ہفتہ، 17 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

لانگ مارچ: تاریخ کا انقلاب یا سیاست کا استعارہ ؟تحریر:نعیم خان

نقطہ نظر

ماؤ زے تنگ کے تاریخی سفر اور پاکستانی سیاست میں لانگ مارچ کے تصور کا تقابلی جائزہ

naeem khan blog

اکتوبر 1934ء میں چین کے جنوب مشرقی علاقے جیانگ شی کی فضا پر ایک غیر یقینی سی کیفیت طاری تھی۔ پہاڑوں اور دشوار گزار راستوں میں گھرے کمیونسٹوں کے ٹھکانوں پر دباؤ بڑھتا جا رہا تھا۔ مخالف فوج نے محاصرے کا دائرہ تنگ کر دیا تھا ، رسد کی فراہمی مشکل ہوتی جا رہی تھی اور ہر گزرتے دن کے ساتھ وہاں ٹھہرنا مزید خطرناک ہو رہا تھا۔ کمیونسٹ قیادت کے سامنے اب کوئی آسان راستہ نہیں تھا۔ اسے فیصلہ کرنا تھا کہ محاصرے میں رہ کر بتدریج تباہ ہو جائے یا اپنی فوج اور قیادت کو بچانے کے لیے ایک نامعلوم منزل کی طرف نکل کھڑی ہو۔ یوں ایک ایسا سفر شروع ہوا جسے تاریخ نے ’’لانگ مارچ‘‘ کا نام دیا اور جس کے ساتھ ماؤ زے تنگ کا نام ہمیشہ کے لیے جڑ گیا۔

اس واقعے کی حقیقت تک پہنچنے کے لیے اس دور کے چین کو سمجھنا ضروری ہے۔ بیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں چین سیاسی انتشار ، داخلی کشمکش اور بیرونی مداخلتوں سے دوچار تھا۔ چینی کمیونسٹ پارٹی نے ابتدا میں قوم پرست جماعت کومنتانگ کے ساتھ اتحاد کیا لیکن 1927ء میں چیانگ کائی شیک کی قیادت میں کمیونسٹوں کے خلاف خونریز کارروائیوں کے بعد یہ اتحاد ٹوٹ گیا۔ کمیونسٹ تحریک کو شہروں میں شدید نقصان اٹھانا پڑا تو اس نے دیہی علاقوں کا رخ کیا۔ ماؤ زے تنگ نے کسانوں کو منظم کرنے اور دیہی آبادی کی حمایت حاصل کرنے کو اپنی انقلابی حکمتِ عملی کا بنیادی جزو بنایا۔ جنوبی چین کے علاقے جیانگ شی میں کمیونسٹوں نے اپنا مضبوط مرکز قائم کر لیا لیکن قوم پرست حکومت اسے ختم کرنے کے لیے مسلسل فوجی مہمات چلاتی رہی۔

1934ء تک صورتِ حال فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی تھی۔ چیانگ کائی شیک کی فوج نے محاصرے اور ناکہ بندی کے ذریعے کمیونسٹوں کی نقل و حرکت محدود کر دی تھی۔ ایسے حالات میں اکتوبر 1934ء کے دوران سرخ فوج کے مرکزی دستوں نے انخلا شروع کیا۔ یہ کسی فاتح لشکر کی پیش قدمی نہیں تھی ، نہ ہی کوئی ایسا سفر جس کے انجام کا یقین پہلے سے موجود تھا۔ یہ ایک عسکری پسپائی تھی ، جس کا بنیادی مقصد فوج اور قیادت کو مکمل تباہی سے بچانا تھا۔ اس سفر میں دشوار گزار پہاڑ ، تیز بہتے دریا ، خوراک کی قلت ، شدید موسم اور مخالف فوج کے حملے قدم قدم پر رکاوٹ بنے۔ جنگجوؤں کی بڑی تعداد راستے میں ماری گئی یا منتشر ہو گئی۔ اس مہم کی مسافت اور ہلاکتوں کے اعداد مختلف تاریخی حوالوں میں مختلف ملتے ہیں لیکن اس کی سختی اور انسانی قیمت پر کوئی سنجیدہ اختلاف نہیں۔

اس سفر نے ماؤ زے تنگ کی سیاسی زندگی پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ جنوری 1935ء میں زونی کانفرنس کے بعد ان کا اثر و رسوخ بڑھا اور کمیونسٹ قیادت کی حکمتِ عملی میں تبدیلی کا راستہ کھلا۔ تاہم یہ کہنا درست نہیں کہ اسی ایک اجلاس میں ماؤ اچانک پوری تحریک کے بلاشرکتِ غیرے سربراہ بن گئے۔ کمیونسٹ قیادت کے اندر اختلافات اور طاقت کے توازن کی اپنی تاریخ تھی۔ بدلتے حالات میں زیادہ لچک دار فوجی حکمتِ عملی ، تیز نقل و حرکت اور مخالف فوج سے اپنی شرائط پر مقابلے کی اہمیت بڑھتی گئی۔ مرکزی دستے بالآخر اکتوبر 1935ء میں شمالی چین کے علاقے شانشی پہنچ گئے ، جب کہ کمیونسٹ فوج کے دوسرے دستوں کے سفر بعد میں بھی جاری رہے۔

لیکن کیا اس مقام پر انقلاب آ چکا تھا ؟ ہرگز نہیں۔ لانگ مارچ نے چین میں فوراً اقتدار تبدیل نہیں کیا تھا اور نہ ہی قوم پرست حکومت کا خاتمہ اس سفر کا فوری نتیجہ تھا۔ اس کی اصل اہمیت یہ تھی کہ کمیونسٹ تحریک ایک تباہ کن محاصرے سے نکل کر زندہ رہنے اور اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے قابل ہوئی۔ اس نے ماؤ کی حیثیت کو مضبوط کیا اور بعد میں کمیونسٹ تحریک کی اجتماعی یادداشت میں قربانی ، استقامت اور انقلابی عزم کی علامت کا مقام حاصل کیا۔ چینی کمیونسٹوں کی حتمی کامیابی 1949ء میں حاصل ہوئی ، یعنی لانگ مارچ کے تقریباً چودہ برس بعد۔ اس دوران سیاسی تنظیم سازی ، دیہی حمایت ، خانہ جنگی اور جاپانی جارحیت سمیت متعدد عوامل نے تاریخ کا رخ متعین کیا۔ یوں لانگ مارچ انقلاب کا دوسرا نام نہیں تھا ، یہ اس طویل جدوجہد کا ایک اہم موڑ تھا جس نے انقلاب تک پہنچنے کے امکانات محفوظ رکھے۔

یہ تاریخی فرق اس وقت اہم ہو جاتا ہے جب ہم پاکستان کی سیاست میں لانگ مارچ کی اصطلاح سنتے ہیں۔ یہاں یہ لفظ اکثر کسی حکومت کو گرانے ، نئے انتخابات کا مطالبہ کرنے ، استعفے لینے یا حکمرانوں کو مذاکرات پر مجبور کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ سیاسی احتجاج اور پُرامن اجتماع جمہوری زندگی کا حصہ ہیں اور ہر مارچ کو محض اس لیے بے معنی نہیں کہا جا سکتا کہ وہ انقلاب برپا نہیں کر سکا۔ پاکستان کی تاریخ میں بعض احتجاجی تحریکوں نے حقیقی نتائج بھی پیدا کیے۔ 2007ء سے 2009ء تک جاری رہنے والی وکلا تحریک اس کی نمایاں مثال ہے۔ اس تحریک کے دوران 2009ء کے لانگ مارچ کے نتیجے میں حکومت نے معزول ججوں کی بحالی کا اعلان کیا۔ یہ ایک واضح سیاسی کامیابی تھی اگرچہ اس کے وسیع تر آئینی اور ادارہ جاتی اثرات پر الگ بحث کی جا سکتی ہے۔

تاہم کسی مخصوص مطالبے کی منظوری اور پورے نظام کی تبدیلی دو الگ چیزیں ہیں۔ حکومت کو مذاکرات پر آمادہ کرنا ، کسی عہدے دار کا استعفیٰ حاصل کرنا یا عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنا سیاسی کامیابی ہو سکتی ہے لیکن ان میں سے ہر نتیجے کو انقلاب قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انقلاب کا دعویٰ محض نعروں سے معتبر نہیں ہوتا اس کے لیے واضح مقاصد ، قابلِ عمل منصوبہ اور ایسی تبدیلی درکار ہوتی ہے جو محض اقتدار کے چہروں تک محدود نہ رہے بلکہ اداروں ، اختیارات اور عام شہری کی زندگی میں بھی محسوس ہو۔

ماؤ زے تنگ کے لانگ مارچ کی تاریخی عظمت اس کے نام ، فاصلے یا محض شرکا کی تعداد میں نہیں تھی۔ اس کی اہمیت اس بات میں تھی کہ ایک محصور تحریک نے اپنی بقا کے لیے سخت فیصلے کیے ، بھاری نقصان برداشت کیا اور پھر برسوں کی جدوجہد کے ذریعے اپنی سیاسی قوت کو دوبارہ منظم کیا۔ پاکستان میں کسی مارچ کو اسی تاریخی مقام پر رکھنے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس نے کیا حاصل کیا ، کس قیمت پر حاصل کیا اور اس کے نتائج کتنے دیرپا ثابت ہوئے۔

سیاست میں لفظوں کی کشش اپنی جگہ لیکن تاریخ نعروں سے نہیں بدلتی۔ اگر کسی مارچ کا مقصد صرف حکومت کی تبدیلی ہے تو اسے اسی پیمانے پر پرکھنا چاہیے اگر دعویٰ پورے نظام کو بدلنے کا ہے تو اس دعوے کے لیے بھی اتنی ہی سنجیدہ دلیل درکار ہے۔ ورنہ انقلاب کا لفظ عوامی امیدوں کو ابھارنے کا ایک مؤثر سیاسی حربہ تو بن سکتا ہے مگر وہ خود انقلاب کا متبادل نہیں بن سکتا۔