یونان: تارکینِ وطن کی کشتی کو حادثہ، بچے سمیت 6 افراد ہلاک

یونان کے جزیرے لیسبوس کے قریب ترکی سے آنے والے غیر قانونی تارکینِ وطن کی تیز رفتار کشتی کو حادثہ پیش آیا ہے، جس کے نتیجے میں ایک شیرخوار بچے سمیت 6 افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ 8 افراد کو بچا لیا گیا،حکام کے مطابق حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
یونانی میڈیا کے مطابق حادثہ جزیرے لیسبوس کے جنوب مشرقی ساحل کے قریب پیش آیا، جہاں تارکینِ وطن کی کشتی اور یونانی کوسٹ گارڈ کی گشتی کشتی کے درمیان تصادم ہوا، جس کے بعد تارکینِ وطن کی کشتی الٹ گئی,حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں 4 مرد، ایک خاتون اور ایک شیرخوار بچہ شامل ہیں، جبکہ ریسکیو کارروائی کے دوران 8 افراد کو بچا لیا گیا۔
یونانی حکام نے واقعے کے سلسلے میں 37 سالہ ترک شہری کو گرفتار کرلیا ہے اُس پر مبینہ طور پر انسانی اسمگلنگ اور کشتی چلانے کا الزام ہے,یونان کے وزیر برائے جہاز رانی و جزائر واسیلیس کیکیلیاس نے اموات کا ذمہ دار انسانی اسمگلروں کو قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اب تک سامنے آنے والے شواہد کے مطابق تارکینِ وطن کی تیز رفتار کشتی کا اگلا حصہ یونانی کوسٹ گارڈ کے جہاز کے با ئیں جانب سے ٹکرایا تھا، تاہم حادثے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں,انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ہمارا مؤقف ناقابلِ سمجھوتہ ہے، انسانی اسمگلروں کے لیے کسی قسم کی رعایت نہیں ہوگی۔
یونان طویل عرصے سے مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور ایشیا سے یورپ آنے والے تارکینِ وطن اور پناہ گزینوں کے لیے اہم راستہ رہا ہے،ترکی کے قریب واقع یونانی جزائر کے ذریعے بڑی تعداد میں لوگ یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں 2015 اور 2016 کے دوران یورپ کو تار کینِ وطن کے بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس وقت تقریباً 10 لاکھ افراد یونان کے جزائر پر پہنچے تھے، جن میں سے زیادہ تر ترکی کے راستے آئے تھے۔
مزید پڑھیں




