سیکیورٹی فورسز کی انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز: داعش کے 50 سے زائد دہشتگرد ہلاک، 100 سے زائد گرفتار

سیکیورٹی فورسز نے افغانستان میں مضبوط نیٹ ورک رکھنے والی دہشتگرد تنظیم ‘داعش خرسان’ (ISKP) کی پاکستان میں قدم جمانے اور نیٹ ورک پھیلانے کی تمام کوششوں کو بروقت اور مؤثر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے ناکام بنا دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق افغانستان کے صوبے کنڑ، ننگرہار اور ہلمند اس وقت داعش (ISKP) کے اہم آپریشنل مراکز بنے ہوئے ہیں, شام میں مراکز کی تباہی کے بعد داعش نے اپنے تجربہ کار جنگجوؤں کو افغانستان منتقل کرنا شروع کیا، جس سے تنظیم کو تقویت ملی۔
اگرچہ 13 اپریل 2017 کو امریکا نے ضلع اچین (ننگرہار) کی وادی مامند میں داعش کے غاروں اور سرنگوں کے کمپلیکس پر سب سے بڑا غیر جوہری بم (MOAB) گرا کر ان کے ایک اہم گڑھ کو نشانہ بنایا تھا، تاہم 2021 میں کابل کے سقوط کے بعد طالبان کے وہ جنگجو جنہیں سرکاری مراعات یا ملازمتیں نہ مل سکیں، وہ بھی بڑی تعداد میں ISKP میں شامل ہو گئے۔
گزشتہ 3 سے 4 برسوں کے دوران داعش نے پاکستان میں اپنے دہشتگردانہ اثر و رسوخ کو وسعت دینے کی بھرپور کوشش کی۔ تاہم، پاکستان کے انٹیلی جنس اداروں اور سیکیورٹی فورسز نےجارحانہ بنیادوں پر کارروائیاں کرتے ہوئےانکے ان عزائم کو نیست و نابود کر دیا اس مد میں کی گئی 67 بڑی کارروائیوں کے نتیجے میں 50 سےزائد ہائی پروفائل دہشتگرد ہلاک جبکہ 100 سے زائد گرفتار کیے گئےجن میں ایک انتہا ئی اہم ترین ہدف (High-Value Target) کی ہلاکت اور 3 کی گرفتاری شامل ہے۔
سیکیورٹی فورسز کی ان کامیاب کارروائیوں کے ردِعمل میں داعش نے پاکستان میں 6 بزدلانہ حملے کیے جن کے نتیجے میں 42 افراد شہید اور 85 زخمی ہوئے۔ ان میں اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں شیعہ مسجد پر خودکش حملہ اور مستونگ (بلوچستان) میں سیشن جج پر ٹارگٹڈ حملہ جیسے سنگین واقعات شامل ہیں۔ تاہم پاکستانی اداروں کے پختہ عزم نے داعش کو ملک میں مستقل بنیادیں قائم کرنے سے مکمل طور پر باز رکھا ہے۔




