دنیا بھر میں وقت کے نظام میں تبدیلی کا فیصلہ,لیپ سیکنڈ ختم کرنے پر غور

فرانس کے شہر ورسائی میں وزن اور پیمائش سے متعلق جنرل کانفرنس (CGPM) کے اجلاس میں یہ تاریخی فیصلہ کیا گیا ہے کہ 20 مئی 2027 سے عالمی وقت (UTC) میں لیپ سیکنڈ (Leap Second) شامل کرنے کا سلسلہ باضابطہ طور پر ختم کر دیا جائے گا۔
دنیا بھر کے وقت کے ماہرین نے کمپیوٹر سسٹمز کو لاحق خطرات اور تاریخ میں پہلی بار منفی لیپ سیکنڈ شامل کرنے کے امکان کے پیشِ نظر عالمی وقت میں اضافی سیکنڈ شامل کرنے کا سلسلہ ختم کرنے کے حق میں فیصلہ کیا ہے۔
ماضی میں جب بھی وقت کو زمین کی گردش کے مطابق رکھنے کے لیے ایک اضافی سیکنڈ شامل کیا جاتا تھا، تو اس سے بڑے کمپیوٹر سسٹمز، ڈیٹا سینٹرز، ہوائی کمپنیوں کے بکنگ سسٹم اور مالیاتی منڈیوں میں تکنیکی خرابیاں (Bugs) پیدا ہونے کا خطرہ رہتا تھا۔
حالیہ برسوں میں زمین کی اپنے محور کے گرد گھومنے کی رفتار میں تیزی دیکھی گئی ہے۔ سائنسدانوں کو خدشہ تھا کہ تاریخ میں پہلی بار گھڑیوں سے ایک سیکنڈ کم کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے لیے دنیا کا ڈیجیٹل انفراسٹرکچر بالکل تیار نہیں تھا۔
اب ایٹمی گھڑیوں کے وقت اور زمین کی گردش کے فرق کو بڑھنے دیا جائے گا۔ جب یہ فرق ایک گھنٹے تک پہنچ جائے گا (جس میں ماہرین کے مطابق 1,000 سال سے زائد کا عرصہ لگ سکتا ہے)، تب ایک "لیپ آور" شامل کرنے پر غور کیا جائے گا-
دنیا میں وقت کے آفیشل معیار کے طور پر استعمال ہونے والے نظام میں 20 مئی 2027 سے لیپ سیکنڈ شامل نہیں کیے جائیں گے۔ وزن اور پیمائش سے متعلق جنرل کانفرنس (CGPM) کی جانب سے یہ فیصلہ جمعرات، 15 اکتوبر 2026 کو کیا گیا۔
اس تبدیلی کا عام لوگوں کی روزمرہ زندگی یا گھڑیوں پر کوئی فوری اثر نہیں پڑے گا کیونکہ یہ محض ایک سائنسی اور تکنیکی ایڈجسٹمنٹ ہے-
مزید پڑھیں




