ہفتہ، 7 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

میرا تعارف،حافظ ملک جمشید

نقطہ نظر
hafiz jamshed0

ویسے تو آپ بیتی بھی ایک خاص صنف ہے، مگر مجھے اس سے شغف نہیں اور اس کی خاص وجہ یہی ہے کہ جہاں مصنفین آپ بیتی لکھتے ہیں، وہاں وہ لفظوں کی چوری بھی کرتے ہیں۔ یعنی اپنی زندگی کی مکمل روداد نہیں لکھتے، بلکہ اچھی اچھی باتیں لکھتے اور بُرے اور تلخ واقعات کو چھوڑ دیتے ہیں، جبکہ آپ بیتی کا مطلب ہی زندگی کی کتاب کو مکمل طور پر سامنے والے کے سامنے کھول دینا ہے۔


باغی رائٹرز فورم نے جب تعارف نامہ والی سرگرمی کا آغاز کیا تو سوچا کہ کچھ اپنا حالِ دل بھی سنا دوں کہ کہاں سے تعلیم حاصل کرتے کرتے کب جا کر لوگوں کو تعلیم دینی شروع کر دی، پتہ ہی نہ چلا۔ یہ سن 1999ء کا زمانہ تھا، جب والدِ محترم دوپہر کے وقت گھر کی جانب روانہ ہوئے تو یہ خوشی کا پروانہ بھی ساتھ لائے کہ پرسوں بروزِ سوموار سے تمہاری تعلیمی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز ہو گا۔ یوں تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز جماعت پریپ اور اسکول ”نیشنل پبلک اسکول جھنگی“ سے ہوا، جہاں سے ہی میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔


دورانِ تعلیم یادگار واقعات میں سے جماعتِ ششم کے زمانے میں زلزلے کا واقعہ تھا، جس نے پورے خیبرپختونخوا کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور ہماری تعلیمی سرگرمیاں معطل ہو گئی تھیں۔ رمضان المبارک کا مہینہ، صبح آٹھ بج کر باون منٹ، انگلش کی کلاس اور سبق کا ٹیسٹ، مگر یک دم سب کچھ بدل گیا اور زلزلے کی ہولناکی نے سب کو افراتفری میں ڈال کر صحن میں جانے پر مجبور کر دیا، جس کی وجہ سے ایک ماہ تعلیمی سرگرمیاں معطل رہیں۔


اسی طرح جماعتِ ہفتم میں کوئز مقابلے میں ہماری کلاس کی بہترین کارکردگی، جس میں راقم گروپ لیڈر تھا، اور پھر الوداعی کلاس یعنی میٹرک کا زمانہ یادگار رہا، جس میں چودہ اگست کی تقریب، جو خاص ہماری کلاس کی خواہش پر پرنسپل نے منعقد کروائی۔ اسکول کی تعلیم کے ساتھ ساتھ حفظِ قرآن میں بھی داخلہ لیا ہوا تھا، جس کی ابتدا تو زلزلے سے قبل ہوئی، مگر زلزلہ، پھر ایک استاد کا چھوڑ جانا اور دوسرے کا فوت ہونا، اس سے حفظ بھی متاثر ہوا، مگر حوصلہ اور ہمت برقرار تھی۔ تو چھٹی جماعت کے زمانے میں قاری جان محمد صاحب جیسے مخلص استاد نصیب ہوئے، جنہوں نے ابتدا سے قاعدہ تجوید کے ساتھ پڑھایا اور پھر حفظ کا باقاعدہ آغاز کیا، جو دسویں کی ابتدا میں مکمل ہوا اور رمضان المبارک میں دستارِ فضیلت میرے سر پر سجی، جو زندگی کی سب سے بڑی خوشی اور کامیابی تھی۔ میٹرک کے سال کے بعد رمضان المبارک میں تراویح میں پہلا مصحف بھی سنایا، جو تاحال جاری ہے، اللہ کے فضل سے۔


میٹرک کے بعد والدین کی خواہش تھی کہ میں کالج کی تعلیم حاصل کروں یا کم از کم تین سالہ ڈپلومہ کر لوں، جبکہ میری ذاتی خواہش عالم کے کورس کی تھی اور اسی وجہ سے کافی دن گھر میں ناراضگی میں گزرے۔ والدہ محترمہ (مرحومہ) نے گورنمنٹ ٹیکنیکل کالج میں داخلہ بھی کروا دیا تھا، مگر میں بضد تھا کہ مدرسے کی تعلیم حاصل کرنی ہے، جبکہ دنیاوی تعلیم ساتھ ساتھ اور بہت زیادہ حاصل کروں گا۔ بالآخر یہ کشمکش ختم ہوئی اور والدین کو راضی کر کے ماموں اور استادِ محترم کی مشاورت سے جامعہ اسلامیہ مدنیہ سپلائی میں شعبۂ کتب میں داخلہ لیا، جہاں تین درجات تک تعلیم حاصل کی۔


جامعہ میں بہت ہی قابل اور محنتی اساتذہ سے دینی علم حاصل کرنے کی اللہ پاک نے توفیق عطا فرمائی۔ اساتذۂ کرام میں ”مولانا عنایت الرحمن صاحب، مولانا قاضی محسن صاحب، مولانا بابر صاحب، مولانا ذیشان صاحب، مولانا محمد راشد صاحب، مولانا علی الرحمن صاحب اور مولانا کامران صاحب“ شامل تھے۔ درجۂ ثالثہ کے بعد دارالعلوم معارف القرآن سول آفیسر کالونی، ایبٹ آباد میں مفتی وقار احمد تنولی صاحب کے مدرسے میں داخلہ لیا، جہاں پہلے سے بڑھ کر محبت کرنے والے اساتذۂ کرام سے تعلیم حاصل کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ دارالعلوم میں ایسا ہی محسوس ہوتا کہ جیسے اپنے گھر میں ہیں اور مفتی صاحب روحانی والد کی حیثیت سے تربیت فرماتے۔ دارالعلوم میں ابتدائی طالبِ علم ہونے اور سینئر طالبِ علم ہونے کا اعزاز بھی حاصل تھا، کیونکہ یہ مدرسہ اسی سال بنایا گیا تھا۔ یہاں پر ”مفتی وقار احمد تنولی صاحب کے علاوہ مولانا محمد اشرف صاحب، مولانا عبد الصبور خیالی صاحب، مولانا عزیر گل صاحب، مولانا صفدر صاحب، مولانا داؤد صاحب اور مولانا تاج صاحب، مولانا بلال صاحب“ جیسے اساتذۂ کرام کی نسبت حاصل ہوئی۔


درجۂ سادسہ تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد اساتذۂ کرام سے اجازت لے کر جامعہ سراج العلوم ٹھاکرہ مانسہرہ میں درجۂ سابعہ میں داخلہ لیا، مگر وہاں چند ماہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد لاہور چلا گیا، جہاں جامعہ مدنیہ جدید رائیونڈ روڈ میں داخلہ لیا۔ جہاں کے مہتمم مولانا حامد میاں صاحب تھے اور خاص اساتذۂ کرام میں مولانا مفتی حسن صاحب، مولانا عبد الخالق صاحب، مولانا شیخ امان اللہ صاحب اور دیگر اساتذۂ کرام تھے۔


علمی تعلیم کے سلسلے کے آخری سال، دورۂ حدیث کی تعلیمی پیاس بجھانے کے لیے کراچی کا رخ کیا، جہاں جامعہ بنوریہ العالمیہ میں داخلہ لیا اور پورا سال کراچی کے پُر فضا مقام اور جامعہ کے روحانی ماحول میں گزار کر حصولِ علم کا یہ سلسلہ مکمل کیا۔ جامعہ میں بخاری شریف کا سبق ”مولانا عزیز الرحمن ہزاروی صاحب، مولانا عزیز الرحمن عظیمی صاحب، مفتی نعیم صاحب اور مولانا عبد الحمید صاحب“ سے پڑھا، جبکہ مسلم شریف اور دیگر کتبِ احادیث ”مولانا عبد اللہ ہزاروی صاحب، مولانا حسین صدیقی صاحب، مولانا بخش صاحب، مولانا رشید صاحب، مولانا سلیمان صاحب، مولانا خواجہ محمد صاحب“ سے پڑھیں۔ عالم کے کورس کا یہ آٹھ سال کا عرصہ بالآخر یکم اپریل 2018ء کو مکمل ہوا اور دستارِ فضیلت اساتذۂ کرام کے ہاتھوں سے سروں پر سجائی گئی۔ یوں علمی قرآن و حدیث کے سفر کا ایک باب مکمل ہوا۔


جہاں میٹرک کے بعد مدرسے کی تعلیم کا رخ کیا، تو دوسری جانب ایبٹ آباد بورڈ سے ایف اے، پھر ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ سے بی اے اور 2016ء میں ایم اے اردو کی ڈگری حاصل کی اور ساتھ ہی علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے بی ایڈ کی ڈگری مکمل کی۔ تعلیم کا یہ شوق ختم نہ ہوا تو 2019ء میں ہزارہ یونیورسٹی سے ہی ایم اے اسلامیات میں داخلہ لیا اور وفاق المدارس سے شعبۂ تجوید القرآن کا 2 سالہ ڈگری کا امتحان پاس کیا۔


اسی طرح یہ ڈگریاں مکمل ہوئیں تو 2021ء میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے لائبریری سائنس میں ماسٹر کی ڈگری مکمل کی۔ یوں دینی و دنیاوی دو ماسٹر کو ملا کر کل 5 مضامین میں ایم اے کی ڈگری مکمل کر لی۔


ارادہ تو اس سے بھی آگے کا تھا، مگر ایچ ای سی نے ماسٹر پر پابندی لگا دی، یوں 5 ماسٹر کے بعد وقفہ کرنا پڑا اور ابھی ایم فل اسلامیات کرنے کا ارادہ ہے۔ جہاں 2013ء میں مفتی وقار احمد تنولی صاحب کے پاس تعلیم کے لیے گیا، تو ساتھ ساتھ شعبۂ تدریس کی طرف بھی مائل ہو گیا اور پارٹ ٹائم اپنے استادِ محترم کے اسکول میں تدریس شروع کی۔ 2018ء میں جب دینی تعلیم مکمل کر کے ایبٹ آباد واپس آیا تو مکمل ذہن تدریس کا بن گیا اور مختلف پرائیویٹ اداروں میں پڑھانا شروع کیا، جس میں چھوٹی کلاسز سے لے کر بارہویں جماعت تک تدریس کی۔ جن جن اسکولوں میں تعلیمی خدمات سرانجام دیں، ان میں ”مسلم اسکالرز اکیڈمی، الصفہ اسلامک ماڈرن اسکول سسٹم، المدینہ تعلیم القرآن، اقرا روضۃ الاطفال، انٹرنیشنل پبلک اسکول اور لندن انٹرنیشنل اسکول“ شامل تھے۔ 2025ء میں ایٹا کا ٹیسٹ پاس کر کے سرکاری ادارے میں تعلیمی خدمات سرانجام دینا شروع کیا اور پہلا آرڈر گورنمنٹ ہائی اسکول لکھالہ شیروان میں ہوا۔ یوں تعلیم حاصل کرتے کرتے کب تعلیم دلوانے لگا، اس سفر کا پتہ ہی نہ چلا اور اب تک سینکڑوں طلباء و طالبات کو علم کے حصول سے روشناس کرا چکا، جن میں کافی تدریس کے شعبے سے منسلک ہو چکے ہیں، جن میں لندن انٹرنیشنل اسکول میں ایک ٹیچر میرے ساتھ پڑھاتی رہی، جو مجھ سے ہی تعلیم حاصل کر چکی تھی۔ اللہ پاک سے یہی دعا ہے کہ آگے کا سفر بھی اسی خیریت سے گزرے اور یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے۔