عِلم کی پہلی پہچان حِلم ہے انسانی سوچ جب ذاتی مفادات کے قفس سے نکل کر اجتماعیت کے وسیع افق پر پرواز کرتی ہے، تو وہ لفظوں کو سجدہ گاہِ شوق بنا دیتی ہے۔ فکر و تخیل کے تانوں بانوں سے لفظوں کی ردا بننا آسان ہے لیکن تحریر وہی زندہ رہتی ہے جو ضمیر کو جھنجھوڑ دے، مثبت فکر پیدا کرکے نئے جذبوں اور انسانیت کے مفاد کے لیے کچھ کر گزرنے کی امنگوں پر نہ صرف آمادہ کرے بلکہ عملِ پہیم کی صورت اخلاق و کردار میں مجسم دکھائی دے اور اس کا اثر قلب و باطن میں اتر کر خوشبو بن جائے۔
میرا تعلق ڈسکہ، ضلع سیالکوٹ (پنجاب) کی اس زرخیز مٹی سے ہے جہاں محبتیں پنپتی ہیں اور علم و ہنر کی روایتیں پروان چڑھتی ہیں۔ میرے لیے خیالات و افکار کو الفاظ کے روپ میں ڈھالنے کا یہ سفر محض ایک مشغلہ یا وقت گزاری کا ذریعہ نہیں، بلکہ ذہنی آسودگی کا سبب بھی ہے۔
میری شعوری، فکری اور نظریاتی اساس کی تعمیر میں علمِ دین اور دنیاوی علوم دونوں کا برابر حصہ ہے۔ میں نے جامعہ پنجاب، لاہور سے ایم اے اردو اور بی ایڈ کی اسناد حاصل کیں ،اور الحمدللہ تعالی درسِ نظامی، ترجمہ و تفسیرِ قرآن اور فاضل عربی کے نور سے اپنے باطن کو جلا بخشی۔ ٹیوٹا (TEVTA) سے حاصل کردہ ڈپلومہ میری تعلیمی جہت کا ایک اہم رخ ہے۔ڈسکہ کے ایک نجی تعلیمی ادارے میں تدریسی شعبے سے وابستہ ہوں۔
مطالعے کا شوق بچپن ہی سے تھا۔ تاریخی ناول، تفاسیر و احادیث اور اسلامی تاریخ پر مبنی تصانیف کے اوراق ہمیشہ میری بساطِ جاں رہے ہیں۔ کراچی سے شائع ہونے والا "روحانی ڈائجسٹ" میرے تحریری سفر کا باقاعدہ سبب بنا، جس میں نو آموز لکھنے والوں کی مختصر تحاریر ہر ماہ شامل کی جاتی تھیں۔ آغازِ سفر میں، میں نے اپنے خیالات کو اپنے مشفق والدِ محترم کے نام سے مختلف اخبارات و رسائل کی نذر کیا، لیکن گذشتہ سال 2025ء میں اپنے نام کے ساتھ باقاعدہ اس دشتِ ادب میں قدم رکھا۔2025 میں ہی"ینگ رائٹرز کمپٹیشن کلب" جوائن کیا اور 2026ء میں "انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز" کا حصہ بنی۔ اسی سال پہچانِ پاکستان نیوز گروپ کی طرف سے اولین ادبی پہچان کے طور پر مجھے "عہدِ ادیب ایوارڈ 2026" سے نوازا گیا، جو ایک اعزاز سے بڑھ کر میری ادبی کوششوں کی پہلی باقاعدہ حوصلہ افزائی ہے۔
میرے نزدیک قلم مقدس ترین امانت اور ایک بھاری معاشرتی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔میں ذاتی طور پر الفاظ کے انبار لگانے کی قائل نہیں ہوں، بلکہ کوشش ہوتی ہے کہ میری تحریریں قاری کو انفرادی فکر، سوچ، الجھاؤ اور ذاتی مفادات کے حصار سے نکال کر اجتماعیت کے وسیع تر افق سے روشناس کروائیں۔ اسی سوچ کے تحت شمائل و سیرتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اخلاقی و دینی تعلیمات کا فروغ اور جدید دور کے معاشرتی مسائل کا اسلامی قوانین و اصولوں کے مطابق حل میرے تحریری موضوعات میں سرِفہرست ہوتے ہیں۔ مطالعے کے دوران حکیم الامت علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ کی "کلیاتِ اقبال" نے مجھے ہر بار جھنجھوڑا اور جمود توڑ کر عمل پر آمادہ کیا۔ میری خواہش ہے کہ کچھ ایسی تحاریر قلمبند کروں جو میرے بعد بھی زندہ و جاوداں رہ کر کسی نا کسی طور انسانیت کی خدمت و رہنمائی کرتی رہیں۔ اسی عزم کے پیشِ نظر میری پہلی تصنیف "خوشبوئے سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم" کی طباعت الحمدللہ گذشتہ دنوں تکمیلی مراحل سے گزر چکی ہے، جبکہ دوسری تصنیف پر کام جاری ہے جو ان شاء اللہ 2027 میں مکمل ہو جائے گی۔
میرے نزدیک زندگی کا کل فلسفہ بس اتنا ہے کہ اس مختصر ترین قیام گاہ میں اگر میں اپنی ذات یا الفاظ سے کسی کا نفع نہیں کر سکتی تو میری وجہ سے کسی کا ذرہ بھر نقصان یا کسی قسم کی اذیت بھی نہ ہو، دعا ہے کہ ہمیشہ اخلاص اور عجز وانکسار ہماری ذات و شخصیات اور تحاریر کا خاصہ رہے۔آمین!
اک تعفن غرور کی دنیا
عاجزی میں نجات کی خوشبو
اپنے اپنے مزار میں واصف
اپنی اپنی صفات کی خوشبو۔۔!
مزید پڑھیں





