تعلیم، شعور یا صرف ڈگری؟تحریر: یاسمین اختر طوبیٰ
نقطہ نظر
ایک چھوٹے سے گھر کے دالان میں صبح کی دھوپ ابھی پوری طرح اتری بھی نہ تھی کہ باپ نے میز پر رکھی ڈگری اٹھا لی۔ کاغذ پر سنہری حروف چمک رہے تھے۔ اس نے اسے دیر تک دیکھا، پھر سینے سے لگایا اور بیٹے کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا، "بیٹا! اب تمہارا مستقبل محفوظ ہے۔" پاس بیٹھی ماں خاموشی سے مسکرا رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں ان تمام راتوں کی تھکن تھی جن میں اس نے بیٹے کی فیس کے لیے اپنے خواب مؤخر کیے، زیور بیچے اور گھر کے بجٹ سے اپنی خواہشیں کاٹ دیں۔ بیٹے نے برسوں کتابوں کے ساتھ گزارے تھے؛ راتیں جاگیں، امتحان دیے اور آخرکار وہ دن بھی آگیا جب اس کے ہاتھ میں ایک خوب صورت ڈگری تھی۔
گھر میں خوشی تھی مگر شاید اس خوشی کے شور میں ایک سوال دب گیا تھا: ڈگری تو مل گئی لیکن تعلیم کہاں تک پہنچی؟
یہ سوال صرف اس گھر کا نہیں، ہمارے پورے معاشرے کا سوال ہے۔ ہم نے تعلیم کو رفتہ رفتہ ایک سند، ایک عہدے اور ایک ملازمت کی سیڑھی بنا لیا ہے۔ کسی کے نام کے ساتھ بی اے، ایم اے، ایم فل یا پی ایچ ڈی لکھا ہو تو ہم اس کے علم پر مہرِ تصدیق ثبت کردیتے ہیں۔ ہم یہ کم دیکھتے ہیں کہ اس کی گفتگو میں کتنی شائستگی ہے، اختلاف میں کتنا تحمل ہے، کمزور کے ساتھ رویہ کیسا ہے اور اپنی غلطی تسلیم کرنے کا حوصلہ کتنا ہے۔ حالاں کہ ڈگری انسان کے نام کے ساتھ لگنے والا ایک اضافہ ہے، انسان کے کردار کے اندر پیدا ہونے والی روشنی نہیں۔
ایک شخص کے پاس کتابوں سے بھری ہوئی الماری ہوسکتی ہے، مگر دل تعصب سے بھرا ہو۔ وہ فلسفہ پڑھ سکتا ہے، مگر دوسروں کی رائے برداشت نہ کرسکے۔ اخلاقیات کے ابواب یاد کرسکتا ہے، مگر اپنے سے کمزور انسان کو حقیر سمجھ سکتا ہے۔ تاریخ کے صفحات پڑھ سکتا ہے، مگر ماضی کی غلطیوں سے کوئی سبق نہ لے۔ ایسی صورت میں سوال ڈگری کی قدر کا نہیں، تعلیم کے اثر کا ہے۔
تعلیم اگر واقعی تعلیم ہے تو اسے انسان کے اندر کچھ بدلنا چاہیے۔ اسے صرف معلومات کا ذخیرہ نہیں، شعور کا چراغ بننا چاہیے۔ کتاب ہمیں بتاتی ہے کہ دنیا کیا ہے؛ شعور ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ اس دنیا میں ہمیں کیسے رہنا ہے۔ علم ہمیں زبان دیتا ہے، مگر شعور یہ سکھاتا ہے کہ وہ زبان کب استعمال کرنی ہے اور کب خاموش رہنا ہے۔ تعلیم ہمیں دلیل سکھاتی ہے، مگر شعور یہ سمجھاتا ہے کہ ہر اختلاف دشمنی نہیں ہوتا۔
آج سوشل میڈیا کے زمانے میں ڈگری اور شعور کا یہ فرق پہلے سے زیادہ نمایاں ہے۔ ایک خبر ہماری اسکرین پر نمودار ہوتی ہے اور انگلی فوراً اسے آگے بڑھانے کے لیے حرکت میں آجاتی ہے۔ نہ ماخذ دیکھا جاتا ہے، نہ تحقیق کی جاتی ہے، نہ یہ سوچا جاتا ہے کہ اس ایک کلک سے کسی کی عزت، تعلق یا زندگی پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔ معلومات کی رفتار بے مثال ہوگئی ہے مگر کیا ہماری بصیرت بھی اسی رفتار سے بڑھی ہے؟ اگر نہیں تو شاید ہمیں اپنے تعلیمی سفر کے مقصد پر دوبارہ غور کرنا ہوگا۔
شعور کا سفر "میں" سے شروع ہوتا ہے اور "ہم" تک پہنچتا ہے۔ باشعور انسان صرف اپنے حقوق نہیں جانتا، دوسروں کے حقوق بھی پہچانتا ہے۔ وہ قطار میں اس لیے نہیں کھڑا ہوتا ہے کہ اسے پولیس کا خوف ہوتا ہے بلکہ اس لیے کہ اسے احساس ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے بھی ایک انسان کھڑا ہے۔ وہ قانون کی پابندی صرف نگرانی میں نہیں کرتا۔ وہ اختلاف رکھنے والے کو دشمن نہیں سمجھتا، تنقید کو اپنی توہین نہیں جانتا اور اپنی کامیابی کو کسی دوسرے کی ناکامی کے ترازو میں نہیں تولتا۔
یہ شعور صرف اسکول اور یونیورسٹی کی دیواروں سے پیدا نہیں ہوتا۔ بچے کی پہلی درس گاہ گھر ہوتا ہے اور والدین اس کے پہلے استاد۔ اگر کتاب میں ایمانداری کا سبق ہو اور گھر میں جھوٹ کو "مصلحت" کا نام دیا جائے تو بچہ دو نصاب پڑھتا ہے۔ اگر اسے برداشت کا سبق دیا جائے مگر معمولی اختلاف پر گھر میں نفرت، طنز اور تحقیر دیکھنے کو ملے تو وہ لفظ تو یاد کرلے گا مگر اس کی روح شاید نہ سمجھ سکے۔ اسی لیے تعلیم اور تربیت کو الگ الگ خانوں میں رکھنا ممکن نہیں۔
تاہم ڈگری کی اہمیت سے انکار بھی حقیقت سے فرار ہوگا۔ ڈاکٹر، انجینئر، استاد، وکیل اور دوسرے ماہرین کے لیے باقاعدہ تعلیم اور پیشہ ورانہ قابلیت ناگزیر ہے۔ مسئلہ ڈگری نہیں؛ مسئلہ یہ ہے کہ ہم اسے تعلیم کی آخری منزل سمجھ لیتے ہیں۔ ڈگری ایک دروازے کی کنجی ہوسکتی ہے، مگر پورا گھر نہیں، یہ سفر کا ایک پڑاؤ ہوسکتی ہے، منزل نہیں۔
ہم اپنے بچوں سے اکثر پوچھتے ہیں، "بڑے ہوکر کیا بنو گے؟" شاید اب اس سوال کے ساتھ ایک اور سوال بھی شامل کرنے کا وقت آگیا ہے: "بڑے ہوکر کیسے انسان بنو گے؟"
قومیں صرف یونیورسٹیوں کی تعداد، ڈگریوں کے انبار اور بلند عہدوں سے ترقی نہیں کرتیں۔ قومیں ان انسانوں سے بنتی ہیں جو علم کو کردار میں، کردار کو عمل میں اور عمل کو اجتماعی بھلائی میں ڈھالنا جانتے ہیں۔ ایک اچھا ڈاکٹر صرف بیماری نہیں دیکھتا، مریض کا درد بھی سمجھتا ہے۔ ایک اچھا استاد صرف سبق نہیں پڑھاتا، طالب علم کے اندر سوال جگاتا ہے۔ ایک اچھا افسر صرف قانون نافذ نہیں کرتا، انصاف کی روح کو بھی سمجھتا ہے۔
گویا ڈگری کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے۔ اس کی اصل قدر اس ہاتھ سے پیدا ہوتی ہے جو اسے تھامتا ہے اور اس کردار سے جو اس کے پیچھے کھڑا ہوتا ہے۔
اس لیے شاید اصل سوال یہ نہیں کہ ہمارے نام کے ساتھ کتنی ڈگریاں لکھی ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ان ڈگریوں نے ہمیں کتنا انسان بنایا ہے۔
اگر علم نے ہمارے اندر سوال پیدا کیے، شعور نے ہمیں اپنی غلطیوں کا احساس دیا اور کردار نے ہمیں دوسروں کے لیے آسانی بننا سکھایا، تو یہی تعلیم ہے۔
ورنہ عین ممکن ہے کہ ہمارے ہاتھ میں ایک معتبر ڈگری ہو، دیوار پر کئی اسناد آویزاں ہوں مگر ہمارے اندر وہ طالب علم اب بھی ان پڑھ بیٹھا ہو جس نے انسان کو انسان سمجھنے کا بنیادی سبق کبھی پڑھا ہی نہ ہو۔
مزید پڑھیں





