سندھ :میڈیکل کے داخلوں کیلئے انٹرمیڈیٹ کے نمبروں میں ردوبدل کا بڑا اسکینڈل بے نقاب

سندھ میں ایم بی بی ایس کے داخلوں کیلئے انٹرمیڈیٹ پری میڈیکل کے امتحانی نمبروں میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر ردوبدل کا سنگین اسکینڈل سامنے آگیا۔
صوبے کی 2 بڑی سرکاری میڈیکل جامعات، لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز جامشورو اور جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کرا چی نے داخلوں کے لیے جمع کرائی گئی مجموعی طور پر 53 مشکوک مارکس شیٹس کی نشاندہی کی ہے جن میں درج نمبروں اور متعلقہ تعلیمی بورڈ کے سرکاری نتائج کے گزٹ میں نمایاں تضادات پائے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق لیاقت میڈیکل یونیورسٹی جامشورو میں 43 جبکہ جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کراچی میں 7 ایسی مارکس شیٹس سامنے آئی ہیں جن کا تعلق مبینہ طور پر ثانوی و اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ حیدرآباد سے ہےاگر تمام میڈیکل جامعات میں امیدواروں کی مارکس شیٹس کی سرکاری گزٹ سے مکمل جانچ پڑتال کی جائے تو مزید بڑے پیمانے پر نمبروں میں تبدیلی اور بے ضابطگیوں کے معاملات سامنے آسکتے ہیں۔
دی نیوز کے مطابق حیدرآباد تعلیمی بورڈ کے انٹرمیڈیٹ پری میڈیکل گروپ کے سالانہ امتحانات 2026 کے نتائج میں بعض امیدواروں کی مارکس شیٹس پر درج نمبروں اور بورڈ کے اصل گزٹ میں موجود نمبروں کے درمیان غیر معمولی فرق سامنے آیا ہے بعض معاملات میں مبینہ طور پر اسکروٹنی کے نام پر امیدواروں کے مجموعی نمبروں میں 50 سے 100 نمبر تک اضافہ کیا گیا جس سے میڈیکل کالجوں میں داخلوں کے لیے میرٹ کی ترتیب متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔
ذرائع کے مطابق حیرت انگیز طور پر مذکورہ اسکروٹنی کا عمل اس وقت انجام دیا گیا جب حیدرآباد تعلیمی بورڈ کے چیئرمین فقیر محمد لاکھو عمرے کی ادائیگی کے لیے بیرون ملک گئے ہوئے تھے حیدرآباد تعلیمی بورڈ میں انٹرمیڈیٹ پارٹ 2 کے سالانہ امتحانات 2026ء کے نتائج میں مبینہ ہیر پھیر اور بے ضابطگیوں کی شکایات پہلے ہی سامنے آچکی ہیں اور ان معاملات پر ڈپٹی کنٹرولر ٹاپ سیکرٹ برانچ اعجاز علی کاکا کو معطل بھی کیا جاچکا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ میرپورخاص تعلیمی بورڈ کی بعض مارکس شیٹس میں بھی نمبروں کی مبینہ تبدیلی کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایم بی بی ایس میں داخلے دینے والی جامعات کی جانب سے نتائج کے اصل گزٹ طلب کیے جانے کے باوجود انہیں متعلقہ ریکارڈ فراہم نہیں کیا جارہا جس سے امیدواروں کے تعلیمی نتائج کی آزادانہ تصدیق میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔
دوسری جانب ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ سندھ میں ایم بی بی ایس کے داخلوں سے متعلق تیسری اہم سرکاری میڈیکل جامعہ، لاڑکانہ کی شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی میں تاحال کسی مشکوک مارکس شیٹ کی نشاندہی کی اطلاع نہیں ملی تاہم ذرائع نے وہاں مارکس شیٹس کی جانچ پڑتال کے نظام پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سندھ حکومت حیدرآباد اور میرپورخاص تعلیمی بورڈز کے امتحانی نتائج اور جانچ پڑتال (اسکروٹنی) کے ریکارڈ کا فوری طور پر ایک آزادانہ اور اعلیٰ سطحی فرانزک آڈٹ کروانے کا حکم دے۔
اس مجوزہ تحقیقات میں امتحانی گزٹ (نتائج کی اصل فہرستیں)، جانچ پڑتال کی درخواستیں، منظوری کے احکامات، نظرثانی شدہ مارک شیٹس، کمپیوٹرائزڈ امتحانی ڈیٹا بیس اور میڈیکل یونیورسٹیوں میں جمع کرائے گئے داخلہ دستاویزات کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔
انہوں نے حکام پر زور دیا کہ مشکوک مارک شیٹس سے متعلق داخلے کے حتمی فیصلوں کو اس وقت تک روکے رکھا جائے جب تک کہ امیدواروں کے تعلیمی ریکارڈ کی صداقت حتمی طور پر ثابت نہ ہو جائے۔
ماہرینِ تعلیم نے مطالبہ کیا کہ امتحانی نمبروں میں غیر مجاز تبدیلیاں کرنے کے ذمہ دار حکام، نیز اس قسم کی ہیرا پھیری میں جان بوجھ کر ملوث ہو کر فائدہ اٹھانے والے افراد کے خلاف مناسب قانونی اور تادیبی کارروائی کی جانی چاہیے۔
اس سامنے آنے والے اسکینڈل نے نہ صرف سندھ کے تعلیمی بورڈز کی ساکھ کو، بلکہ صوبے کے میرٹ پر مبنی طبی داخلوں کے پورے نظام کی دیانت داری کو بھی شدید سوالیہ نشان کے گھیرے میں لا کھڑا کیا ہے۔
مزید پڑھیں





