سید عبید الرحمٰن آزاد گیلانی
قلمی نام: سید آزاد گیلانی
میرا تعلق آزاد کشمیر کے دارالحکومت اور قدرتی حسن سے مالامال شہر مظفرآباد سے ہے، اگرچہ میری جائے پیدائش ہیر کا شہر جھنگ سیال ہے۔ یوں میری ذات کے ساتھ دو خوب صورت خطوں کی یادیں وابستہ ہیں؛ ایک وہ سرزمین جہاں آنکھ کھولی، بچپن کی دہلیز عبور کی اور ابتدائی شعور نے پرورش پائی، اور دوسرا وہ خطہ جس کی فضاؤں، پہاڑوں اور دریاؤں سے میری نسبت قائم ہے۔
میری ابتدائی تعلیم آٹھویں جماعت تک جھنگ سیال ہی میں ہوئی۔ بچپن کی بہت سی یادیں آج بھی اسی شہر کی گلیوں اور میدانوں میں سانس لیتی محسوس ہوتی ہیں۔ ہیر سیال کے مزار سے ملحقہ میدان میں دوستوں کے ساتھ کرکٹ کھیلنا بھی انہی یادوں کا ایک خوش گوار حصہ ہے۔ زمانۂ طالب علمی میں ایک طرف سلطان باہوؒ کی کرامات اور تصوف کے تذکرے سماعتوں کا حصہ بنتے، تو دوسری طرف ہیر رانجھا کی لازوال داستان اور وارث شاہؒ کے کلام سے شناسائی ہوتی گئی۔ ان دونوں حوالوں نے میرے کم سن ذہن پر عجیب اثر چھوڑا۔ کبھی خیال آتا کہ سلطان العارفین کا لقب بھی ان کی روحانی عظمت کے سامنے کتنا مختصر ہے، اور کبھی وارث شاہؒ کے کلام کو پڑھ کر محسوس ہوتا کہ عشق کی ایک پوری کائنات بیان کرنے کے باوجود شاید انہوں نے بھی عشق کا باب ادھورا چھوڑ دیا ہے۔
زندگی نے ابتدا ہی میں کچھ ایسے موڑ دکھائے جنہوں نے عمر سے پہلے سنجیدگی کا احساس عطا کر دیا۔ ابھی بچپن ہی تھا کہ والد گرامی کے دست شفقت سے محروم ہو گیا۔ ان کی جدائی نے زندگی کے کئی راستے دشوار کر دیے۔ پانچویں اور آٹھویں جماعت میں اسکالرشپ حاصل کرنے کے باوجود حالات نے تعلیم کو اس تسلسل سے جاری رکھنے کی مہلت نہ دی جس کی خواہش تھی۔ تاہم حصول علم کا سلسلہ مکمل طور پر منقطع نہ ہونے دیا اور مختلف نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے بالآخر بی اے تک تعلیم حاصل کی ، اس کے علاؤہ کچھ ڈپلومے بھی ہیں مگر ان کا تعلق میری پیشہ ورانہ زندگی سے ہے ۔ یہ سفر شاید میری خواہش کے مطابق نہ تھا، مگر اس نے زندگی کو قریب سے دیکھنے، حالات کو سمجھنے اور انسانوں کے رویوں کو پرکھنے کا شعور ضرور دیا۔
مطالعے اور لکھنے سے شغف بہت پہلے سے تھا واہ کینٹ میں رہائش کے دوران میں واہ لائبریری کا مستقل ممبر رہا، مگر لکھنے کے شوق کو باقاعدہ ادبی سفر میں ڈھالنے کے لیے جس مستقل مزاجی اور سازگار ماحول کی ضرورت تھی، وہ میسر نہ آ سکا۔ اس کی ایک بڑی وجہ گردشِ حالات تھی اور دوسری یہ کہ میرے حلقۂ احباب میں ایسے اہلِ ذوق افراد کی کمی تھی جو میری حوصلہ افزائی کرتے یا اس شوق کو آگے بڑھانے کا کوئی مناسب پلیٹ فارم فراہم کر سکتے۔ چنانچہ خیال اور لفظ کے درمیان ایک طویل وقفہ حائل رہا۔ دل میں بہت کچھ تھا، مگر اسے قرطاس پر منتقل کرنے کا سلسلہ باقاعدگی اختیار نہ کر سکا۔
پھر زندگی میں چند ایسے محسنوں سے ملاقات ہوئی جنہوں نے میرے اندر موجود ادبی ذوق کو پہچانا، میری حوصلہ افزائی کی اور مجھے اپنی تحریروں کو منظرِ عام پر لانے کا حوصلہ دیا۔ انہی کی رہنمائی سے چند اخبارات تک رسائی ممکن ہوئی اور بعدازاں باغی رائٹرز فورم جیسے ادبی پلیٹ فارم سے وابستگی کا موقع ملا۔ یہ میرے لیے محض ایک تعارف یا اشاعت کا ذریعہ نہیں بلکہ اپنے خیالات، احساسات اور تخلیقی صلاحیتوں کو اظہار دینے کا ایک معتبر وسیلہ ثابت ہوا۔
میں اپنے ان محسنوں کا تہہ دل سے ممنون ہوں۔ ان کی حوصلہ افزائی اور اعتماد میرے لیے سرمایۂ افتخار ہے۔ میرے لفظ لفظ پر ان کی محبت اور شفقت کا قرض ہے، جسے شاید کبھی ادا نہ کر سکوں۔ بعض اوقات زندگی میں ایک درست رہنمائی، ایک حوصلہ افزا جملہ اور ایک مخلص ہاتھ انسان کے اندر برسوں سے خاموش پڑی صلاحیت کو بیدار کر دیتا ہے۔ میرے لیے یہ تجربہ بھی کچھ ایسا ہی رہا۔
ادب سے میری وابستگی محض اظہارِ خیال کی خواہش نہیں، بلکہ اپنے عہد، اپنے معاشرے اور اپنے اردگرد بکھری انسانی کیفیات کو سمجھنے اور بیان کرنے کی ایک کوشش ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ لفظ محض حروف کا مجموعہ نہیں ہوتے؛ ان میں احساس کی حرارت، فکر کی گہرائی اور زمانے کی گواہی بھی پوشیدہ ہوتی ہے۔ ایک اچھا قلم وہاں بھی بات کہنے کی جسارت کرتا ہے جہاں خاموشی مصلحت بن جائے، اور وہاں بھی امید کا چراغ روشن کرتا ہے جہاں حالات مایوسی کو جنم دے رہے ہوں۔
میری کوشش رہتی ہے کہ میری تحریروں میں زندگی کے حقیقی مسائل، انسانی رویّے، معاشرتی تضادات، رشتوں کی نزاکت، اخلاقی اقدار اور احساسات کی سچائی نمایاں ہو۔ شاعری ہو یا نثر، میری خواہش محض لفظوں کی آرائش نہیں بلکہ خیال کی پختگی، اظہار کی شائستگی اور معنویت کی تلاش ہے۔ میں ابھی اپنے ادبی سفر کے ابتدائی مراحل ہی میں خود کو ایک طالبِ علم سمجھتا ہوں، کیونکہ ادب میں سیکھنے کا عمل کبھی اختتام پذیر نہیں ہوتا۔
ماضی اپنی تمام تر تلخیوں اور خوش گوار یادوں کے ساتھ قصۂ پارینہ بن چکا ہے۔ اب ارادہ ہے کہ اپنے قلم اور مثبت سوچ کی روشنائی سے دلوں کے کینوس پر ایسے نقوش ثبت کر سکوں جو وقت کی گرد میں دھندلانے کے بجائے باقی رہیں۔ کسی سوچ کو نئی سمت عطا کریں اور کسی دل میں انسانیت کی قدر کو مزید مستحکم کر سکیں۔
اس سفر میں ابھی بہت کچھ سیکھنا، پڑھنا اور لکھنا باقی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مجھے فکر کی پاکیزگی، قلم کی حرمت، اظہار کی تاثیر اور اپنے لفظوں کو مثبت مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اس کے ساتھ باغی رائٹرز فورم کی محبت، اعتماد اور حوصلہ افزائی بھی میرے لیے باعثِ تقویت ہے۔ امید ہے کہ یہ ادبی رفاقت میرے قلمی سفر کو مزید وسعت اور پختگی عطا کرے گی۔
میرا یقین ہے کہ انسان کی اصل پہچان اس کے نام کی شہرت میں نہیں، اس کے چھوڑے ہوئے اثر میں ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں





