بچپن زندگی کا وہ خوبصورت زمانہ ہے جس میں خوف کی جگہ تجسس، پریشانی کی جگہ مسکراہٹ اور بے اعتمادی کی جگہ محبت ہونی چاہیے۔ مگر افسوس کہ ہمارے معاشرے میں بہت سے بچے اپنی معصوم خواہشوں کے ساتھ ایسے خوف بھی اٹھائے پھر رہے ہیں جنہیں بیان کرنے کے لیے ان کے پاس الفاظ تک نہیں ہوتے۔ کبھی کسی اسکول میں ہراسانی کا واقعہ سامنے آتا ہے، کبھی کسی مدرسے میں، کبھی گلی محلے میں اور کبھی گھر کی چار دیواری کے اندر۔ ہر واقعے کے بعد چند روز شور اٹھتا ہے، مذمتی بیانات جاری ہوتے ہیں اور پھر خاموشی چھا جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک ہمارے بچے اس خاموشی کی قیمت ادا کرتے رہیں گے؟
بچوں کو ہراساں کرنا محض ایک فرد کے ساتھ زیادتی نہیں بلکہ اس کے اعتماد، شخصیت اور مستقبل پر حملہ ہے۔ بعض زخم جسم پر دکھائی دیتے ہیں جبکہ بعض ایسے ہوتے ہیں جو برسوں ذہن میں زندہ رہتے ہیں۔ ایک بچہ جو خوف کے باعث بول نہیں پاتا، ضروری نہیں کہ وہ محفوظ بھی ہو۔ اس کی خاموشی کے پیچھے دھمکی، شرمندگی، بے بسی یا کسی اپنے کو کھو دینے کا ڈر بھی ہوسکتا ہے۔
ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم بچوں کو بڑوں کا احترام کرنا تو سکھاتے ہیں مگر یہ نہیں بتاتے کہ احترام اور اندھی اطاعت میں فرق ہوتا ہے۔ ہم انہیں خاموش رہنے، بات ماننے اور سوال نہ کرنے کی تربیت دیتے ہیں لیکن یہ نہیں سمجھاتے کہ اگر کوئی شخص ان کی ذاتی حدود پامال کرے تو انہیں انکار کرنے اور مدد مانگنے کا پورا حق حاصل ہے۔ یہی وہ خلا ہے جس سے غلط نیت رکھنے والے افراد فائدہ اٹھاتے ہیں۔
بچوں کے تحفظ کی پہلی درس گاہ گھر ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کے ساتھ ایسا دوستانہ تعلق قائم کریں جس میں بچہ کسی خوف کے بغیر اپنی پریشانی بیان کرسکے۔ اکثر بچے اس لیے حقیقت چھپاتے ہیں کہ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ گھر والے ڈانٹیں گے، الزام لگائیں گے یا ان کی بات پر یقین نہیں کریں گے۔ ہمیں بچوں کو یہ اعتماد دینا ہوگا کہ اگر ان کے ساتھ کوئی نامناسب حرکت ہوتی ہے تو قصور ان کا نہیں اور نہ ہی انہیں شرمندہ ہونے کی ضرورت ہے۔
یہاں ایک اور اہم پہلو بھی توجہ چاہتا ہے۔ ہمارے ہاں بچوں کی حفاظت کے نام پر انہیں اجنبی افراد سے دور رہنے کی تلقین کی جاتی ہے، حالانکہ ہراسانی کرنے والا شخص ہمیشہ اجنبی نہیں ہوتا۔ بعض اوقات وہ کوئی جاننے والا، رشتہ دار، استاد یا ایسا فرد بھی ہوسکتا ہے جس پر خاندان کو مکمل اعتماد ہو۔ اس لیے ضروری ہے کہ بچوں کو شخصیت یا رشتے کی بنیاد پر نہیں بلکہ رویے کی بنیاد پر محفوظ اور غیر محفوظ صورتحال میں فرق کرنا سکھایا جائے۔
تعلیمی اداروں کی ذمہ داری بھی کسی صورت کم نہیں۔ اسکول صرف نصابی تعلیم دینے کے مراکز نہیں بلکہ بچوں کی شخصیت سازی اور تحفظ کے ضامن بھی ہیں۔ ہر تعلیمی ادارے میں بچوں کے تحفظ کی واضح پالیسی ہونی چاہیے۔ اساتذہ اور دیگر عملے کی مناسب جانچ پڑتال، شکایات درج کرانے کا محفوظ نظام، تربیت یافتہ مشیر اور شکایت کی صورت میں فوری کارروائی ضروری ہے۔ بچوں کو عمر کے مطابق ذاتی حدود، محفوظ اور غیر محفوظ لمس اور مدد حاصل کرنے کے طریقوں سے آگاہ کیا جائے۔ ایسی تعلیم کو بے حیائی سمجھنے کے بجائے زندگی کی بنیادی ضرورت تسلیم کرنا ہوگا۔
موجودہ دور میں ہراسانی صرف جسمانی ماحول تک محدود نہیں رہی۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ نے بچوں کے لیے نئے خطرات پیدا کیے ہیں۔ جعلی شناختوں کے ذریعے دوستی، ذاتی تصاویر کا مطالبہ، دھمکیاں اور آن لائن بلیک میلنگ ایسے مسائل ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کی ڈیجیٹل سرگرمیوں سے باخبر رہیں، ان کی رہنمائی کریں اور انہیں یہ اعتماد دیں کہ آن لائن کسی پریشان کن تجربے کی صورت میں وہ بلاجھجک مدد مانگ سکتے ہیں۔ محض موبائل چھین لینا مسئلے کا مستقل حل نہیں، اصل ضرورت شعور اور اعتماد پیدا کرنے کی ہے۔
اس مسئلے کی روک تھام میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار نہایت اہم ہے۔ متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کو شکایت درج کرانے کے لیے ایسے طریقہ کار کی ضرورت ہے جہاں انہیں بار بار تکلیف دہ سوالات، غیر ضروری تاخیر اور سماجی دباؤ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ مقدمات کی بروقت تفتیش، شواہد کا تحفظ، متاثرہ بچے کی شناخت کی رازداری اور قانون کے مطابق مجرموں کو سزا دلوانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ انصاف میں غیر ضروری تاخیر نہ صرف متاثرہ خاندان کا اعتماد مجروح کرتی ہے بلکہ دوسرے بچوں کے تحفظ کو بھی خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
میڈیا اور سوشل میڈیا کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنا ہوگی۔ کسی واقعے کو سنسنی خیز انداز میں پیش کرنا، متاثرہ بچے کی شناخت ظاہر کرنا یا اس کی ذاتی زندگی کو عوامی بحث کا موضوع بنانا صحافت نہیں۔ ہمیں ایسے واقعات پر گفتگو ضرور کرنی چاہیے لیکن اس انداز میں کہ متاثرہ بچے کی عزت نفس اور مستقبل محفوظ رہیں۔ معاشرے میں آگاہی پیدا کرنا ضروری ہے، کسی کے دکھ کو تماشا بنانا نہیں۔
سب سے بڑھ کر ہمیں اپنی اجتماعی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔ جب کسی بچے کے ساتھ ہراسانی کا واقعہ پیش آتا ہے تو بعض لوگ مجرم کے کردار پر سوال اٹھانے کے بجائے متاثرہ بچے کے لباس، عادات یا خاندان کو زیر بحث لے آتے ہیں۔ یہ رویہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ ایک بچے کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اس کی بات سننا، اسے سنجیدگی سے لینا اور مناسب مدد فراہم کرنا ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔
مساجد، مدارس، اسکولوں، سماجی تنظیموں اور مقامی سطح کی کمیٹیوں کو بھی بچوں کے تحفظ کے لیے مشترکہ آگاہی مہم چلانی چاہیے۔ والدین اور اساتذہ کی تربیتی نشستیں ہوں، بچوں کو ہنگامی صورتحال میں مدد حاصل کرنے کے طریقے بتائے جائیں اور شکایات پر پردہ ڈالنے کے بجائے ذمہ دارانہ کارروائی کی جائے۔ بچوں کی حفاظت کسی ایک محکمے کا کام نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
ہم اکثر کہتے ہیں کہ بچے ہمارا مستقبل ہیں لیکن مستقبل صرف خوبصورت نعروں سے محفوظ نہیں ہوتا۔ اس کے لیے آج عملی فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔ ہمیں ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہوگا جہاں بچہ اپنے گھر میں بھی محفوظ ہو، تعلیمی ادارے میں بھی اور کھیل کے میدان میں بھی۔
یاد رکھیے! بچوں کو صرف اچھا انسان بننے کی تربیت دینا کافی نہیں، انہیں برے رویوں سے خود کو محفوظ رکھنے کا شعور دینا بھی ضروری ہے۔
بچپن ایک بار ملتا ہے۔ اگر ہم اسے خوف، خاموشی اور عدم تحفظ کی نذر کردیں تو آنے والی نسلوں سے اعتماد اور خوش حالی کی توقع کیسے رکھ سکتے ہیں؟ اب وقت آگیا ہے کہ ہم محض واقعات پر افسوس کرنے کے بجائے ان کی روک تھام کو اپنی اجتماعی ترجیح بنائیں۔ کیونکہ جس معاشرے میں بچے خود کو محفوظ محسوس نہ کریں، وہاں ترقی کے تمام دعوے ادھورے رہ جاتے ہیں۔
مزید پڑھیں





