جمعرات، 22 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

مصنوعی ذہانت سے سائبر سیکیورٹی کی سنگین خامیاں بے نقاب، دنیا بھر میں متعدد ویب سائٹس بند


دنیا بھر میں سرکاری اداروں اور کمپنیوں نے بدھ کے روز اپنی ویب سائٹس بند کر دیں، جب پی ایچ پی (PHP) میں سکیورٹی کی دو سنگین خامیاں سامنے آئیں۔ پی ایچ پی ایک پروگرامنگ زبان ہے جس پر انٹرنیٹ کے بڑے حصے کی بنیاد قائم ہے۔


برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ویب سائٹس بنانے میں استعمال ہونے والی پروگرامنگ زبان ’پی ایچ پی‘ میں سیکیورٹی کی 2 سنگین خامیوں کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد مختلف ممالک کے سرکاری اداروں اور سائبر سیکیورٹی ایجنسیوں نے ویب سائٹس کو محفوظ بنانے کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ بعض اداروں نے حفاظتی اقدام کے طور پر اپنی ویب سائٹس عارضی طور پر بند کر دی ہیں۔


رپورٹ کے مطابق فن لینڈ نے سرکاری ویب سروسز عارضی طور پر بند کر دی ہیں، جبکہ نیدرلینڈز کے سائبر سیکیورٹی ادارے نے بھی اپنی ویب سائٹ آف لائن کر دی نیدرلینڈز کی پارلیمان کے ایوانِ زیریں کی ویب سائٹ بھی دستیاب نہیں رہی اس کےعلاوہ ایڈنبرا سٹی کونسل اوربی بی سی کے بعض پروگراموں، جن میں ’ڈاکٹر ہو‘ اور’دی ٹریٹرز‘ شامل ہیں،کی ویب سائٹس بھی متاثر ہوئیں۔ وکی پیڈیا کی منتظم تنظیم نے بھی احتیاطی تدابیر کے تحت اپنے بعض نظام عارضی طور پر بند کرنے کی تصدیق کی ہے۔


بیلجیئم کی وزارت خارجہ نے بھی احتیاطی تدبیر کے طور پر اپنی ویب سائٹس عارضی طور پر بند کر دیں۔ وزارت نے ایکس پر جاری بیان میں اس کی تصدیق کی، تاہم بیلجیئم کے سائبر سکیورٹی مرکز کے مطابق ملک کی ویب سائٹس پر کسی حملے کا پتا نہیں چلا تھا۔


بی بی سی کے مطابق امریکا کی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی، برطانیہ کے نیشنل سائبر سیکیورٹی سینٹر اور یورپی و آسٹریلوی سائبر سیکیورٹی اداروں نے متعلقہ تنظیموں کو سافٹ ویئر کی حفاظتی اپ ڈیٹ فوری نصب کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ برطانوی ادارے نے کہا ہے کہ اگر فوری طور پر خامی دور کرنا ممکن نہ ہو تو متاثرہ نظام کو مکمل تحفظ ملنے تک آف لائن رکھنے پر غور کیا جائے۔


سائبر سیکیورٹی کمپنی وِز کے مطابق ان خامیوں کا پتا مصنوعی ذہانت کی مدد سے چلا۔ کمپنی کا اندازہ ہے کہ ان خامیوں سے انٹرنیٹ کی تقریباً 70 فیصد ویب سائٹس متاثر ہو سکتی ہیں، تاہم بی بی سی نے وا ضح کیا ہے کہ وہ اس تناسب کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔


رپورٹ کے مطابق یہ خامیاں ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک سامنے نہیں آ سکیں۔ ان کے افشا ہونے کے بعد پی ایچ پی فاؤنڈیشن نے حفاظتی اپ ڈیٹ جاری کی، تاہم تازہ ترین ورژنز کے لیے ہی اپ ڈیٹ دستیاب ہونے کے باعث پرانے ورژن استعمال کرنے والے اداروں کو سافٹ ویئر اپ گریڈ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔


ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان خامیوں سے ہیکرز کو ویب سرورز کی فائلوں یا ڈیٹا بیس تک رسائی اور نقصان دہ سافٹ ویئر نصب کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ انٹرنیٹ انفراسٹرکچر کمپنی کلاؤڈ فلیئر کے چیف ٹیکنالوجی افسر نے بھی ابتدائی حملوں کے آثار سامنے آنے کی اطلاع دی ہے۔


پی ایچ پی ویب سائٹس اور آن لائن نظام چلانے کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہے، اس لیے ماہرین نے اداروں کو اپ ڈیٹ نصب کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے نظاموں کی مسلسل نگرانی کی ہدایت کی ہے۔


این ایس اے نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ یہ خامیاں ’’اکثر سرور کے فائل سسٹم یا ڈیٹا بیس تک براہ راست رسائی کا راستہ فراہم کرتی ہیں،حملہ آور ان خامیوں سے فائدہ اٹھا کر پاس ورڈ کے بغیر ویب سرورز کا کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں۔