ہفتہ، 17 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ٹین ایج میں ہارمونز سے جذباتی و نفسیاتی تبدیلیاں ،تحریر: ڈاکٹر نازیہ ندیم

نقطہ نظر
dr nazia nadeem

انسانی زندگی کا سفر بے شمار موڑ اور بدلتے موسموں سے عبارت ہے، مگر بچپن سے جوانی کی طرف منتقلی کا مرحلہ، جسے عام زبان میں ’ٹین ایج‘ (Teenage) یا نوجوانی کہا جاتا ہے، انسان کی اندرونی دنیا میں ایک برپا ہونے والے زلزلے کی مانند ہوتا ہے۔ یہ وہ عمر ہوتی ہے جہاں جسم میں پوشیدہ حیاتیاتی کارخانے اچانک ایک ایسی تیز رفتار سے کام کرنا شروع کر دیتے ہیں جس کا سامنا نوزائیدہ جوان کے لیے سمجھنا اور سنبھالنا بے حد دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ دور ہے جہاں اکثر والدین کو اپنے اچھے بھلے، فرمانبردار اور پرسکون بچوں کے رویوں میں ایک غیر متوقع اور اچانک تبدیلی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بچہ بات بات پر چڑچڑانے لگتا ہے، تنہائی پسند ہو جاتا ہے، یا پھر اس کے اندر عجیب و غریب قسم کا غصہ اور جارحیت جھلکنے لگتی ہے۔ اکثر گھرانوں میں اس رویے کو بدتمیزی، سرکشی یا تربیت کی کمی سے تعبیر کیا جاتا ہے، جبکہ سائنسی اور طبعی حقیقت یہ ہے کہ یہ تبدیلی کسی ارادی سرکشی کا نتیجہ نہیں بلکہ جسم کے اندر برپا ہونے والے ہارمونز (Hormones) اور دماغی ساخت کے طوفان کا قدرتی شاخسانہ ہے۔


بلوغت کے آغاز کے ساتھ ہی انسانی جسم میں پٹیوٹری گلینڈ (Pituitary Gland) کے اشارے پر صنف کے لحاظ سے مخصوص ہارمونز کا اخراج کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ لڑکوں میں ٹیسٹوسٹیرون (Testosterone) کی فراوانی جہاں جسمانی طاقت، پٹھوں کی نشوونما اور آواز کے بھاری پن کا باعث بنتی ہے، وہاں ان کے اندر جوش، شدید مسابقت اور بعض اوقات بے جا جارحیت کو بھی جنم دیتی ہے۔ دوسری طرف لڑکیوں میں ایسٹروجن (Estrogen) اور پروجیسٹرون (Progesterone) کی مقدار میں مسلسل اتار چڑھاؤ ان کے جسمانی ساخت کے ساتھ ساتھ مزاج میں شدید بے ثباتی (Mood Swings) کا سبب بنتا ہے۔ ہارمونز کے اس اچانک اور زبردست اخراج کی وجہ سے نوجوان اکثر اپنے ہی اندر ایک نامعلوم بے چینی محسوس کرتے ہیں۔ اس حیاتیاتی طوفان کا سب سے گہرا اثر انسانی دماغ کی ساخت اور اس کی کارکردگی پر پڑتا ہے۔


دماغی سائنس (طب) کی جدید تحقیق بتاتی ہے کہ نوجوانی کے اس دور میں دماغ کے تمام حصے ایک ساتھ بالغ نہیں ہوتے۔ انسانی جذبات، خوف، غصے، جوش اور بقا کے بنیادی احساسات کو کنٹرول کرنے والا حصہ جسے امیگڈالا (Amygdala) کہا جاتا ہے، اس عمر میں غیر معمولی طور پر متحرک اور حساس ہوتا ہے۔ اس کے برعکس دماغ کا وہ حصہ جو عقل، منطق، دور اندیشی، نفع و نقصان کے تخمینے اور خود پر ضبط قائم رکھنے (Self-Control) کا ذمہ دار ہے، یعنی پری فرنٹل کورٹیکس (Prefrontal Cortex)، وہ پچیس سال کی عمر تک پہنچ کر مکمل طور پر تیار ہوتا ہے۔ اس عدم توازن کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب نوجوان کسی تجربے، غصے یا جذباتی کیفیت سے گزرتا ہے تو اس کا عقل پر مبنی حصہ ابھی زیرِ تعمیر ہونے کی وجہ سے بروقت مداخلت نہیں کر پاتا، اور جذباتی مرکز یعنی امیگڈالا فوراً اپنا ردِعمل ظاہر کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹین ایج میں سوچنے سے پہلے عمل کر بیٹھنے، خطرہ مول لینے ، تیز رفتار ڈرائیونگ کرنے یا جذباتی فیصلوں کی طرف مائل ہونے کا رجحان انتہائی غالب رہتا ہے۔


اس سائنسی حقیقت کے ساتھ ساتھ نوجوان کے دماغ کا انعامی نظام (Reward System) بھی بے حد فعال ہو جاتا ہے جہاں ڈوپامائن (Dopamine) نامی کیمیائی مادہ سنسنی اور نئی چیزوں کی تلاش کا اشتیاق بڑھا دیتا ہے۔ اسی عمر میں نیند لانے والا ہارمون میلاٹونین (Melatonin) بالغوں کے مقابلے میں دو گھنٹے تاخیر سے خارج ہونا شروع ہوتا ہے، جس کے باعث نوجوانوں کو رات گئے تک نیند نہیں آتی اور وہ صبح دیر سے اٹھنے کی طرف مائل ہوتے ہیں، جسے اکثر سستی سمجھ کر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اسی دوران دوستوں اور ہم عمروں کی قبولیت کا احساس اس قدر شدید ہو جاتا ہے کہ دوستوں کے دباؤ یا ان سے الگ تھلگ ہونے کا خوف دماغ کو اسی طرح تکلیف پہنچاتا ہے جیسے کوئی جسمانی چوٹ لگی ہو۔ یہ تمام عوامل مل کر ایک نوجوان کے اندر شدید جذباتی اور نفسیاتی کشمکش برپا کر دیتے ہیں جس میں وہ اپنوں کی ہمدردی اور رہنمائی کا محتاج ہوتا ہے نہ کہ ڈانٹ ڈپٹ اور تحقیر (بے عزتی)کا۔


اس حساس اور معرکہ الآرا مرحلے میں جہاں نفسیاتی کونسلنگ اور ہمدردانہ گفتگو کی بے حد ضرورت ہوتی ہے، وہاں مریض کے جسمانی و ذہنی توازن کو قائم کرنے کے لیے ہومیوپیتھک طریقہ علاج ایک بہترین، بے ضرر اور قدرتی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ ہومیوپیتھی چونکہ انسان کو بحیثیتِ مجموعی دیکھتی ہے اور فرد کے مخصوص مزاج و علامات کے مطابق علاج تجویز کرتی ہے، اس لیے ٹین ایج کے ان جذباتی طوفانوں کو شفا بخشنے میں اس کے نتائج بے حد نمایاں اور سود مند ثابت ہوتے ہیں۔


اگر کسی نوجوان میں بلوغت کے دور میں شدید غصہ، ضد، چڑچڑا پن اور ضدی رویہ غالب آ جائے، ذرا سی بات پر آپے سے باہر ہونے کا رجحان ہو اور وہ کسی کی نصیحت یا بات سننے کو تیار نہ ہو تو 'کیمومیلا' (Chamomilla) ایسے بد مزاج اور جذباتی طور پر برہم نوجوانوں کے لیے اکثیر کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی طرح اگر نوجوانی کے اس مرحلے پر کوئی لڑکی شدید جذباتی حساسیت کا شکار ہو، مزاج میں لمحہ بہ لمحہ تبدیلی آئے، کبھی اچانک رو پڑے اور کبھی مسکرانے لگے، اور ساتھ میں خاموشی و تنہائی پسند کرنے لگے تو 'پلساٹیلا' (Pulsatilla) اس کے ہارمونل توازن اور جذباتی استوار کاری کے لیے بہترین دوا ثابت ہوتی ہے، خصوصاً جب مریضہ کھلی ہوا کی خواہش مند ہو۔


بعض اوقات ٹین ایج میں نوجوان اپنے جذبات، کسی صدمے، محبت میں ناکامی یا تنہائی کے احساس کو دل میں چھپا لیتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ اندر ہی اندر کڑھنے لگتے ہیں، گہرے سانس لیتے ہیں اور ان کے مزاج میں ایک سرد مہری اور اداسی چھا جاتی ہے، ایسی صورت حال میں 'اگنیشیا' (Ignatia) ان کے دبے ہوئے جذبات کو متوازن کرنے اور ذہنی دباؤ کو دور کرنے کا کام کرتی ہے۔ دوسری طرف اگر ٹین ایج کا کوئی نوجوان حد درجہ متکبر، مغرور، کسی کی بات کو خاطر میں نہ لانے والا اور چھوٹی چھوٹی باتوں کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لینے کا عادی ہو تو 'سٹافی سگیریا' (Staphysagria) اس کی اندرونی بے چینی اور چھپے ہوئے غصے کو زائل کرنے میں بے حد معاون ہوتی ہے۔


ان نوجوانوں کے لیے جو مستقبل کے حوالے سے حد سے زیادہ خوفزدہ، فکر مند، موت یا نامعلوم خطرات کے دھڑکے میں مبتلا رہتے ہیں اور جن کے اندر اچانک شدید گھبراہٹ کے دورے (Panic Attacks) پڑتے ہیں، ان کے لیے 'ایکونائٹ' (Aconite) کا استعمال فوری سکون اور ذہنی ثبات فراہم کرتا ہے۔ ایسے نوجوان جو احساسِ کمتری کا شکار رہتے ہیں، جن کے اندر خود اعتمادی کی شدید کمی ہوتی ہے اور وہ محفلوں کا سامنا کرنے یا کھل کر بات کرنے سے گھبراتے ہیں، ان کی شخصیت کو ابھارنے اور پری فرنٹل کورٹیکس کی کارکردگی کو تقویت دینے میں 'بیریٹا کارب' (Baryta Carb) اور 'سائلیشیا' (Silicea) جیسی ادویات معجزانہ اثرات دکھاتی ہیں۔


اسی طرح جن نوجوانوں میں ڈوپامائن کی طلب اور خطرہ مول لینے کی خواہش اس حد تک بڑھ جائے کہ وہ ہر وقت جنونی انداز میں سنسنی خیز کاموں کی طرف بھاگتے ہوں، ان کے جسم میں بے چینی اتنی زیادہ ہو کہ وہ ایک جگہ ٹک کر نہ بیٹھ سکیں اور ان کی راتوں کی نیندیں اڑ چکی ہوں، وہاں 'ٹیقریم' (Teucrium) یا 'زنکم میٹالکم' (Zincum Metallicum) کا انتخاب ان کے اعصابی نظام کو پرسکون کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔اس سلسلے میں نوجوانی کے تمام تر پیچیدہ مسائلی و نفسیاتی حالات، ہارمونز کے عدم توازن اور دیگر جسمانی و روایاتی الجھنوں کے بہترین حل اور شفاف و قدرتی علاج کے لیے ماہر ہومیو ڈاکٹر نازیہ ندیم سے بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔


حقیقت یہ ہے کہ ٹین ایج میں رونما ہونے والی یہ تمام تر تبدیلیاں کوئی بیماری یا مستقل بگاڑ نہیں ہیں، بلکہ یہ فطرت کا ایک تخلیقی اور ارتقائی عمل ہے جس کے ذریعے ایک بچہ بالغ انسان کے قالب میں ڈھلتا ہے۔ اس طوفانی مرحلے میں ڈانٹ ڈپٹ، سختی اور پابندیوں کے بجائے اگر سائنس، نفسیات اور مناسب ہومیوپیتھک شفائی تدابیر کو یکجا کر کے استعمال کیا جائے، تو ہم اپنے نوجوانوں کو جذباتی شکست و ریخت سے بچا کر ایک متوازن، بااعتماد اور صحت مند شخصیت کا حامل انسان بنا سکتے ہیں۔