بہادر شاہ ظفر کا نام ایسے لیا جاتا ہے جیسے ہندوستان کی بربادی کا سارا بوجھ اسی ایک بوڑھے بادشاہ کے کندھوں پر تھا۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ جس شخص کو ہم ایک عظیم سلطنت کے زوال کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، وہ خود اس تخت پر بیٹھنے کا خواہش مند نہیں تھا جسے بعد میں اس کی پوری زندگی کا المیہ بنا دیا گیا۔


بہادر شاہ ظفر ایک سپہ سالار سے زیادہ شاعر تھا۔ اسے تخت و تاج سے زیادہ شعر و سخن کی محفلیں عزیز تھیں۔ مگر تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیے کہ ایک شاعر کو اس سلطنت کا بادشاہ بنا دیا گیا جس کی بنیادیں اس کے اقتدار سے بہت پہلے ہل چکی تھیں۔ اور پھر ہم نے اسی شخص سے پوچھنا شروع کر دیا کہ سلطنت کیوں نہ بچا سکا۔


ذرا اس وقت کے ہندوستان کا تصور کیجیے۔ کبھی جس مغلیہ سلطنت کا حکم دور دور تک چلتا تھا، اب اس کے بادشاہ کی عمل داری دہلی کے لال قلعے تک محدود ہو کر رہ گئی تھی۔ اصل طاقت ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہاتھوں میں منتقل ہو چکی تھی۔ خزانے خالی تھے، اختیار محدود تھا اور بادشاہ کا نام باقی رہ گیا تھا، اس نام کے پیچھے کھڑی سلطنت نہیں۔ جب بہادر شاہ ظفر تخت نشین ہوئے تو مغلیہ اقتدار اپنے زوال کی آخری منزلوں میں داخل ہو چکا تھا۔ وہ ایک ڈوبتے ہوئے جہاز کے کپتان ضرور تھے، مگر اس جہاز میں پانی ان کے آنے سے بہت پہلے داخل ہو چکا تھا۔


پھر 1857ء کی بغاوت ہوئی۔ باغی سپاہیوں نے بہادر شاہ ظفر کو اپنا علامتی بادشاہ تسلیم کیا۔ ایک عمر رسیدہ شاعر، جس کے پاس نہ کوئی مضبوط فوج تھی، نہ خزانہ اور نہ وسیع سلطنت پر حکومت کرنے کا اختیار، اچانک ایک ایسی جنگ کی علامت بن گیا جس کا انجام اس کے لیے تباہ کن ثابت ہوا۔ بغاوت کچل دی گئی۔ مغل خاندان کی رہی سہی طاقت بھی ختم کر دی گئی، شہزادوں کو قتل کیا گیا اور بہادر شاہ ظفر کو گرفتار کر لیا گیا۔


یہاں سے ایک بادشاہ کی نہیں، ایک انسان کی بربادی شروع ہوتی ہے۔ جس شخص نے اپنی زندگی دہلی میں گزاری تھی، جس کی زبان، شاعری، محفلیں اور یادیں اسی شہر سے وابستہ تھیں، اسے انگریزوں نے ہندوستان سے دور رنگون جلاوطن کر دیا۔ ایک زمانے میں مغل سلطنت کا وارث رہنے والا شخص اب اپنے ہی وطن میں اجنبی بنا دیا گیا تھا۔ اسے ماہانہ *500 روپے پنشن* دی جاتی تھی، مگر یہ رقم اس محرومی کا کیا بدل ہو سکتی تھی کہ انسان سے اس کا گھر، اس کے لوگ اور اپنی مٹی میں جینے کا حق چھین لیا جائے۔


ذرا اس منظر کو ذہن میں لائیے۔ ایک شخص جس کے نام کے ساتھ کبھی بادشاہ کا لقب جڑا تھا، اب ایک اجنبی سرزمین پر زندگی کے آخری دن گزار رہا ہے۔ نہ دہلی واپس جانے کی امید، نہ اپنے خاندان کی پہلے جیسی صورت دیکھنے کا امکان اور نہ اس بات کا اختیار کہ مرنے کے بعد کہاں دفن ہونا ہے۔ جس سلطنت کے زوال کا الزام ہم اس پر رکھتے ہیں، اس کی شکست کا آخری منظر اسے اپنی آنکھوں سے دیکھنا پڑا۔


شاید اسی لیے اس کی شاعری میں وہ کرب ملتا ہے جو تاریخ کی کتابوں میں نہیں ملتا۔


**نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں

نہ کسی کے دل کا قرار ہوں

جو کسی کے کام نہ آ سکے

میں وہ ایک مشتِ غبار ہوں**


یہ اشعار کسی ایسے شخص کے نہیں لگتے جو محض تخت کھونے کا ماتم کر رہا ہو۔ یہ اس انسان کی آواز ہے جس سے اس کی پہچان چھین لی گئی ہو۔ کبھی ایک سلطنت کا نام اس کے نام کے ساتھ جڑا تھا، اب وہ خود کو ایک مٹھی گرد سے زیادہ نہیں سمجھتا۔ اقتدار چھن جانے کا دکھ اپنی جگہ، مگر اپنی ہی نظر میں بے وقعت ہو جانے کا دکھ شاید اس سے کہیں بڑا ہے۔


ہم اکثر تاریخ کو بادشاہوں کی فتوحات اور شکستوں میں تقسیم کرکے پڑھتے ہیں۔ یہ نہیں سوچتے کہ ایک سیاسی شکست کسی انسان کی ذاتی زندگی کو کس طرح اجاڑ دیتی ہے۔ بہادر شاہ ظفر مغلیہ سلطنت کو اس کی سابقہ عظمت واپس نہ دلا سکا، لیکن کیا اس سلطنت کے زوال کی تمام ذمہ داری اسی پر ڈال دینا انصاف ہے؟ اس کے تخت پر بیٹھنے سے پہلے ہی مغلیہ اقتدار کمزور ہو چکا تھا۔ برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی ہندوستان کی بڑی طاقت بن چکی تھی اور دہلی کا بادشاہ اپنی سلطنت کے بجائے اپنے نام کی حکمرانی کر رہا تھا۔


بہادر شاہ ظفر کی ناکامیوں پر سوال اٹھائے جا سکتے ہیں، مگر اس کی زندگی کا المیہ نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وہ صرف ایک سلطنت کا آخری بادشاہ نہیں تھا؛ وہ ایک شاعر بھی تھا جسے اپنی زندگی کے آخری دن اپنے وطن سے دور گزارنے پڑے۔ 1862ء میں رنگون میں اس کی وفات ہوئی اور وہیں اسے دفن کیا گیا۔ دہلی کا آخری مغل بادشاہ اپنی زندگی میں بھی اپنے شہر سے محروم رہا اور موت کے بعد بھی اس کی مٹی اسے نصیب نہ ہوئی۔


تاریخ نے اسے ایک شکست خوردہ بادشاہ کا نام دیا، مگر اس کی شاعری نے اس شکست کو انسانی دکھ میں بدل دیا۔ آج بھی جب ہم اس کے اشعار پڑھتے ہیں تو مغلیہ سلطنت کے زوال سے زیادہ ایک ایسے شخص کی بے بسی محسوس ہوتی ہے جو اپنی ساری زندگی کے بعد بھی اپنے وطن میں دو گز زمین کا حق دار نہ بن سکا۔


اور شاید اس کی پوری زندگی کا نوحہ اسی ایک شعر میں سمٹ آتا ہے:


**کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لیے

دو گز زمیں بھی نہ مل سکی کوئے یار میں**