ہفتہ، 7 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

میرا تعارف، فریدہ خانم

نقطہ نظر

نام فریدہ خانم ہے۔ 26 جولائی کو لاہور میں پیدا ہوئیں اور یہیں مقیم ہیں۔ ایم اے اردو اور ایم ایڈ اسپیشل ایجوکیشن کی تعلیم حاصل کی۔ وہ اردو ڈائجسٹ میں معاون مدیرہ رہ چکی ہیں، ایک اسکول میں لائبریری انچارج کے طور پر بھی کام کیا ہے۔

مختلف اخبارات کی رپورٹر رہی ہیں اور صحافتی و ادبی سرگرمیوں میں بھی مصروفِ عمل ہیں۔

کالج کے دور میں ایک ڈائجسٹ میں پہلی بار غزل بھیجی تو اسے نمایاں طور پر شائع کیا گیا، جس کے بعد باقاعدہ اشاعت کا سلسلہ شروع ہوا، جو آج تک جاری ہے۔ باقاعدہ کوئی استاد نہیں ہے۔ وہ سب سینئرز کو استاد سمجھتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ویسے بھی سب سے بڑا استاد تو زمانہ ہے۔

جن رسائل و اخبارات میں ان کا کلام اور تحریریں شائع ہوئیں، ان کی تعداد بے شمار ہے، جن میں بدلتے رنگ، پاکیزہ ڈائجسٹ، سچی کہانیاں، ڈر ڈائجسٹ، عمران ڈائجسٹ، آنچل ڈائجسٹ، حنا ڈائجسٹ، ماہنامہ ڈالڈا کا دسترخوان، اخبار جہاں، نوائے وقت، جنگ، روزنامہ راہنما، سسٹم، بارڈر لائن، ماہنامہ بیاض، ماہنامہ حریم ادب، روزنامہ ٹھنڈی آگ، روزنامہ بلیکھا، ماہنامہ جھنگ رنگ، روزنامہ مارگلہ نیوز، روزنامہ کسان ٹائمز انٹرنیشنل، روزنامہ مشرق، وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔

وہ سوشل میڈیا پر بھی سرگرمِ عمل ہیں۔ ادیبوں، شاعروں اور ان کی کتابوں کے لیے فیس بک پر ایک گروپ ’’خانم کتب خانہ‘‘ کے نام سے بنایا ہے۔

ان کے خاندان میں ان کی معلومات کے مطابق کوئی فرد شاعری سے وابستہ نہیں ہے، لہٰذا وہ کہتی ہیں:

’’مجھے یہ صلاحیت وراثت میں نہیں، بلکہ اللہ کی طرف سے ملی ہے۔ مجھے کتابوں سے عشق پیدائشی ہے۔ نصابی کتب کے علاوہ دیگر موضوعات پر مختلف کتابیں پڑھتی تھی۔ گھر میں میرے علاوہ کسی اور کو یہ شوق نہیں تھا۔ بہت چھوٹی سی عمر میں پڑھا کرتی تھی۔ اس دور میں بچوں کے لیے چھوٹی چھوٹی کتابیں ہوا کرتی تھیں، پھر ’ناگ عنبر ماریہ‘ کی سیریز اور مرحوم اشتیاق احمد، جو کہ میرے پسندیدہ ترین مصنف ہیں، کے ناولز اور خاص نمبرز کی دیوانی تھیں۔ پھر عمران سیریز سے ہوتے ہوئے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑوں کے ادب کی طرف آئی اور بے شمار موضوعات پر پڑھا۔

لکھنے کے بارے میں کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ میں صرف پڑھتی تھی اور بے تحاشہ، حتیٰ کہ گھر میں آنے والے نمک مرچ کے کاغذ اور راستوں میں لگے سائن بورڈز بھی پڑھا کرتی تھی۔ لکھنے کی کوئی منصوبہ بندی نہیں تھی، نہ ہی میرے آس پاس کوئی ایسی شخصیت تھی جو لکھتی ہو اور اسے دیکھ کر تحریک ہوئی ہو۔ جب کالج میں داخلہ لیا تو خودبخود لکھنا شروع کر دیا۔ کسی کو کبھی دکھایا بھی نہیں تھا۔ ایک بار ایک ماہنامہ پڑھتے ہوئے یونہی خیال آیا کہ بھیج کر دیکھوں۔ جب بھیجا تو انہوں نے نمایاں طور پر شائع کیا۔ وہ خوشی بیان سے باہر ہے۔ پہلی تحریر کا شائع ہونا ہر لکھاری کے لیے زندگی کی انوکھی خوشی اور کامیابی ہوتی ہے۔‘‘

اردو شاعری کے دو مجموعے ’’مختلف‘‘ 2011ء میں اور ’’من‘‘ 2019ء میں شائع ہو چکے ہیں، جبکہ پنجابی کلام کا ایک مجموعہ زیرِ ترتیب ہے۔

بچوں، پھولوں، پودوں اور جانوروں سے بے حد محبت اور لگاؤ ہے۔ فطرت سے قربت اور قدرت کی خوب صورت تخلیقات سے محبت ان کی شخصیت کا نمایاں پہلو ہے، تاہم بچوں سے ان کا خصوصی لگاؤ انہیں بچوں کے لیے لکھنے کی طرف لے آیا۔ بچوں کی معصومیت، احساسات اور مسائل کو اپنی شاعری کا موضوع بناتے ہوئے انہوں نے بچوں کے لیے نظمیں لکھیں۔ اسی سلسلے میں ان کی بچوں کے لیے پہلی کتاب ’’میں فلسطینی بچہ ہوں‘‘ 2025ء کو شائع ہوئی۔ اس کتاب کا نام رکھنے کا مقصد فلسطین کے مظلوم بچوں کی آواز بننا اور ان کے دکھ، درد اور جدوجہد کو شاعری کے ذریعے اجاگر کرنا ہے۔ یہ کتاب بچوں کے لیے لکھی گئی نظموں پر مشتمل ہے، جس میں حمد، نعت، حب الوطنی اور بچوں کی اصلاح و تربیت کے موضوعات بھی شامل ہیں۔

شاعری کے علاوہ انہوں نے کہانیاں بھی لکھیں، جو ترجمہ شدہ، سچی اور افسانوی تھیں۔ اس کے علاوہ انٹرویوز، سروے، آرٹیکلز اور ادبی و سماجی تقریبات کی رپورٹنگ بھی کرتی ہیں۔ سماجی کارکن بھی ہیں اور اس بارے میں لکھتی ہیں:

’’مجھے اللہ کی طرف سے خطرناک حد تک حساسیت ملی۔ میری حساس طبیعت نے مجھے زندگی میں بہت نقصان دیا۔ لوگوں کی مدد میں کئی بار اتنی آگے چلی گئی کہ جو خود میرے لیے مصیبتوں اور دکھوں کا باعث بنا۔ بہرحال ان سب باتوں سے الگ مجھے اللہ کی مخلوق میں آسانیاں بانٹنا بہت پسند ہے۔ اس سے جو سکون ملتا ہے، وہ لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتا۔ ذاتی طور پر بھی کچھ نہ کچھ کرتی رہتی ہوں اور ان کاموں کے لیے کئی اداروں میں بھی گئی۔ تھیلی سیمیا کے بچوں کے لیے خون کا انتظام، ایڈز کے پراجیکٹس اور جائیکا کمپنی آف جاپان اور ہلال احمر پنجاب کے تعاون سے پنجاب کے چھپن اسکولوں میں عطیہ خون کی آگاہی اور تحریک کے لیے ’بلڈ اویئرنس سوسائٹیز‘ قائم کیں اور بے شمار بلڈ کیمپس میں کام کیا۔ سن 2008ء میں آنے والے ملک گیر زلزلے میں فنڈ ریزنگ کے مختلف پراجیکٹس کیے۔ اسی سلسلے میں لاہور سے ایک ٹرین ’کاروان محبت‘ کے نام سے چلائی گئی، اس میں بھی کام کیا۔ خصوصی افراد (معذور بچوں) کے لیے کئی سال کام کیا۔ ان کی حوصلہ افزائی اور مطالعے کی طرف رجحان پیدا کرنے کے لیے مختلف سرگرمیاں کراتی رہی ہیں۔

انہیں وائس اوور کا بھی شوق ہے اور ریڈیو سے بچپن سے لگاؤ ہے۔ ایف ایم کے کئی چینلز بھی شوق سے سنا کرتی تھیں۔ خطوط اور فون کالز کے ذریعے بہت سے پروگراموں میں حصہ لینے کے ساتھ ساتھ انعامی پروگراموں میں حصہ لے کر بے شمار انعامات بھی جیتے ہیں۔ انہیں بے حد شوق ہے کہ ان کی آواز کسی کمرشل، ڈرامے، ڈاکومنٹری اور کسی ایجوکیشنل سی ڈیز میں آئے۔ اس سلسلے میں انہیں ایک بار ٹیلی نار کے ریڈیو ڈرامے ’’عید کی کھچڑی‘‘ میں موقع ملا، جو کہ بہت یادگار اور خوش گوار رہا۔اپنے مشاغل اور ادبی سرگرمیوں کے بارے میں لکھتی ہیں:

’’ویسے تو بہت سے ہیں، پر سب سے محبوب ترین اور میری زندگی میں آکسیجن کا درجہ رکھنے والا مشغلہ کتابیں پڑھنا ہے۔ اس کے علاوہ سیروسیاحت ، باغبانی اور جانوروں کو پالنا بہت زیادہ پسند ہے۔ادبی سرگرمیاں تو عرصہ دراز سے جاری ہیں۔ ادبی محافل، کتب میلوں اور کانفرنسوں میں شرکت کرتی ہوں۔ سینئرز کے ساتھ ساتھ جونیئرز کے انٹرویوز اور حوصلہ افزائی کرتی ہوں۔

کتابیں لکھنے پر لکھنے والے کی زندگی کا بڑا حصہ لگ جاتا ہے۔ جب یہ شائع ہوتی ہیں تو لوگ خریدنے کو تیار نہیں ہوتے، ان کا اصرار ہوتا ہے کہ انہیں مفت ملے۔ اس صورتِ حال میں شاعر اور مصنف کی بڑی دل شکنی ہوتی ہے۔ یہ سب دیکھتے ہوئے میں نے فیس بک پر ایک گروپ ’خانم کتب خانہ‘ کے نام سے بنایا ہے۔ اس میں کتاب کے سرورق کے ساتھ مصنف کے بارے میں مختصر معلومات درج ہوتی ہیں۔‘‘

ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں کئی ادبی تنظیموں کی طرف سے ایوارڈز اور تعریفی اسناد مل چکی ہیں۔