پھولوں پر اشعار لکھے ہیں خوشبو آئی,شاعر:پروفیسر سہیل ساجد
نقطہ نظرپھولوں پر اشعار لکھے ہیں خوشبو آئی
اور پھر جتنی بار لکھے ہیں خوشبو آئی
سچے لفظ ہمیشہ ہی سچ بولتے ہیں
جب جب بھی دو چار لکھے ہیں خوشبو آئی
مَیں نے دل کی تختی پر جو لفظ لکھے
سارے خوشبودار لکھے ہیں خوشبو آئی
خوشبو سے بھرپور جو تھے تیرے بارے
کاغذ پر افکار لکھے ہیں خوشبو آئی
مہکے مہکے پھول تھے ساجد کے گھر مِیں
سب نے ہی گلزار لکھے ہیں خوشبو آئی
پروفیسر سہیل ساجد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دھندلی مورت ہو گئی ہے کیا کریں
کم محبت ہو گئی ہے کیا کریں
ہم نےسوچا تھا کبھی کرنی نہیں
اب محبت ہو گئی ہے کیا کریں
سیکھ رکھا تھا عداوت مت کرو
اس سے نفرت ہو گئی ہے کیا کریں
پوچھنے پر اٌس نے مجھ سے کہہ دیا
اب شرارت ہو گئی ہے کیا کریں
رفتہ رفتہ اینٹ پہ رکھی تھی اینٹ
اب عمارت ہو گئی ہے کیا کریں
دل کی آتش میں جلی اپنی حیات
یوں حرارت ہو گئی ہے کیا کریں
سوچ رکھا تھا کریں گے اب نہ پیار
پھر جسارت ہو گئی ہے کیا کریں
چھوڑ کر مے نوشی ساجد نے کہا
کچھ بشارت ہو گئی ہے کیا کریں
پروفیسرسہیل ساجد
مزید پڑھیں





