میرا نام ماہ نور کنول ہے۔ میرا تعلق آزاد کشمیر کے شہر پلندری سے ہے اور اس وقت راولپنڈی، کہوٹہ میں مقیم ہوں۔ میرا ادبی سفر کسی باقاعدہ تربیت یا ادبی پس منظر کا نتیجہ نہیں، بلکہ مطالعے، مشاہدے اور لفظوں سے دیرینہ محبت کا تسلسل ہے۔ میں نے کبھی لکھنے کو شہرت یا شناخت حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں سمجھا، بلکہ میرے لیے قلم ہمیشہ اپنے احساسات اور خیالات کو محفوظ کرنے کا وسیلہ رہا ہے۔
تعلیمی و ابتدائی پس منظر
میری ابتدائی تعلیم ماموں کے گھر رہ کر ہوئی، جبکہ میٹرک گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول دھار دہرچھ سے کیا۔ کچھ گھریلو مجبوریوں کے باعث ایف اے کے بعد تعلیم جاری نہ رکھ سکی، تاہم سیکھنے کا شوق برقرار رہا۔ اسی شوق کے تحت کمپیوٹر، آٹوکیڈ، انٹیریئر ڈیزائننگ، ڈرائنگ، سلائی، بیوٹیشن اور اسپوکن انگلش سمیت مختلف کورسز کیے۔
میرا تعلق ایک ایسے گھرانے سے ہے جہاں ادب کا کوئی خاص پس منظر نہیں تھا۔ بچپن ہی سے مطالعے کا شوق تھا۔ کتابیں، ڈائجسٹ اور لائبریریاں میری دلچسپی کا مرکز رہیں۔ تقریباً چودہ برس کی عمر میں پہلی کہانی لکھی۔ اس سے پہلے شاعری، خطوط اور ڈائری لکھنے کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ کسی باقاعدہ استاد سے رہنمائی نہیں ملی؛ جو کچھ سیکھا، کتابوں، مشاہدے اور وقت کے ساتھ سیکھا۔
ادبی سفر اور تصانیف
ابتدا میں شاعری سے خاص لگاؤ تھا تاہم وقت کے ساتھ نثر اور نثری نظم میرے اظہار کا اہم ذریعہ بن گئیں۔ میں نے کبھی مصنفہ بننے کا منصوبہ نہیں بنایا تھا۔ پہلی کتاب محض اپنے احساسات محفوظ کرنے کے لیے لکھی، پھر یہ سلسلہ آگے بڑھتا گیا اور اب تک سات کتابیں مکمل ہو چکی ہیں۔
میری تصانیف کے نام یہ ہیں:
1. میرا سکون ہو تم
2. سنو تم لوٹ آؤ
3. میں پہلے جیسی نہیں رہی
4. آتشِ غم
5. لفظوں کی قبر
6. خدا تلک
7. لفظوں میں محفوظ ایک لڑکی
ان کتابوں میں شاعری، نثر اور مختلف فکری و جذباتی موضوعات شامل ہیں۔ ان میں سے بیشتر کتابیں ذاتی مطالعے اور احساسات کے لیے مرتب کی گئی تھیں، جبکہ "خدا تلک" کو میں نے شعوری طور پر قارئین کے لیے ترتیب دیا۔ فی الحال یہ کتابیں عام مارکیٹ میں دستیاب نہیں، البتہ آن لائن ادبی پلیٹ فارمز اور سوشل میڈیا کے ذریعے قارئین تک پہنچتی رہی ہیں۔
صحافتی و ادبی وابستگیاں
اخبارات میں لکھنے کا آغاز میرے بھائی منان یونس صاحب کی حوصلہ افزائی سے ہوا۔ ان کے مشورے پر روزنامہ سیون پوائنٹ نیٹ ورک سے صحافتی سفر شروع کیا۔ اس کے بعد میری تحریریں مختلف قومی و بین الاقوامی اخبارات، رسائل اور ادبی پلیٹ فارمز میں شائع ہونے لگیں۔ روزنامہ سیون پوائنٹ نیٹ ورک، روزنامہ عکاس (کولکتہ)، روزنامہ راہ نما، روزنامہ تاحیات، روزنامہ اردو نو (کینیڈا)، روزنامہ نئی روشنی، روزنامہ ڈیلی کشمیر نیوز، روزنامہ موتک، روزنامہ ایکسپریس، سنو نیوز، روزنامہ نوائے وینس، روزنامہ دوراہا، روزنامہ صدائے وطن، روزنامہ دی ون نیوز سمیت متعدد اخبارات میں میری تحریریں شائع ہو چکی ہیں جن کے نام مجھے یاد نہیں ہیں۔
اشاعت کے اس سفر کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ بعض اوقات میرا ایک ہی کالم پچاس سے ساٹھ اخبارات میں شائع ہو جاتا ہے مگر مجھے ان تمام اخبارات کے نام بھی معلوم نہیں ہوتے۔ بعد میں ای میلز یا اخباری تراشوں کی تصاویر موصول ہوتی ہیں تو علم ہوتا ہے کہ تحریر کن کن مقامات تک پہنچی۔ کل کی ہی بات ہے مجھے تیس سے زاہد تصاویر موصول ہوئیں۔ ابتدا میں سمجھ نہ آیا کہ یہ تصاویر کس سلسلے کی ہیں لیکن جب انھیں کھول کر دیکھا تو وہ ایک ہی کالم کی مختلف اخبارات میں اشاعت کی تصاویر تھیں؛ یعنی میرا کالم تیس سے زائد اخبارات میں شائع ہو چکا تھا اور مجھے اس کا پہلے سے علم بھی نہیں تھا۔ میرے لیے یہ تجربہ اس بات کا احساس دلانے والا تھا کہ تحریر کا سفر کبھی کبھی لکھنے والے کے اپنے علم اور اندازے سے کہیں آگے نکل جاتا ہے۔
اسی سفر میں اردو نووا کینیڈا میں ایڈیٹوریل ایڈیٹر کی ذمہ داری انجام دینے کا موقع ملا۔ روزنامہ سیون پوائنٹ نیٹ ورک میں ایگزیکٹو ایڈیٹر، قلم و قرطاس انٹرنیشنل میں منتظمِ اعلیٰ، سنڈے اوج ڈائجسٹ میں آئینہ روبرو انچارج، نئی روشنی میں ایڈیٹوریل ایڈیٹر اور دیگر اداروں میں بھی خدمات انجام دیں۔ اس کے علاوہ سرائے سخن انٹرنیشنل میگزین، ارمغانِ سحر، خواب گرد آفیشل میگزین، اوج سنڈے آفیشل میگزین، مرکزی لکھت و لکھاری اکیڈمی، حلقہ اردو پسند لاہور، سخن آباد پاکستان رائٹر، تجلی رائٹر ہب، اسلامک رائٹر انٹرنیشنل موومنٹ پاکستان، ادبی سفر انٹرنیشنل اور اسکلز سیو اکیڈمی سمیت مختلف ادبی اداروں اور فورمز سے وابستگی رہی ہے۔ ان ادبی وابستگیوں کے دوران محترم بھائی رشید احمد نعیم صاحب کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی بھی میرے سفر کا اہم حصہ رہی۔ انھی کی وساطت سے مجھے "میں ہوں کشمیر کی بیٹی" جیسی ایک منفرد شناخت سے متعارف ہونے کا موقع ملا۔
تخلیقی اصناف اور ادبی موضوعات
میری پسندیدہ اصناف کالم اور نثری نظم ہیں۔ اس کے علاوہ شاعری، افسانے اور کہانیاں بھی لکھتی ہوں۔ میری تحریروں کے موضوعات میں انسانی نفسیات، رشتے، معاشرتی رویے، اخلاقیات، اصلاح، خود شناسی، امید اور زندگی کے مختلف پہلو شامل ہیں۔ گزشتہ چند ماہ میں کالم نگاری کے میدان میں خاصی سرگرم رہی ہوں اور تقریباً چار ماہ کے عرصے میں بارہ سو سے زائد اصلاحی، فکری اور معاشرتی کالم تحریر کر چکی ہوں۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ تحریر کی زبان سادہ، عام فہم اور مؤثر ہو، تاکہ بات صرف پڑھی نہ جائے بلکہ قاری کو سوچنے کا موقع بھی دے۔
ادبی اعزازات و کامیابیاں
ادبی سرگرمیوں اور تحریری مقابلوں میں شرکت کے دوران مختلف اعزازی اسناد اور گولڈ میڈل حاصل کرنے کا موقع ملا۔ اخبارات و رسائل میں تحریروں کی اشاعت، ادبی اداروں میں ذمہ داریوں کی ادائیگی اور قارئین کی پذیرائی بھی میرے لیے حوصلہ افزائی کا باعث رہی ہے۔
تاہم میرے نزدیک کسی لکھاری کے لیے سب سے بڑا اعزاز اس وقت ہوتا ہے جب اس کی تحریر کسی دوسرے انسان کے لیے امید، حوصلے یا سکون کا ذریعہ بن جائے۔ جب کوئی قاری یہ کہتا ہے کہ آپ کے الفاظ نے مشکل وقت میں میرا ساتھ دیا تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ قلم سے وابستہ رہنے کی کوشش بامقصد رہی۔
آنگنِ ماہِ نور ادبی خدمات
میرے ادبی سفر کا ایک اہم مرحلہ "آنگنِ ماہِ نور" کا قیام ہے۔ یہ ایک ادبی پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد نئے اور غیر معروف قلمکاروں کو اپنی تخلیقات پیش کرنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے قیام کے پیچھے یہی خیال تھا کہ بہت سے لوگوں میں لکھنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے مگر انھیں مناسب رہنمائی اور اشاعت کا موقع نہیں مل پاتا۔
آنگنِ ماہِ نور میں نظم، غزل، افسانہ، کہانی، کالم اور مضامین سمیت مختلف اصناف کے قلمکاروں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ کوشش رہتی ہے کہ نئے لکھنے والوں کو رہنمائی ملے، ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے کا موقع دیا جائے اور معیاری تحریروں کو قارئین تک پہنچایا جائے اور اس سلسلے میں ڈیلی کشمیر نیوز کا بہت ساتھ ہے۔ جب بھی آنگن ماہ نور کی داستان لکھی جائے گی وہ ڈیلی کشمیر نیوز کا ذکر کیے بغیر مکمل ہو ہی نہیں سکتی الحمدللہ، اس پلیٹ فارم کی پہلی ادبی سرگرمی میں سو سے زائد قلمکاروں نے شرکت کی۔ یہ میرے لیے خوشی اور حوصلے کا باعث تھا کہ ایک چھوٹی سی کوشش بہت سے نئے لکھنے والوں کو ایک مشترکہ ادبی آنگن فراہم کر سکتی ہے۔
میرا ادبی نظریہ
میں خود کو آج بھی سیکھنے کا سفر طے کرنے والی ایک طالبِ علم سمجھتی ہوں۔ کسی دوسرے لکھاری سے اپنا مقابلہ کرنے کے بجائے میری کوشش ہوتی ہے کہ آج کی ماہ نور، گزشتہ روز کی ماہ نور سے بہتر ہو۔ میرے نزدیک قلم ایک امانت ہے اور اسے مثبت سوچ، اصلاح، انسانیت اور خیر کے لیے استعمال کرنا ہر لکھنے والے کی ذمہ داری ہے۔ میری خواہش ہے کہ میرے الفاظ کسی مایوس انسان کے لیے امید، کسی پریشان دل کے لیے تسلی اور کسی بھٹکے ہوئے ذہن کے لیے درست سمت کا اشارہ بن سکیں۔ میں نے کبھی نام بنانے کے لیے نہیں لکھا؛ بس اپنے احساسات کو لفظوں میں محفوظ کیا اور اللہ پاک نے انھی لفظوں کو میری پہچان بنا دیا۔
میرا ادبی سفر ابھی جاری ہے۔ دعا ہے کہ اللہ پاک میرے قلم کو ہمیشہ خیر، اصلاح اور انسانیت کی بات کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین!
مزید پڑھیں





