حجاب فرض ہے۔۔۔ کس نے کہا؟
میں نے کہا!
ہاں، میں نے کہا کہ حجاب فرض ہے۔ مگر حجاب صرف سر پر دوپٹہ اوڑھ لینے، چہرہ چھپا لینے یا لباس سے جسم ڈھانپ لینے کا نام نہیں۔
ہم نے حجاب کو صرف عورت کے لباس تک محدود کر دیا، حالاں کہ معاشرے کو نگاہوں کے حجاب کے ساتھ زبانوں، دلوں اور رویوں کے حجاب کی بھی ضرورت ہے۔
حجاب تو وہ احساس ہے جو انسان کو اپنی خوشیوں کے اظہار سے پہلے دوسروں کے دکھ یاد دلاتا ہے۔ وہ شعور ہے جو ہمیں سکھاتا ہے کہ ہماری کسی نعمت کی نمائش کسی دوسرے کے زخم کو تازہ نہ کر دے۔
حجاب صرف جسم کا نہیں، احساسات کا بھی ہوتا ہے۔ صرف نگاہوں کا نہیں، لفظوں، رویوں اور خواہشوں کا بھی ہوتا ہے۔
کسی بھوکے پڑوسی کے سامنے اپنے بھرے پیٹ کا ذکر نہ کرنا، اور اس کے گھر تک اپنے کھنکتے ہوئے برتنوں کی آواز نہ پہنچنے دینا بھی حجاب ہے۔ کیونکہ بھوک صرف پیٹ میں نہیں ہوتی، کبھی کبھی کسی دوسرے کے دسترخوان کو دیکھ کر روح بھی بھوکی رہ جاتی ہے۔ تمہاری نعمت تمہارے لیے شکر کا سبب ہونی چاہیے، کسی دوسرے کے لیے احساسِ محرومی کا نہیں۔
بن باپ کے بچوں کے سامنے اپنے بچے کو بار بار سینے سے لگا کر یہ احساس نہ دلانا کہ تمہارے پاس وہ سب کچھ ہے جو ان کے پاس نہیں، حجاب ہے۔ ذرا سوچو، جس بچے نے باپ کی انگلی پکڑ کر چلنا تھا، وہ اگر تنہا اپنے قدم سنبھالنا سیکھ رہا ہے تو اس کے سامنے اپنی خوش بختی کا شور کیوں؟ محبت کرو، ضرور کرو، مگر اتنی خاموشی سے کہ کسی یتیم کے دل میں محرومی کا کوئی نیا چراغ نہ جل اٹھے۔
ٹوٹے ہوئے رشتوں والے دوستوں کے سامنے اپنے جڑے ہوئے رشتوں کا بار بار ذکر نہ کرنا بھی حجاب ہے۔ ہر شخص کی زندگی میں کوئی نہ کوئی ایسا گوشہ ہوتا ہے جہاں یادیں آج بھی آنسو بن کر گرتی ہیں۔ کسی کے لیے بہن بھائیوں کی محبت ایک نعمت ہے، تو کسی کے لیے ان کے نام بھی درد کی دستک ہیں۔ اپنی خوشیوں پر پابندی مت لگاؤ، مگر کسی کے زخموں پر اپنی خوشیوں کا نمک بھی مت چھڑکو۔
کسی بے اولاد عورت کے سامنے اپنے بچوں کی تعداد گنوا کر اپنی تکمیل کا جشن منانا حجاب کے منافی ہے۔ کسی بیروزگار کے سامنے اپنی آسائشوں کی داستان سنانا، کسی مقروض کے سامنے اپنی خریداریوں کے قصے دہرانا، کسی بیمار کے سامنے اپنی صحت پر اترانا، کسی تنہا انسان کے سامنے اپنے چاہنے والوں کی فہرست کھول کر بیٹھ جانا۔۔۔ یہ سب وہ لمحے ہیں جہاں انسان کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہوتا ہے، مگر اسے اپنے لفظوں پر حجاب ڈال لینا چاہیے۔
یاد رکھو! ہر سچ ہر جگہ کہنا ضروری نہیں ہوتا، ہر خوشی ہر محفل میں سنانا ضروری نہیں ہوتا، اور ہر نعمت کی نمائش شکر نہیں کہلاتی۔
کبھی کبھی خاموشی سب سے خوب صورت صدقہ بن جاتی ہے۔ کبھی کسی کی محرومی کو محسوس کر لینا عبادت کی سی کیفیت پیدا کر دیتا ہے۔ کبھی اپنی خوشی کو تھوڑا سا چھپا لینا کسی دوسرے کے دل کو ٹوٹنے سے بچا لیتا ہے۔
اور ہاں! حجاب یہ بھی ہے کہ کسی کے راز کو اپنی محفل کی زینت نہ بناؤ، کسی کی کمزوری کو اس کی پہچان نہ بناؤ، کسی کی غلطی کو اس کی پوری شخصیت کا تعارف نہ بناؤ۔ کیونکہ انسان لباس سے پہلے اپنے کردار میں بے پردہ ہوتا ہے، اور اس کا اصل حسن اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب اسے کسی کے عیب معلوم ہوں، مگر وہ انہیں چھپانا جانتا ہو۔
ہم نے حجاب کو صرف عورت کے لباس تک محدود کر دیا، حالاں کہ معاشرے کو نگاہوں کے حجاب کے ساتھ زبانوں، دلوں اور رویوں کے حجاب کی بھی ضرورت ہے۔
کیونکہ اصل حجاب وہ ہے جو تمہیں کسی کے سامنے بے حس ہونے سے روک دے۔
وہ حجاب جو تمہاری زبان کو کسی کے دل پر وار کرنے سے پہلے خاموش کر دے۔ وہ حجاب جو تمہیں اپنی خوشی میں بھی دوسروں کا غم یاد دلا دے۔ وہ حجاب جو تمہیں نعمت ملنے پر مغرور نہیں، شکر گزار بنائے۔
سو، پوچھتے ہو حجاب فرض ہے؟
میں کہتی ہوں، اپنے لباس کا حجاب اپنی جگہ، مگر اپنے احساسات کو بے پردہ مت ہونے دو۔ اپنے کردار کو اتنا خوب صورت بناؤ کہ تمہارے پاس بیٹھنے والا کوئی شخص اپنی محرومیوں کے بوجھ تلے مزید نہ دبے، بلکہ تمہاری موجودگی میں خود کو کمتر محسوس کرنے کے بجائے انسان ہونے کا حوصلہ پائے۔
کیونکہ حجاب صرف خود کو چھپانے کا نام نہیں، کبھی کبھی کسی دوسرے کے درد کو چھپانے، اس کی عزت بچانے اور اس کے دل کو ٹوٹنے سے بچانے کا نام بھی ہے۔
اور جس دن ہم نے یہ حجاب سیکھ لیا، اس دن شاید ہمیں یہ سمجھنے کے لیے کسی واعظ کی ضرورت نہیں رہے گی کہ انسانیت کا سب سے خوب صورت حجاب لباس، بس احساس ہے۔






