میرا نام شگفتہ ناہید ہے ۔ قلمی نام گوہر منتخب کیا۔ یوں ادبی حلقوں میں شگفتہ ناہید گوہر کے نام سے جانی جاتی ہوں ۔ یکم دسمبر 1973 کو راولپنڈی نے مجھے اپنی آغوش میں جگہ دی ۔ ابتدائی تعلیم اپنے شہر سے حاصل کی ۔ بی ۔ اے کے بعد ایم اے پنجاب یونیورسٹی سے کیا ۔ بی ۔ ایڈ کی ڈگری چکلالہ ایئربیس سے حاصل کی ۔ شادی کے بعد خاتون خانہ کی حیثیت سے لاہور میں رہائش پذیر ہوں ۔ مطالعے کا شوق تب سے تھا جب سے پورے جملے پڑھنے اور سمجھنے شروع کیے ۔ پہلے اخبارات پھر رسائل سے علم کی پیاس بجھائی ۔ کالج میگزین میں مضمون، افسانہ اور انشائیہ گاہے بگاہے لکھتی رہی ۔ لٹریری سوسائٹی کی سر گرم رکن رہی ۔ شادی کے بعد بچوں کی وجہ سے قلم کاتعلق کافی عرصے تک منقطع رہا ۔باقاعدہ طور پر 2020 میں ادبی تنظیم " پاسبان بزم قلم" میں شمولیت اختیار کی اور مختلف اخبارات میں کالم لکھنے شروع کیے ۔ جن میں نمایاں " روزنامہ جناح" روز نامہ صحافت" " روز نامہ اب تک " شامل ہیں ۔ کچھ عرصہ " سنڈے میگزین مشرق " اور جہان پاکستان " میں فیچر نگاری بھی کی ۔ پاسبان بزم قلم کے پلیٹ فارم سے سر مدثر کلیم سبحانی کے ساتھ مل کر متعدد بار نو آ موز لکھاریوں کی رہنمائی کےیے املاء کورسز کروائے ۔ راستے کھلتے گئے اور میں کئی تنظیموں کا حصہ بتی رہی ۔ " تحریم رائٹرز فورم " کی جانب سے مرتب کردہ انتھالوجیز " حی الفلاح " ، " پاداش" ، " ہر صفحہ کہانی ہے " میں کہانیاں شامل ہیں ۔ ایک سال پہلے معروف ادبی تنظیم " انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز " سے بھی منسلک ہوئی ۔ ان کی انتھالوجی" ادھورے لمس کی سرگوشیاں" میں میرے دو افسانے شامل ہیں ۔ " پاسبان بزم قلم " کے زیر اہتمام" رنجش " کے نام سے انتھالوجی زیر طبع ہے ۔
سہ ماہی میگزین" راہرو " اور " ماہنامہ قلمی آ شیاں میگزین " میں بھی تحاریر شائع ہوتی ہیں ۔
ادبی خدمات کے صلے میں" ماہنامہ پھول میگزین" کی جانب سے ادب اطفال ایوارڈز
ساتویں
آ ٹھویں
اور نویں اہل قلم کانفرنس میں موصول ہوئے ۔
تحریم رائٹرز فورم کی جانب سے " بانو قدسیہ ایوارڈ" ملا۔
گلبل کانفرنس میں " پاسبان بزم قلم پاکستان " ایوارڈ دیا گیا ۔
اس کے علاؤہ متعدد سر گرمیوں میں نمایاں کارکردگی کے عوض اسناد اور انعامات مقدر بنے ۔
حال ہی میں " باغی رائٹرز فورم" کا حصہ بننے کا نادر موقع ملا ہے ۔ ان شاءاللہ یہ سفر ادبی خدمات کو مزید بڑھوتی دینے میں ممد و معاون ثابت ہو گا ۔
مزید پڑھیں




