اسرائیلی آباد کاروں کا یورپی سفارتکاروں کے قافلے پر حملہ، 78 سالہ فرانسیسی میئر شدید زخمی

فلسطین میں مقبوضہ مغربی کنارے میں زیتون کی کٹائی کے دوران اسرائیلی آباد کاروں نے یورپی سفارت کاروں کے قافلے پر حملہ کر کے 78 سالہ فرانسیسی میئر کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا ہے۔
گواہوں اور سفارتکاروں نے خبر رساں اداروں کو بتایا کہ ہفتے کے روز فرانس، بیلجیم اور پولینڈ کے مشنز کی کاریں سفارت کاروں کو طیبہ لے کر گئی تھیں، جو مقبوضہ مغربی کنارے کا ایک بڑی حد تک مسیحی گاؤں ہے۔
یہ حملہ اس وقت پیش آیا جب آباد کاروں نے فلسطینیوں کو زیتون جمع کرنے سے زبردستی روکنے کے لیےدھاوا بول دیا,نقاب پوش آباد کاروں نےسفارتکاروں کیخلاف جارحانہ بیانات دیے اور شمالی فرا نسیسی قصبے اولنوی-ایمریز کے 78 سالہ بائیں بازو کے میئر برنارڈ باؤڈوکس کو لاتیں مار کر تشدد کا نشانہ بنایا۔
https://x.com/Pti780/status/2111510948066537983?s=20
موقع پر موجود گواہوں اور سفارتکاروں نے ان کی شناخت کی تصدیق کی ہے، دیکھی گئی ویڈیو فوٹیج میں باؤڈوکس کو فرانسیسی ترنگے کا فیتہ پہنے ہوئے کار کے ساتھ زمین پر گرا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔
جمعے کو بھی آباد کاروں نے دی واشنگٹن پوسٹ کے لیے کام کرنے والی ایک امریکی فوٹو گرافر کو کٹائی کی کوریج کے دوران شدید زخمی کر دیا تھا، جبکہ گزشتہ ہفتے آباد کاروں نے ایک اور خبر رساں ادارے کے فوٹو گرافر کو بھی بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔
یہ واقعہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی انتخابی مہم کے آخری دنوں میں پیش آیا، جس پر اسرائیل کی جانب سے باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے،اس انتخابی ماحول میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے آنے وا لے انتخابات میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے اور ووٹ حاصل کرنے کے لیے کھل کر ان آباد کاروں کی حمایت اور تائید کی ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کے فوٹو گرافر پر حملے کے برعکس، جہاں نیتن یاہو نے اس کا ملبہ فلسطینیوں یا انتہائی بائیں بازو کے کارکنوں پر ڈالا تھا، اس بار اسرائیل نے سفارتی قافلے پر حملے کی فوری مذمت کی ہے۔
اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سار نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’میں اسرائیلی فسادیوں کے شدید پُرتشددد اقدامات کی سخت مذمت کرتا ہوں-
تاہم، وزیر خارجہ گیڈون سار نے اس کے ساتھ ہی قونصل خانوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ انہوں نے اس دورے کے حوالے سے فوج کے ساتھ کوئی پیشگی رابطہ یا تال میل نہیں کیا تھا۔
دوسری جانب اسرائیلی پولیس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ پولیس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’متاثرین کا پتہ لگانے، گواہیاں اکٹھی کرنے اور مشتبہ افراد کی شناخت کر کے انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام تر کوششیں جاری ہیں-
مزید پڑھیں




