ڈیموکریٹس کی نمایاں کامیابی امریکا میں سیاسی قیادت کے ایک نئے دور کا آغاز ہے،مئیر نیویارک

نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی نمایاں کامیابی کو امریکا میں سیاسی قیادت کے ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا ہے۔
بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ظہران ممدانی نے کہا کہ گزشتہ شب کے انتخابی نتائج نے یہ احساس دلایا ہے کہ امریکا میں ایک نئے دور کا آغاز ہوچکا ہے، تاہم ترقی پسند سیاسی قوتوں کو اپنی کامیابیوں کا تسلسل برقرار رکھنا ہوگا،ڈیموکریٹس کی کانگریس کے دو نوں ایوانوں میں کامیابی نے اپوزیشن کو دفاعی حکمت عملی سے نکل کر عملی اور جارحانہ سیاسی اقدامات کرنے کا موقع فراہم کردیا ہے۔
ممدانی نے کہا کہ اب تک ڈیموکریٹس کی توجہ اس بات پر مرکوز رہی کہ زیادہ سے زیادہ امریکی شہریوں کو فوڈ اسٹیمپ پروگرام کی سہولت اور صحت کی انشورنس سے محروم ہونے سے کیسے بچایا جائے،ریپبلکنز کے حمایت یافتہ قانون ’ون بگ بیوٹی فل بل ایکٹ‘ کے تحت ہونے والی کٹوتیوں نے عام شہریوں کے لیے مشکلات پیدا کیں۔
انہوں نے زور دیا کہ اب ڈیموکریٹس کو دفاعی پوزیشن سے آگے بڑھ کر ایسے اقدامات کرنے چاہییں جن سے عوام کی زندگی آسان اور اخر اجات میں کمی آسکے،انتخابی کامیابی کو ایسی تبدیلی میں تبدیل کرنا ہوگا جس کا اثر امریکی شہری اپنی جیبوں میں محسوس کرسکیں۔
ظہران ممدانی نے 2025 میں نیویارک کے میئر کا انتخاب جیت کر قومی سطح پر نمایاں مقام حاصل کیا تھا، حالیہ پرائمری انتخابات میں انہوں نے نیویارک شہر کی 3 کانگریسی نشستوں پر ترقی پسند امیدواروں بریڈ لینڈر، کلیئر ویلڈیز اور ڈاریالیزا اویلا شیولیئر کی حمایت کی تھی، تینو ں امیدوار منگل کے روز ہونے والے انتخابات میں کامیاب ہوگئے۔
کلیئر ویلڈیز اور ڈاریالیزا اویلا شیولیئر کا تعلق بھی ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکا سے ہے، جس سے ممدانی بھی وابستہ ہیں میئر نیویارک نے ان کامیابیوں پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں نومنتخب ارکان کے ساتھ وفاقی سطح پر عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرنے کے ایجنڈے پر مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں۔
دوسری جانب نیویارک سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹک رہنما حکیم جیفریز اور چک شومر بھی بالترتیب ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں اپنی جماعت کی قیادت سنبھالنے کی تیاری کررہے ہیں،ممدانی نے دونوں رہنماؤں کی واشنگٹن میں موجودگی کو نیویارک کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہر کے مسائل سے واقف قیادت ہی عوامی مشکلات کو بہتر انداز میں سمجھ سکتی ہے۔
ان کے مطابق نیویارک کے شہریوں کے مسائل ان رہنماؤں کے لیے محض سیاسی یا نظریاتی معاملات نہیں بلکہ وہ روزانہ اپنے حلقوں میں لوگوں سے ان مشکلات کے بارے میں سنتے ہیں، انہوں نے حکیم جیفریز سے رابطہ کرکے انہیں انتخابی کامیابیوں پر مبارک باد بھی دی ہے اور دونوں کے درمیان خوشگوار ورکنگ ریلیشن شپ قائم ہے۔





