میرا نام عامر امتیاز عامر ہے اور میرے والد کا نام محمد امتیاز ہے۔ میری پیدائش 17 اکتوبر 1994ء کو گاؤں بڑوٹہ مرزیاں، تحصیل کلرسیداں، ضلع راولپنڈی میں ہوئی۔ میرے والد صاحب کا ذریعۂ معاش کھیتی باڑی ہے۔ میں نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی ہے۔ ادب سے میری دلچسپی بچپن ہی سے رہی ہے۔ شاعری، کہانیاں اور ادبی رسائل پڑھنا ہمیشہ میرے مشاغل کا حصہ رہے ہیں۔ میرے نزدیک ادب محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ انسانی احساسات، تجربات اور مشاہدات کو سمجھنے اور بیان کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔
میرا ادبی سفر:
میں نے باقاعدہ شاعری کا آغاز 2010ء اور 2011ء کے درمیانی عرصے میں کیا۔ ابتدا میں شاعری ہی میری تخلیقی دلچسپی کا مرکز رہی، تاہم 2016ء میں ایک ایسا دور بھی آیا جب میں نے اپنی بیشتر شاعری ضائع کر دی اور لکھنے کا سلسلہ ترک کر دیا۔ تقریباً دو سال بعد دوبارہ قلم سے رشتہ جوڑا۔ اس بار شاعری کے ساتھ ساتھ کہانی اور افسانہ نگاری کی طرف بھی توجہ دینے لگا۔
2019ء میں بھارتی شاعرہ شبینہ ادیب صاحبہ کی حوصلہ افزائی میرے ادبی سفر کا ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ ان کی حوصلہ افزائی کے بعد میں نے اپنی تخلیقات مختلف اخبارات اور ادبی رسائل میں اشاعت کے لیے بھیجنے کا باقاعدہ آغاز کیا۔ وقت کے ساتھ شاعری کے علاوہ افسانہ نگاری اور کالم نویسی بھی میری ادبی شناخت کا حصہ بنتی گئیں۔
تصانیف اور اشاعتی سفر:
اب تک میری شاعری، افسانے اور کالم مختلف اخبارات اور ادبی رسائل میں شائع ہو چکے ہیں اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔
میری تحریروں میں انسانی جذبات، رشتوں کی پیچیدگیاں، معاشرتی رویّے، محرومیاں، جدائی اور زندگی کے مختلف نفسیاتی و سماجی پہلو نمایاں رہتے ہیں۔ میں اپنے مشاہدات اور تجربات کو اس انداز میں قلم بند کرنے کی کوشش کرتا ہوں کہ قاری محض الفاظ نہ پڑھے بلکہ ان کے پس منظر میں چھپے احساسات کو بھی محسوس کر سکے۔
ادبی اعزازات اور اسناد:
اپنے ادبی سفر کے دوران مجھے مختلف ادبی پلیٹ فارمز کی جانب سے اپنی تحریروں کے اعتراف میں متعدد اسناد اور اعزازات حاصل ہوئے ہیں۔ میرے لیے یہ اعزازات حوصلہ افزائی کا ذریعہ ہیں اور مزید بہتر لکھنے کا جذبہ پیدا کرتے ہیں۔
ادبی خدمات اور سرگرمیاں:
ادب سے وابستگی کے ساتھ میرا صحافت سے بھی تعلق رہا ہے۔ میں مختلف اخبارات اور ویب چینلز کے لیے نیوز رپورٹنگ کر چکا ہوں۔ کالم نویسی کے ذریعے معاشرتی، سماجی اور فکری موضوعات پر اپنے خیالات کا اظہار بھی کرتا رہا ہوں۔ اس وقت مختلف اخبارات اور ادبی رسائل میں مستقل لکھ رہا ہوں۔ شاعری، افسانہ نگاری اور کالم نویسی میری بنیادی قلمی سرگرمیاں ہیں۔
میری کوشش ہے کہ اپنی تحریروں کے ذریعے انسانی احساسات، معاشرتی مسائل اور زندگی کے ان پہلوؤں کو اجاگر کروں جو اکثر ہماری نظروں سے اوجھل رہ جاتے ہیں۔ میں ابھی اپنے ادبی سفر کے ابتدائی مراحل میں ہوں اور سیکھنے، پڑھنے اور بہتر لکھنے کے عمل کو اپنی تخلیقی زندگی کا مستقل حصہ سمجھتا ہوں۔
میرے نزدیک ادب کا اصل مقصد انسان کے اندر احساس، شعور اور آگہی پیدا کرنا ہے۔ میں اسی سوچ کے ساتھ اپنے قلمی سفر کو جاری رکھے ہوئے ہوں۔
مزید پڑھیں





