بخارا کا وہ چراغ جس کی روشنی صدیوں پر محیط ہے، تحریر:انیم چوہدری
نقطہ نظر
دنیا میں بہت سے لوگ پیدا ہوتے ہیں، زندگی گزارتے ہیں اور وقت کے ساتھ ان کی یادیں بھی دھندلا جاتی ہیں، مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کا کام ان کی زندگی سے کہیں زیادہ طویل عمر پاتا ہے۔ ان کے ہاتھوں میں نہ سلطنتوں کی باگ ڈور ہوتی ہے، نہ فوجوں کی کمان؛ ان کے پاس علم، قلم اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ وہ انہی کے ذریعے ایسی دنیا تعمیر کرتے ہیں جس کے آثار صدیوں بعد بھی باقی رہتے ہیں۔ تاریخ کا ایک ایسا ہی نام طب اور فلسفے کی دنیا میں نمایاں نظر آتا ہے۔
سنئہ 980 عیسوی کے لگ بھگ، بخارا کے قریب واقع بستی افشنہ میں ایک بچے نے جنم لیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب بخارا علم و ادب کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتا تھا۔ مختلف علوم کے ماہرین یہاں موجود تھے اور علمی مباحث کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ اس ماحول نے بچے کی ذہنی نشوونما میں مدد دی، لیکن اسے آگے بڑھانے والی اصل قوت اس کی اپنی جستجو تھی۔ وہ صرف پڑھنا نہیں چاہتا تھا، بلکہ یہ بھی جاننا چاہتا تھا کہ پڑھی ہوئی بات کے پیچھے حقیقت کیا ہے۔
اس نے قرآن، زبان، منطق، فلسفے اور طب سمیت کئی علوم کا مطالعہ کیا۔ خاص طور پر انسانی جسم اور بیمارئیوں کے بارے میں اس کی دلچسپی بڑھتی گئی۔ وہ کسی مسئلے کو محض سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر قبول کرنے کے بجائے اسے سمجھنے کی کوشش کرتا۔ یہی عادت اس کی علمی زندگی کی بنیاد بنی۔ اس دور میں کتابوں تک رسائی اور علمی مواد کا حصول آسان نہ تھا، اس لیے علم حاصل کرنے کے لیے محنت، وقت اور مستقل مزاجی درکار تھی۔
اس کی زندگی کا ایک دلچسپ واقعہ بخارا کے حکمران نوح بن منصور سے متعلق ہے۔ تاریخی روایات کے مطابق، حکمران کی بیماری کے علاج میں اس نوجوان طبیب کی مہارت نے اسے شاہی دربار تک پہنچایا۔ وہاں کے کتب خانے سے استفادے کا موقع ملا تو اسے اپنی علمی پیاس بجھانے کے لیے ایک وسیع ذخیرہ میسر آیا۔ یہ واقعہ اس کی زندگی میں اہم موڑ سمجھا جاتا ہے، اگرچہ اس کی علمی ترقی کو صرف اسی ایک موقع کا نتیجہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ اس کے پیچھے برسوں کا مطالعہ اور مسلسل محنت بھی شامل تھی۔
زندگی نے آگے چل کر اس کے لیے آسان راستہ نہیں چنا۔ سیاسی حالات بدلتے رہے، اقتدار کے مراکز تبدیل ہوئے اور اسے مختلف علاقوں میں قیام کرنا پڑا۔ کبھی دربار سے وابستگی رہی اور کبھی عملی ذمہ داریوں نے مصروف رکھا۔ ان حالات کے باوجود اس نے لکھنے، پڑھنے اور تحقیق کا کام جاری رکھا۔ اس کے لیے علم محض شہرت حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی ضرورت تھی جس سے وہ الگ نہیں رہ سکتا تھا۔
اس کی علمی خدمات میں القانون فی الطب کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ اس کتاب میں بیماریوں، تشخیص، علاج اور ادویات سے متعلق معلومات کو منظم انداز میں پیش کیا گیا۔ اس کی ترتیب اور علمی مواد نے اسے طویل عرصے تک طبی تعلیم میں اہم مقام دلایا۔ کئی صدیوں تک مشرقی اور یورپی علمی حلقوں میں اس کتاب کا مطالعہ کیا جاتا رہا۔ یہ محض معلومات کا مجموعہ نہیں تھی، بلکہ اپنے زمانے کے طبی علم کو ایک مربوط شکل میں پیش کرنے کی ایک بڑی کوشش بھی تھی۔
اس کے علمی کام کا دائرہ صرف طب تک محدود نہیں تھا۔ کتاب الشفاء میں منطق، طبیعیات، ریاضیات اور فلسفے جیسے موضوعات پر بحث کی گئی، جبکہ الاشارات والتنبیہات بھی اس کی اہم تصانیف میں شمار ہوتی ہے۔ ان کتابوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کی دلچسپی انسانی علم کے مختلف شعبوں میں تھی۔ وہ ایک ہی موضوع تک محدود رہنے کے بجائے مختلف علوم کے درمیان تعلق سمجھنے کی کوشش کرتا تھا۔
تاہم کسی کتاب کی زندگی صرف اس کے مصنف تک محدود نہیں رہتی۔ اسے محفوظ رکھنے، نقل کرنے اور دوسری زبانوں میں منتقل کرنے والے لوگ بھی اس کے سفر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ قرونِ وسطیٰ میں عربی علمی کتابوں کے لاطینی تراجم نے یورپ میں ان علوم کے مطالعے کی راہ ہموار کی۔ جیرارڈ آف کریمونا جیسے مترجمین نے عربی علمی ذخیرے کے متعدد متون کو لاطینی دنیا تک پہنچانے میں حصہ لیا۔ اس عمل میں مترجمین، کاتبوں، اساتذہ اور علمی مراکز کی محنت شامل تھی۔ یوں ایک زبان میں لکھی گئی کتاب دوسری زبان کے قارئین کے لیے بھی علم کا ذریعہ بن گئی۔
یہی کسی علمی کام کی اصل کامیابی ہے کہ وہ اپنے زمانے کی حدود سے آگے نکل جائے۔ ہر دور کے سوالات بدلتے ہیں، تحقیق کے طریقے ترقی کرتے ہیں اور پرانے نظریات پر نئی بحث ہوتی ہے، لیکن اہم علمی تصانیف تاریخ کو سمجھنے اور علم کی ترقی کا سفر جاننے میں مدد دیتی رہتی ہیں۔
اس عالم کی زندگی کا آخری حصہ ایران کے شہر ہمدان میں گزرا، جہاں سنہ 1037 عیسوی میں اس کا انتقال ہوا۔ اس کی زندگی کا سفر تمام ہوا، لیکن اس کی تصانیف کا سفر جاری رہا۔ مختلف زبانوں میں ان کے تراجم ہوئے اور آنے والی نسلوں نے ان کا مطالعہ کیا۔ وقت کے ساتھ علم کے نئے ذرائع سامنے آئے، مگر تاریخ میں اس کے کام کی اہمیت برقرار رہی۔
یہ شخصیت شیخ الرئیس، ابو علی حسین بن عبداللہ ابنِ سینا تھے، جنہیں مغربی دنیا میں ایویسینا (Avicenna) کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ابنِ سینا کی زندگی پر نظر ڈالیں تو محسوس ہوتا ہے کہ انسان کی پہچان صرف اس کے عہد، مقام یا حالات سے نہیں بنتی؛ اس کا اصل تعارف وہ کام ہوتا ہے جو وہ اپنے پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔ ابنِ سینا بھی اپنے زمانے سے رخصت ہو گئے، مگر ان کی کتابیں علم کی تاریخ کا حصہ بن گئیں۔
زندگی ختم ہو جاتی ہے، آواز خاموش ہو جاتی ہے، مگر علم کے لیے اٹھایا گیا قلم کبھی کبھی صدیوں تک بولتا رہتا ہے۔ ابنِ سینا کی میراث بھی اسی خاموش قلم کی آواز ہے، جو آج تک تاریخ کے اوراق میں سنائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیں




