قبر سے ایپسٹین فائلز ،تحریر: سیدہ شبانہ رضوی
نقطہ نظر
انسان جب انسان کا گوشت کھانے لگے، جب کسی کی قبر بھی مرنے کے بعد محفوظ نہ رہے، جب معصوم بچوں کا بچپن طاقتور لوگوں کی ہوس کی بھینٹ چڑھ جائے، تو سوال صرف جرم کا نہیں رہتا؛ سوال یہ بن جاتا ہے کہ آخر انسان کے اندر سے انسانیت کب اور کیسے مر جاتی ہے.
اپریل 2011ء میں پاکستان کے ضلع بھکر کے علاقے دریا خان سے دو بھائیوں، محمد عارف اور فرمان علی، کی گرفتاری کی خبر سامنے آئی۔ ان پر الزام تھا کہ وہ قبروں سے لاشیں نکال کر ان کا گوشت کھاتے تھے۔ پولیس نے ایک خاتون کی قبر سے لاش غائب ہونے کی تحقیقات کے دوران ان کے گھر سے انسانی باقیات برآمد کیں۔ اس واقعے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس وقت قانون میں انسانی گوشت کھانے کے جرم کے لیے مخصوص سزا نہ ہونے کے باعث ملزمان کے خلاف دیگر متعلقہ دفعات کے تحت کارروائی کی گئی۔ بعد کے برسوں میں بھی ان بھائیوں سے متعلق ایسے ہی سنگین واقعات رپورٹ ہوئے۔
سوچیے! جس جسم کو اہلِ خانہ کانپتے ہاتھوں سے کفن پہنا کر مٹی کے سپرد کرتے ہیں، اگر اسی قبر کو کوئی رات کی تاریکی میں کھود ڈالے تو یہ صرف لاش کی بے حرمتی نہیں، سوگوار خاندان کے زخموں پر قیامت ڈھانے کے مترادف ہے۔ اور اگر قانون کسی جرم کی ہولناکی سے پیچھے رہ جائے تو مجرم کے لیے قانون کی خاموشی بھی ایک خطرناک خلا بن سکتی ہے۔
لیکن یہ تو سفاکی کی ایک شکل تھی۔ دنیا کو اس وقت ایک اور ہولناک حقیقت کا سامنا کرنا پڑا جب امریکی سرمایہ کار جیفری ایپسٹین کے خلاف کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال اور اسمگلنگ کے مقدمات نے عالمی توجہ حاصل کی۔ اس کے جرائم، اس کے روابط اور اس سے متعلق عدالتی دستاویزات نے طاقت، دولت اور اثرورسوخ کے پیچھے چھپے ممکنہ جرائم پر سنگین سوالات اٹھائے۔ اس کی ساتھی گِسلین میکسویل کو بھی کم عمر لڑکیوں کے استحصال میں کردار پر سزا سنائی گئی۔
تاہم ایک ضروری فرق یاد رکھنا چاہیے: کسی کا نام ایپسٹین سے متعلق دستاویزات میں آ جانا بذاتِ خود اس کے جرم میں ملوث ہونے کا ثبوت نہیں۔ ہر الزام کو شواہد اور قانونی عمل کی کسوٹی پر پرکھنا ضروری ہے۔ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ مجرم کو سزا ملے، مگر محض تعلق یا ذکر کی بنیاد پر کسی کو مجرم نہ ٹھہرایا جائے۔
اب اصل سوال: یہ نفسیات کی کون سی اسٹیج ہے؟
نفسیات میں اس کیفیت کے لیے کوئی ایک مقررہ مرحلہ یا ایسی سیڑھی موجود نہیں جس کے آخری زینے پر انسان آدم خور یا جنسی درندہ بن جاتا ہو۔ انسانی لاش کو کھانے کے محرکات، جنسی استحصال، بے رحمی اور طاقت کے نشے کے پیچھے مختلف نفسیاتی اور سماجی عوامل ہو سکتے ہیں۔ بعض جرائم میں بے حسی، دوسروں کو محض اپنی خواہش پوری کرنے کا ذریعہ سمجھنا، احساسِ جرم کی کمی یا دوسروں کے دکھ سے لاتعلقی دکھائی دے سکتی ہے۔ بعض افراد میں شدید غیر معمولی جنسی رجحانات یا شخصیت سے متعلق مسائل بھی کردار ادا کر سکتے ہیں، لیکن کسی مخصوص تشخیص کے لیے باقاعدہ طبی اور نفسیاتی جانچ ضروری ہے۔
خطرہ اس وقت بڑھتا ہے جب انسان دوسرے انسان کی عزت، جسم، آزادی اور زندگی کو اپنی خواہش کے مقابلے میں بے معنی سمجھنے لگے؛ جب طاقت اسے جواب دہی سے بالاتر ہونے کا احساس دلائے؛ اور جب معاشرہ خوف، خاموشی یا مصلحت کے باعث اس کے سامنے دیوار بننے کے بجائے راستہ چھوڑ دے۔
یہاں اصل خوفناک حقیقت سامنے آتی ہے۔
انسانیت کا زوال صرف اس وقت نہیں ہوتا جب کوئی قبر کھودتا ہے۔ یہ اس وقت بھی شروع ہوتا ہے جب کسی کمزور کی چیخ سن کر بااثر لوگ خاموش رہتے ہیں، جب متاثرہ شخص کو انصاف کے بجائے بدنامی کا خوف دیا جاتا ہے، جب ادارے اپنے وقار کو مظلوم کے تحفظ سے زیادہ اہم سمجھنے لگتے ہیں، اور جب دولت یا منصب کسی شخص کے لیے احتساب سے بچنے کی ڈھال بن جائے۔
قبروں میں دفن لاشیں بول نہیں سکتیں، مگر ان کی بے حرمتی ہمارے قانون سے سوال کرتی ہے۔ استحصال کا شکار بچے ہمیشہ اپنی تکلیف بیان نہیں کر پاتے، مگر ان کی خاموشی ہمارے ضمیر پر دستک دیتی ہے۔
شاید انسان کی سب سے خوفناک حالت وہ نہیں جب وہ درندہ بن جائے، بلکہ وہ ہے جب وہ اپنے اندر کے درندے کو پہچاننے سے انکار کر دے۔
کیونکہ تہذیب کی اصل پہچان بلند عمارتیں، دولت کے انبار اور طاقتور نام نہیں؛ اس کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے سب سے کمزور انسان کی حفاظت کتنی دیانت داری سے کرتی ہے۔
اور جس معاشرے میں مظلوم کی آہ سے زیادہ طاقتور کی حیثیت اہم ہو جائے، وہاں سوال یہ نہیں رہتا کہ انسانیت کہاں جا رہی ہے؛ سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا انسانیت ابھی زندہ بھی ہے؟
مزید پڑھیں



