منگل، 20 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

سول سروس کو سیاسی دباؤ اور مداخلت سے پاک رکھنا ضروری ہے،وفاقی آئینی عدالت


وفاقی آئینی عدالت نے پولیس سروس کے افسر تنویر احمد طاہر کی گریڈ 20 میں ترقی سے متعلق اپیل مسترد کردی-


جسٹس علی باقر نجفی نے تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ کے 15 فروری 2022 کے فیصلے کے خلاف اپیل خارج کر دی گئی،عدالت نے کہا کہ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ کوئی بھی سرکاری ملازم ترقی کو بطورِ حق کلیم نہیں کر سکتا

تاہم اسے قانون کے مطابق ترقی کے لیے زیرِ غور لائے جانے کا حق حاصل ہے، عدالت نے واضح کیا کہ سول سروس کو سیاسی دباؤ اور مداخلت سے پاک رکھنا ضروری ہے۔


ہائیکورٹ نے تنویر احمد طاہر کو بی پی ایس 19 سے بی پی ایس 20 میں ترقی نہ دینے اور ان سے جونیئر افسران کی ترقی کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا فیصلے میں قائداعظم محمد علی جناح کی اپریل 1948 میں پشاور میں سول افسران سے کی گئی تاریخی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ سول سرونٹس کو کسی سیاسی دباؤ، سیاسی جماعت یا سیاست دان کے اثر میں نہیں آنا چاہیے۔


قائداعظم نے واضح کیا تھا کہ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، لیکن سول سروس ریاست کی ریڑھ کی ہڈی ہے جو قائم رہتی ہے، افسران کو بلا خوف و خطر اور دیانت داری کے ساتھ ریاست اور عوام کی خدمت کرنی چاہیےعدالت کے مطابق قائداعظم نے سول سروس میں سیاست دانوں کی مداخلت کو بدعنوانی، رشوت ستانی اور اقربا پروری جیسے مہلک امراض کا سبب قرار دیا تھا۔


فیصلے کے مطابق تنویر احمد طاہر نے 1999 میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کرکے پولیس سروس آف پاکستان میں شمولیت اختیار کی، انہیں 22 جون 2007 کو گریڈ 18 اور 16 جنوری 2015 کو گریڈ 19 میں ترقی دی گئی،نیب ریفرنس میں سزا کے باعث 2018 اور 2019 میں ان کی ترقی مؤخر کی گئی، تاہم سندھ ہائیکورٹ نے 8 نومبر 2019 کو انہیں مذکورہ ریفرنس سے بری کر دیا۔ بریت کے بعد انہیں 24 جنوری 2020 کو ملازمت پر بحال کر دیا گیا۔


جنوری 2020 میں سینٹرل سلیکشن بورڈ کے چوتھے اجلاس میں ان کی ترقی کا معاملہ دوبارہ زیرِ غور آیا، تاہم نیب کے ایک اور ریفرنس کے زیرِ التوا ہونے کے باعث انہیں ترقی نہیں دی گئی۔ اسی دوران ان کے جونیئر افسران کو گریڈ 20 میں ترقی دے دی گئی تنویر احمد طاہر نےترقی نہ ملنے کے فیصلے کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا، جہاں سنگل بینچ اور بعد ازاں ڈویژن بینچ نے ان کی درخواست اور انٹر ا کورٹ اپیل مسترد کر دی تھی، ہائیکورٹ نے قرار دیا تھا کہ سلیکشن بورڈ نے تمام متعلقہ قواعد و ضوابط اور سول سرونٹس پروموشن رولز 2019 کے تحت فیصلہ کیا۔


وفاقی آئینی عدالت میں اپیل کنندہ کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل نے ایس ایم سی کورس میں 74 فیصد نمبر حاصل کیے تھے، جبکہ کارکردگی کے مجموعی نمبر 76.5 فیصد تھے سلیکشن بورڈ نے اپنے مختص 30 نمبروں میں سے بلاجواز صرف 10 نمبر دیے، وکیل نے کہا کہ افسر کو کبھی منفی پرفارمنس ایویلیوایشن رپورٹ یا اے سی آر نہیں ملی، جبکہ ان سے کم نمبر حاصل کرنے والے افسران کو ترقی دے دی گئی۔


فاروق ایچ نائیک کا مؤقف تھا کہ محض نیب ریفرنس زیرِ التوا ہونے کی بنیاد پر سول سرونٹس پروموشن رولز 2019 کے تحت کسی افسر کو ترقی میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور محکمے کی غلطی یا سستی کی وجہ سے بھی کسی افسر کی ترقی مؤخر نہیں ہونی چاہیے۔


عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ سلیکشن بورڈ کی جانب سے 10 نمبر ملنے کے بعد اپیل کنندہ کے مجموعی نمبر 70 میں سے 63.56 تھے، جو گریڈ 20 میں ترقی کے لیے مقررہ کم از کم 70 نمبروں سے کم تھے، سول سرونٹس پروموشن رولز 2019 کے تحت گریڈ 20 میں ترقی کے لیے کم از کم 70 نمبر حاصل کرنا لازمی ہے۔


تحریری فیصلے میں مزید کہا گیا کہ سلیکشن بورڈ کی جانب سے دیے گئے نمبروں اور اس کے معروضی جائزے کو عدالتی نظرثانی کے ذر یعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا،تاہم، اگر کسی افسر کو زیرِ التوا ریفرنس میں بری کر دیا جائے تو قانون کے مطابق اس کے ترقی کے کیس پر از سرِنو غور کیا جانا چاہیے،عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ فوجداری مقدمے میں بریت کا مطلب یہ نہیں کہ متعلقہ افسر کے خلاف محکمانہ تاد یبی کارروائی خودبخود ختم ہو جائے گی۔