اتوار، 25 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

تعلیم، شعور یا صرف ڈگری؟،تحریر:ندیم یعقوب گوہر

نقطہ نظر
nadeem yaqoob gohar

انسانی تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیے تو تہذیب و تمدن کے سفر میں انسانی فکر نے ہمیشہ اپنے وجود کی سچائی، اپنی منزل اور اپنی صلاحیتوں کو ناپنے کے لیے مختلف پیمانے تراشے ہیں۔ دورِ حاضر کی تیز رفتار اور مادیت پرور زندگی میں اگر ہم اپنے گرد و پیش کا گہرا اور دیانت دارانہ مشاہدہ کریں تو تین لفظ سب سے زیادہ تکرار کے ساتھ ہمارے کانوں میں گونجتے ہیں؛ تعلیم، ڈگری اور شعور۔ بظاہر یہ تینوں الفاظ ایک ہی زنجیر کی کڑیاں معلوم ہوتے ہیں اور عام بول چال میں انہیں خلط ملط کر دیا جاتا ہے، مگر حقیقت کی آنکھ سے دیکھا جائے تو ان میں سے ہر ایک کی اپنی حدود، اپنا وزن، اپنی مسلمہ حیثیت اور الگ دائرہ کار ہے۔ ان تینوں کی حقیقت کو سمجھے بغیر ہم نہ تو کسی صحت مند معاشرے کی تشکیل کر سکتے ہیں اور نہ ہی انفرادی زندگی میں حقیقی توازن اور سکھ حاصل کر سکتے ہیں۔

سب سے پہلے اگر ہم تعلیم کی بات کریں تو تعلیم محض کتابی نقوش، نصابی جملوں یا رسمی اسباق کو یاد کر لینے کا نام ہرگز نہیں ہے۔ تعلیم تو دراصل وہ روشن دیا ہے جو انسان کے باطن کے بند دریچوں کو کھولتا ہے اور فکری ارتقا کا راستہ ہموار کرتا ہے۔ دینِ مبین نے سب سے پہلا پیغام ہی حصولِ علم کا دیا، جہاں وحی کا آغاز 'اقرأ' یعنی 'پڑھیے' کے مبارک حکم سے ہوا (سورۃ العلق: 1)۔ قرآنِ کریم میں اللہ رب العزت نے علم رکھنے والوں اور نہ رکھنے والوں کے فرق کو دوٹوک انداز میں واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ "کہہ دیجیے کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟" (سورۃ الزمر: 9)۔ یہ وہ وسیع اور غیر متناہی عمل ہے جو انسان کو اندھی تقلید اور جہالت کے تاریک غاروں سے نکال کر دلیل، تحقیق، مشاہدے اور فہم کے کھلے آسمان تلے لے آتا ہے۔ تعلیم انسان کو کائنات کے اسرار و رموز پر غور و خوض کا سلیقہ عطا کرتی ہے، اور سرورِ کائنات ﷺ کا یہ ارشادِ گرامی اس کی دائمی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے کہ "علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔" (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر: 224)۔ جدید دور کے عظیم سائنس دان البرٹ آئن سٹائن نے اسی تعلیمی حقیقت کو واشگاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ تعلیم وہ نہیں جو آپ نے درس گاہ میں یاد کی، بلکہ تعلیم وہ ہے جو سب کچھ بھول جانے کے بعد آپ کے اندر باقی رہ جائے۔ وہ تعلیم جو انسان کے زاویہ نگاہ میں کشادگی پیدا نہ کرے، جو اس کی سوچ کے دائرے کو وسیع نہ کر سکے اور جو اسے حقائق کا تجزیہ کرنے کی اہلیت نہ بخشے، وہ محض معلومات کا ایک بے جان بوجھ ہے۔ تعلیم انسان کو ہنر، فہم اور زندگی کے مختلف موڑ پر درست سمت میں قدم اٹھانے کا اعتماد فراہم کرتی ہے، اور یہی وہ جوہر ہے جو انسان کو ایک فعال فکری ہستی میں تبدیل کرتا ہے۔

اس فکری جوہر کے بعد جب ہم عصری دنیا کے انتظامی اور معاشی ڈھانچے پر نظر ڈالتے ہیں تو وہاں ڈگری کی مسلمہ اہمیت سے کسی طور انکار ممکن نہیں رہتا۔ ڈگری درحقیقت کسی متعین تعلیمی سفر، تخصیص اور علمی معیار کی باقاعدہ، دستاویزی اور قانونی تصدیق کا نام ہے۔ معاصر مسابقتی دور میں اگر ڈگری کی اہمیت کو محض کاغذ کا پروانہ کہہ کر نظر انداز کر دیا جائے تو یہ دنیا کی عملی حقیقتوں سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہوگا۔ اگرچہ مارک ٹوین جیسے مفکرین نے رسمی تعلیمی نظام کے کھوکھلے پن پر چوٹ کرتے ہوئے یہ تنبیہ کی تھی کہ انسان کو اپنے اسکول و کالج کے رسمی بندھنوں کو اپنی اصل تعلیم و فہم کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہیے، مگر عملی زندگی میں اس ضابطے کی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے۔ آج کا سائنسی، تکنیکی اور پیشہ ورانہ نظام اس امر کا متقاضی ہے کہ کسی بھی شعبے میں قدم رکھنے والے فرد کی باقاعدہ جانچ پڑتال ہو، اور ڈگری اسی جانچ کا تسلیم شدہ ثبوت ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے کہ "اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند فرماتا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص کوئی کام کرے تو اسے پختگی اور مہارت کے ساتھ کرے۔" (شعب الإیمان للبیہقی، حدیث نمبر: 4929 / 4930)۔ ڈگری اسی مہارت، باقاعدہ تربیت اور اہلیت کی دستاویزی گواہی بنتی ہے۔ طب کی نزاکتیں ہوں، انجینئرنگ کے پیچیدہ تقاضے ہوں، قانون کی باریکیاں ہوں یا جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مہارتیں، معاشرہ اور ادارے اسی فرد پر بھروسا کرتے ہیں جس کے پاس کسی مستند ادارے کی سند موجود ہو۔ ڈگری روزگار کے بند دروازوں پر دستک دینے کی کلید ہے، معاشی خود کفالت اور کیریئر کی ترقی کا بنیادی زینہ ہے اور قابلیت کے باقاعدہ اعتراف کا ایک مسلمہ ذریعہ ہے۔

مگر کیا صرف فکری معلومات اور مستند اسناد کا حاصل ہو جانا ہی انسانی معراج ہے؟ یہیں پر شعور کی ناگزیر اور عالمگیر ضرورت کا در کھلتا ہے۔ شعور وہ باطنی بیداری، قلبی بصیرت اور ادراک کی وہ بلندی ہے جسے قرآنِ حکیم نے 'تقویٰ' اور 'حکمت' کے مفہوم میں سمیٹا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ "اور جس کو حکمت دی گئی، یقیناً اسے بڑی خیرِ کثیر عطا کی گئی۔" (سورۃ البقرۃ: 269)۔ یونانی فلسفی ارسطو نے اسی نکتے پر انگلی رکھتے ہوئے کہا تھا کہ دل اور اخلاق کو سنوارے بغیر محض ذہن کو تعلیم دینا دراصل کوئی تعلیم ہی نہیں ہے۔ برٹرینڈ رسل نے بھی معاصر المیے کی نشاندہی کرتے ہوئے باور کرایا تھا کہ انسان معلومات کے انبار تلے دب چکا ہے مگر اس کے پاس شعور اور حکمت کا قحط ہے۔ اگر علم عمل سے خالی ہو اور شعور کی چاشنی نہ پائے تو قرآن ایسے علم کو گدھے پر لدی کتابوں سے تشبیہ دیتا ہے جو بوجھ تو اٹھاتا ہے مگر ان کی روح سے ناآشنا رہتا ہے (سورۃ الجمعۃ: 5)۔ علامہ محمد اقبال نے بھی اسی کیفیت کو واضح کیا کہ محض عقل و معلومات انسان کو بے روح اور خشک کر دیتی ہیں، جب تک کہ اس کے ساتھ باطنی بیداری اور شعورِ بندگی شامل نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ حضورِ اکرم ﷺ اکثر یہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ "اے اللہ! میں تجھ سے ایسے علم سے پناہ مانگتا ہوں جو نفع نہ دے۔" (صحیح مسلم، حدیث نمبر: 2722)۔ شعور انسان کا باطن ہے، اس کی اخلاقی حس ہے، اور کھرے اور کھوٹے میں تمیز کرنے والی وہ نگاہِ بصیرت ہے جو فرد کے رویوں، اس کے بول چال اور سماجی برتاؤ سے خودبخود جھلکتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ شعور کو تعلیم اور ڈگری دونوں پر واضح اور غیر متزلزل برتری حاصل ہے۔ ڈگری آپ کو ایک شاندار روزگار دلا سکتی ہے، مادی آسائشیں فراہم کر سکتی ہے اور تعلیم آپ کو فنی اعتبار سے انتہائی ماہر، کائیاں اور ہنر مند بنا سکتی ہے، لیکن انسان کو واقعی "انسان" بنانا صرف اور صرف شعور کا کام ہے۔ اگر شعور موجود نہ ہو تو انسان بڑی سے بڑی ڈگری کے ساتھ بھی بدترین تعصب، تنگ نظری اور سفاکی کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔ تاریخ ایسے باقاعدہ سند یافتہ افراد کی مثالوں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے اپنے علم اور تخصص کو انسانیت کے نفع کے بجائے تخریب اور معاشرتی بگاڑ کے لیے استعمال کیا۔ پس سب سے مثالی صورت یہی ہے کہ انسان ڈگری حاصل کرے، تعلیم سے آراستہ ہو، اور ان دونوں کا حاصل اس کے شعور اور کردار میں نظر آئے۔

شعور کی سب سے بڑی اور بنیادی نشانی عاجزی ہے۔ عظیم مفکر سقراط کے مطابق حقیقی دانائی کی ابتدا ہی اس شعور سے ہوتی ہے کہ انسان یہ تسلیم کرے کہ وہ کچھ نہیں جانتا۔ شعور یہ سکھاتا ہے کہ علم کا تکبر نہیں بلکہ عاجزی ہونی چاہیے، جیسا کہ حدیثِ نبوی ﷺ میں خبردار کیا گیا ہے کہ "جس کے دل میں رائی کے دانے برابر بھی تکبر ہوگا، وہ جنت میں داخل نہ ہوگا۔" (صحیح مسلم، حدیث نمبر: 91)۔ سچا شعور انسان کے اندر وسعت، انکسار اور جھکاؤ پیدا کرتا ہے، بالکل اسی پھل دار درخت کی طرح جو پھل آنے پر جھک جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ باطن کی یہی بیداری انسان کو یہ باور کراتی ہے کہ وہ تنہا اس دنیا کا محور نہیں ہے۔ شعور اپنے حق کے ساتھ ساتھ دوسرے کے دکھ درد کا احساس ہی اصل انسانیت بتاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی اس حقیقت کو نکھار کر سامنے لاتا ہے کہ "تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔" (صحیح بخاری، حدیث نمبر: 13؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر: 45)۔ جب تعلیم اور ڈگری اس نبوی اور فکری شعور کی آغوش میں آ کر ملتے ہیں، تب علم نافع بنتا ہے اور ایک صالح، باوقار اور پرامن معاشرہ پروان چڑھتا ہے۔