میرا نام عبدالحفیظ شاہد ہے۔ میرا تعلق پنجاب کے ضلع خانیوال کے مردم خیز قصبے مخدوم پور پہوڑاں سے ہے۔ میں نے مینجمنٹ سائنسز میں ایم ایس کیا ہے اور بسلسلۂ ملازمت واہ کینٹ میں رہائش پذیر ہوں۔
لکھنے پڑھنے سے شغف تو ابتدا ہی سے تھا، تاہم میرے باقاعدہ ادبی سفر کا آغاز کورونا کے ایام میں ہوا۔ ابتدا میں چند تحریروں سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ رفتہ رفتہ ایک مستقل مشغلے اور پھر زندگی کے اہم حصے میں تبدیل ہوتا چلا گیا۔ مطالعے، مشاہدے اور اظہارِ خیال کی خواہش نے قلم سے ایسا رشتہ استوار کیا جو آج بھی پوری دل جمعی کے ساتھ قائم ہے۔
اس دوران افسانہ نگاری، مضمون نویسی، کہانی نویسی، بچوں کے ادب، شاعری اور آزاد نظم سمیت مختلف اصنافِ ادب میں طبع آزمائی کی۔ بچوں کے لیے دلچسپ، سبق آموز اور معلوماتی کہانیاں لکھیں، اصلاحی و معلوماتی مضامین تحریر کیے اور بڑوں کے لیے معاشرتی، فکری اور ادبی موضوعات کو اپنی تحریروں کا حصہ بنایا۔ شاعری کے میدان میں بھی اپنے احساسات و خیالات کو لفظوں میں ڈھالنے کی کوشش کی۔ سائنسی ادب سے بھی خصوصی دلچسپی پیدا ہوئی اور سائنسی کہانیاں، سائنسی مضامین اور ٹائم ٹریولنگ جیسے منفرد اور تخیلاتی موضوعات پر لکھنے کا آغاز کیا۔ بالخصوص بچوں کے لیے ایسی سائنسی کہانیاں تخلیق کرنے کی کوشش کی جن کے ذریعے علم و آگہی کے ساتھ تخیل کی نئی دنیاؤں کے در وا کیے جا سکیں۔ اس کے علاوہ آپ بیتی اور دیگر نثری اصناف میں بھی اظہارِ خیال کا موقع ملا۔
بچوں کے ادب سے خصوصی شغف کے باعث پاکستان کے متعدد معروف بچوں کے رسائل کے لیے لکھنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ ان میں ماہنامہ پھول، بچوں کا باغ، بچوں کی دنیا، ماہنامہ جون، ماہنامہ پیغام ڈائجسٹ، ماہنامہ جگنو اور مسلمان بچے سمیت دیگر معروف بچوں کے رسائل شامل ہیں۔ ان رسائل میں کہانیوں، مضامین، سائنسی کہانیوں اور دیگر تخلیقی تحریروں کی اشاعت میرے لیے ہمیشہ باعثِ مسرت اور حوصلہ افزائی رہی ہے۔ اس کے علاوہ بڑوں کے معروف ادبی جرائد اور مختلف اشاعتی پلیٹ فارمز پر بھی میری تحریریں شائع ہوتی رہی ہیں۔
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس مختصر ادبی سفر میں مختلف قومی اور ادبی سطح کے تحریری مقابلوں میں شرکت اور نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے کا موقع ملا۔ اب تک سو سے زائد تحریری مقابلے جیتنے کا اعزاز حاصل ہو چکا ہے۔ ان مقابلوں میں کہانی نویسی، افسانہ نگاری، مضمون نویسی، بچوں کے ادب، سائنسی کہانیوں، شاعری اور دیگر تخلیقی اصناف شامل ہیں۔ مختلف موضوعات پر اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو آزمایا اور ہر بار کچھ نیا لکھنے اور بہتر انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی۔ الحمدللہ، ان مقابلوں میں متعدد اول، دوم اور سوم انعامات حاصل ہوئے، جب کہ نقد انعامات، تعریفی اسناد اور دس سے زائد نمایاں ادبی ایوارڈز بھی اس سفر کا حصہ بنے۔ یہ تمام کامیابیاں میرے لیے باعثِ افتخار ہونے کے ساتھ ساتھ مزید محنت اور بہتر تخلیق کا حوصلہ بھی ہیں۔
مختلف کتابوں میں بطور شریک مصنف (Co-author) شمولیت کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ یوں میری تخلیقات رسائل اور جرائد کے صفحات سے آگے بڑھ کر کتابی صورت میں بھی قارئین تک پہنچیں۔ مختلف ادبی مجموعوں اور کتابوں کا حصہ بننا میرے لیے ایک خوش گوار تجربہ رہا، جس نے ادبی دنیا سے میری وابستگی کو مزید مستحکم کیا۔
اس دوران مختلف ادبی تنظیموں اور فورمز کے ساتھ وابستہ ہو کر کام کرنے، ادبی سرگرمیوں میں حصہ لینے اور سینئر اہلِ قلم سے سیکھنے کے مواقع بھی میسر آئے۔ ان روابط نے ادبی ذوق کو جلا بخشی اور تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔ مختلف ادبی پلیٹ فارمز پر ذمہ داریاں نبھانے اور تقریبات کے انعقاد و انتظام میں حصہ لینے کا تجربہ بھی حاصل ہوا۔
کتب پر تبصرہ نگاری اور ادبی تقریبات کی روداد نویسی بھی میرے ادبی سفر کا ایک اہم حصہ رہی ہے۔ اس حوالے سے ایک منفرد اعزاز ایک ادبی تنظیم کے پروگرام کی تقریباً بیس ہزار الفاظ پر مشتمل طویل روداد تحریر کرنے کا حاصل ہوا۔ یہ میرے لیے ایک یادگار ادبی تجربہ تھا، جس میں تقریب کے مختلف گوشوں، اہلِ قلم کی گفتگو، ادبی سرگرمیوں اور اہم واقعات کو تفصیل کے ساتھ قلم بند کیا۔ میرے نزدیک روداد نگاری محض واقعات کا بیان نہیں، بلکہ اپنے عہد کی ادبی سرگرمیوں اور یادگار لمحات کو محفوظ کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ہے۔
اس ادبی سفر میں مختلف اصناف کے ساتھ ساتھ زندگی کے مشاہدات، معاشرتی رویوں، انسانی جذبات اور روزمرہ تجربات کو بھی موضوعِ تحریر بنایا۔ میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ تحریر میں سادگی، روانی اور اثر آفرینی برقرار رہے اور بات اس انداز میں قاری تک پہنچے کہ وہ اسے اپنی زندگی اور اپنے ماحول سے مربوط محسوس کر سکے۔
الحمدللہ، کورونا کے دنوں میں شروع ہونے والا یہ قلمی سفر آج بھی پوری دل جمعی کے ساتھ جاری ہے۔ اس دوران بہت سے اہلِ قلم کی محبت، رہنمائی اور حوصلہ افزائی حاصل ہوئی۔ مدیران، ادبی شخصیات، اساتذہ اور احباب کی سرپرستی نے ہمیشہ آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا، جس کے لیے میں تہِ دل سے شکر گزار ہوں۔
میرے نزدیک ادب سے وابستگی محض انعامات، اسناد اور اعزازات کے حصول کا نام نہیں، بلکہ اپنے احساسات، مشاہدات، خیالات اور تجربات کو لفظوں کے ذریعے دوسروں تک پہنچانے کا ایک بامعنی وسیلہ ہے۔ میری خواہش ہے کہ میرا قلم اسی طرح علم، ادب، سائنس، شعور اور مثبت سوچ کے فروغ کے لیے رواں دواں رہے اور میری تحریریں بچوں، نوجوانوں اور اہلِ ذوق کے لیے کسی نہ کسی صورت فائدہ مند ثابت ہوں۔
اس موقع پر باغی رائٹرز فورم کی ادبی خدمات اور کاوشوں کا ذکر بھی ضروری سمجھتا ہوں، جو ادب کے فروغ، تخلیقی صلاحیتوں کی آبیاری اور اہلِ قلم کی حوصلہ افزائی کے لیے قابلِ قدر کردار ادا کر رہا ہے۔ فورم نے نئے لکھنے والوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع فراہم کرنے، ان کی تحریروں کو مناسب پذیرائی دینے اور ادبی سرگرمیوں کے ذریعے ایک مثبت تخلیقی ماحول تشکیل دینے کی جو کوششیں کی ہیں، وہ لائقِ تحسین ہیں۔ ایسے ادبی پلیٹ فارمز کسی بھی معاشرے میں علم و ادب کی شمع روشن رکھنے اور نئی نسل میں مطالعے اور تخلیق کا ذوق بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ دعا ہے کہ باغی رائٹرز فورم کا یہ ادبی سفر مزید وسعت اختیار کرے اور اس کی کاوشیں اردو ادب کے فروغ اور نئے اہلِ قلم کی رہنمائی کا ذریعہ بنتی رہیں۔
الحمدللہ! یہ سفر اب تک بے شمار تجربات، کامیابیوں اور یادگار لمحوں سے عبارت ہے۔ قلم سے رشتہ قائم ہے، شوق برقرار ہے اور ابھی بہت کچھ لکھنا باقی ہے۔
عبدالحفیظ شاہد
مزید پڑھیں




