غزہ پر جاری ظلم اور امت مسلمہ کی خاموشی،تحریر: شبنم مرزا
نقطہ نظر
غزہ ایک عرصے سے عالمی سیاست کا مرکز بن چکا ہے، جہاں پر اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں پر ظلم و ستم کی داستانیں سنائی جاتی ہیں۔ غزہ کی سرزمین پر فلسطینی عوام بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں، اور روزانہ کی بنیاد پر ان کے حقوق کی پامالی کی جا رہی ہے۔ ہر روز بمباری، انسانی جانوں کا ضیاع، اور وسائل کی کمی غزہ کے عوام کی زندگی کو اجیرن بناتی جا رہی ہے۔ اس شدید حالات میں سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ امت مسلمہ کی اکثریت اس ظلم کے خلاف خاموش نظر آتی ہے۔ اس خاموشی کا مختلف سیاسی، اقتصادی، اور سماجی وجوہات سے تعلق ہے، لیکن اس کے باوجود، غزہ کے عوام کی حمایت اور ان کے حقوق کی بازیابی کے لئے مسلم دنیا کو اٹھ کھڑا ہونے کی ضرورت ہے۔
غزہ کے شھیدوں تم شھید ہو کر امر ہم زندہ رہ کر شرمندہ مردوں سے بدتر ہماری آنکھیں نم ناک ہیں اقوام متحدہ کے انصاف پر کیا سوال اٹھائیں
غزہ میں ہونے والی جنگوں، بمباریوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی ایک طویل تاریخ ہے۔ فلسطینی عوام تقریباً 15 سالوں سے بلاوقفہ اسرائیلی محاصرے کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے ان کے لیے خوراک، ادویات، پانی، اور دیگر بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی انتہائی مشکل ہو چکی ہے۔ غزہ کے لوگ ایک خوفناک صورتحال میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں نہ تو سکونت کی کوئی جگہ محفوظ ہے اور نہ ہی بچوں کا مستقبل روشن دکھائی دیتا ہے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے کیے جانے والے حملوں میں لاکھوں افراد ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں، اور عالمی برادری کی جانب سے اس ظلم کے خلاف مؤثر اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے یہ سلسلہ جاری ہے۔
امت مسلمہ کی خاموشی پر غور کرنا ضروری ہے۔ ایسا نہیں کہ مسلم دنیا کو غزہ کی صورتحال کا علم نہیں، بلکہ وہ اس معاملے میں زیادہ تر سیاسی اور اقتصادی وجوہات کی بنا پر بے حس نظر آتی ہے۔ کئی مسلم ممالک اپنے داخلی مسائل میں الجھے ہوئے ہیں اور ان کے لیے غزہ کی حمایت کرنا یا اس معاملے میں کسی قسم کی مؤثر پوزیشن اختیار کرنا مشکل ہو چکا ہے۔ بعض مسلم ممالک کی جانب سے اپنے اقتصادی تعلقات اور فوجی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ اسرائیل کے خلاف کھل کر نہیں بولتے۔
کوئی جاکر امت مسلمہ کے جرنیلوں کو اس آیت کا بھی بتا دو کہ یہ آیت بھی قرآن کا حصہ ہے اس پر بھی عمل کرو
سورۃ التوبہ، آیت 41:
انفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ"
ترجمہ:
نکل کھڑے ہو، خواہ ہلکے ہو یا بھاری، اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہــــاد کرو، یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔"
اس کے علاوہ، کچھ مسلم حکومتوں کے درمیان سیاسی تضادات اور آپس کی کشمکش بھی ایک بڑی وجہ ہیں کہ امت مسلمہ کی جانب سے غزہ کے مظلوموں کے حق میں یکجہتی کا مظاہرہ نہیں کیا جا رہا۔ ان اندرونی مسائل نے امت مسلمہ کو اس قدر تقسیم کر دیا ہے کہ غزہ جیسے سنگین مسئلے پر یکجا موقف اپنانا دشوار ہو گیا ہے
اسلامی ممالک کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیے اور غزہ کے عوام کے حق میں عالمی سطح پر آواز بلند کرنی چاہیے۔ مسلمانوں کا ایمان ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کی مدد کریں، چاہے وہ جہاں بھی ہوں۔ غزہ کے عوام کے ساتھ اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ صرف ایک جغرافیائی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ ایک انسانی مسئلہ ہے جس پر انسانیت کو یکجہتی دکھانی چاہیے۔ مسلمان ممالک اگر ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو جائیں تو عالمی سطح پر غزہ کے عوام کے حق میں مضبوط آواز اٹھائی جا سکتی ہے۔
1. فلسطینی صحافی خلیل ابو الیاس نے فیس بک پر لکھا:
"چند ہی گھنٹے باقی ہیں اور غزہ صفحۂ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔ تم ہمیں صرف جنت میں پاؤ گے۔ خداحافظ اُن سب سے جو تاریخ کے سب سے ظالم 'عرب' کہلائیں گے۔"
2. غزہ کی ایک فلسطینی لڑکی نے لکھا:
"ہماری خبریں اب سے تمہیں پریشان نہیں کریں گی۔ یہ صرف چند دنوں کی بات ہے، اور سب ختم ہو جائیں گے۔
اللہ اُس کو ہرگز معاف نہ کرے جو ہمارے ظلم پر خاموش رہا۔"
3. ایک فلسطینی شیخ نے کہا:
"میں نے ابھی اپنی بیٹی کو دفنایا ہے—بغیر سر کے۔" قارئین یہ سب پڑہ کر میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے
عالمی برادری کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے غزہ کے مسئلے پر خاموشی اختیار نہیں کر سکتے۔ جب تک عالمی طاقتیں اس ظلم کے خلاف مؤثر اقدامات نہیں اٹھاتی، غزہ میں فلسطینی عوام کی حالت بدتر ہی ہو گی۔ عالمی برادری کو نہ صرف اسرائیلی حکومت کو جوابدہ ٹھہرانا ہوگا بلکہ فلسطینی عوام کے لیے حقوق کی بازیابی کے لیے عملی اقدامات بھی کرنے ہوں گے۔
عوامی سطح پر بھی غزہ کے عوام کے حق میں آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ مسلم دنیا کے عوام کو چاہیے کہ وہ سڑکوں پر نکل کر احتجاج کریں، عالمی سطح پر غزہ کے حقوق کی حمایت کے لیے دباؤ ڈالیں، اور عالمی رہنماؤں کو اس ظلم کے خاتمے کے لیے عملی قدم اٹھانے کی ترغیب دیں۔ اس کے علاوہ، میڈیا اور سوشل میڈیا کا استعمال کر کے غزہ کے مسئلے کو اجاگر کیا جا سکتا ہے تاکہ دنیا بھر میں اس بارے میں آگاہی پھیل سکے۔
غزہ پر جاری ظلم اور امت مسلمہ کی خاموشی ایک سنگین صورتحال کو ظاہر کرتی ہے، جس کا اثر نہ صرف فلسطینی عوام پر پڑ رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر انسانیت کے لئے بھی ایک دھچکہ ہے۔ مسلمانوں کو اس ظلم کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہیے اور فلسطینیوں کے حقوق کے لئے آواز بلند کرنی چاہیے۔ یہی وقت ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کریں اور غزہ کے مظلوموں کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ اگر امت مسلمہ ایک ہو کر اس مسئلے پر آواز اٹھائے تو یہ ظلم ختم ہو سکتا ہے اور فلسطینی عوام کو انصاف مل سکتا ہے۔
مزید پڑھیں




