نیویارک: 5 سالہ بیٹے کی موجودگی میں امریکی اہلکاروں کی فائرنگ، شخص زخمی

نیویارک: امریکی شہر نیویارک کے علاقے برونکس میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے اہلکاروں نے کارروائی کے دوران گاڑی میں موجود ایک شخص پر فائرنگ کردی، جس سے وہ زخمی ہوگیا۔ گاڑی کی پچھلی نشست پر اس کا 5 سالہ بیٹا بھی موجود تھا، تاہم بچہ محفوظ رہا۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق فائرنگ کا واقعہ شام 4 بجے کے بعد برونکس کے علاقے ماربل ہل میں پیش آیا۔ وفاقی حکام کا کہنا ہے کہ امیگریشن اہلکاروں نے گاڑی میں سوار شخص کو باہر نکلنے کا حکم دیا، لیکن اس نے مبینہ طور پر حکم ماننے سے انکار کیا اور اپنی گاڑی دو سرکاری گاڑیوں سے ٹکرا دی۔حکام کے مطابق ڈرائیور نے بعد ازاں گاڑی اہلکاروں کی جانب بڑھائی، جس پر اہلکاروں نے اپنی اور دیگر افراد کی جان کو خطرہ محسوس کرتے ہوئے فائرنگ کردی۔حکام نے زخمی شخص کی شناخت 28 سالہ آسکر بیلگال کے نام سے کی ہے، جن کا تعلق ڈومینیکن ریپبلک سے بتایا گیا ہے۔ نیویارک پولیس کمشنر جیسیکا ٹش کے مطابق فائرنگ کے دوران کم از کم سات گولیاں چلائی گئیں، جن میں سے ایک آسکر بیلگال کی بائیں آنکھ کے نیچے گردن میں لگی۔ ان کی چوٹ کو سطحی قرار دیا گیا ہے۔ واقعے میں دو وفاقی اہلکار بھی زخمی ہوئے، جنہیں طبی امداد کے بعد اسپتال سے فارغ کردیا گیا۔
حکام کے مطابق فائرنگ کے وقت بچے کی موجودگی کا اہلکاروں کو علم نہیں تھا۔ واقعے کے بعد پولیس نے بچے کی تلاش شروع کی اور شام سات بجے سے قبل اسے نیویارک کے قریب یونکرز کے علاقے میں ایک بیوٹی سیلون سے بحفاظت تلاش کرلیا، جہاں وہ اپنی خالہ کی دیکھ بھال میں تھا۔
آسکر بیلگال کے وکلا نے جمعے کو وفاقی عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں قانونی طور پر مؤثر وارنٹ اور ان کے انفرادی حالات کا جائزہ لیے بغیر گرفتار کیا گیا۔ امریکی ڈسٹرکٹ جج جے پال اوٹکن نے فی الحال انہیں امریکا میں رہنے دینے کا حکم دیا ہے۔وکلا کے مطابق بیلگال کو بروکلین کے حراستی مرکز منتقل کردیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنے وکلا کو بتایا کہ وہ تکلیف میں ہیں، ان کے جسم میں اب بھی گولی موجود ہے اور وہ اپنے خاندان سے ملنا چاہتے ہیں۔ ان کے وکیل ہیرولڈ سولس کے مطابق بیلگال نے سب سے پہلے اپنے پانچ سالہ بیٹے کی خیریت دریافت کی۔امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کا کہنا ہے کہ بیلگال کا تعلق مبینہ طور پر ٹرینیٹیریوس گینگ سے ہے اور وہ گزشتہ سال کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے ایک اہلکار پر فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات میں بھی زیرِ تفتیش تھے۔ حکام نے ان کے خلاف سابقہ گرفتاریوں اور منشیات و اسلحے سے متعلق الزامات کا بھی ذکر کیا ہے۔
نیویارک کے میئر زوہران ممدانی نے واقعے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آئی سی ای کی کارروائیوں سے شہر میں خوف اور بے چینی بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیرِ ہوم لینڈ سکیورٹی مارک وین مولن سے بیلگال کی رہائی اور نیویارک میں آئی سی ای کی کارروائیاں روکنے کے معاملے پر بات کی، تاہم مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے۔نیویارک کی گورنر کیتھی ہوکل نے بھی واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فائرنگ کی تمام دستیاب باڈی کیمرا ویڈیوز عوام کے سامنے لانے اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب وزیرِ ہوم لینڈ سکیورٹی نے اہلکاروں کے اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک کے امیگریشن اور فوجداری قوانین پر عمل درآمد کر رہے تھے۔واقعے کی تحقیقات وفاقی حکام نے اپنے ہاتھ میں لے لی ہیں، جبکہ نیویارک پولیس کا کہنا ہے کہ اس کے اہلکار فائرنگ کے واقعے میں براہِ راست ملوث نہیں تھے اور بعد میں جائے وقوعہ پر پہنچ کر شواہد جمع کرنے اور ہجوم کو کنٹرول کرنے میں مصروف رہے۔
مزید پڑھیں





