ہفتہ، 7 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

میرا تعارف،سمیرا اکرام

نقطہ نظر

میں وہ آواز ہوں جو دبائی نہیں جا سکی

مجھے کہا گیا تھا کہ لڑکیاں شور نہیں کرتیں۔

میں نے قلم اٹھا لیا، کیونکہ قلم کا شور سب سے زیادہ گونجتا ہے۔

میرا تعلق اوکاڑہ سے ہے۔ وہ اوکاڑہ جہاں کی مٹی میں خوشبو بھی ہے اور زنجیریں بھی۔ جہاں بیٹیوں کو دعائیں تو بہت دی جاتی ہیں، مگر خواب بہت کم دیے جاتے ہیں۔ جہاں لوگ کہتے ہیں، لڑکی کا نام زبان پر آئے تو بدنامی ہے، اور کتاب پر آئے تو بغاوت ہے۔ میں اسی اوکاڑہ کی بیٹی ہوں، اور میں نے بدنامی کے ڈر سے نہیں، بغاوت کے شوق سے لکھنا شروع کیا۔

بچپن سے میں دوسری لڑکیوں جیسی نہیں تھی۔ سب کو گڑیاں پسند تھیں، مجھے کتابیں پسند تھیں۔ سب کو چپ رہنا سکھایا گیا تھا، مجھے سوال کرنا آ گیا تھا۔ میں جب بھی کسی عورت کو چپ چاپ روتے دیکھتی، میرے دل میں ایک سوال اٹھتا کہ یہ عورت کیوں نہیں بولتی؟ جب میں کسی لڑکی کو اپنے خوابوں کو دفن کرتے دیکھتی تو سوچتی کہ اس کے خوابوں کا قاتل کون ہے؟ مجھے بہت جلد سمجھ آ گیا تھا کہ اس دنیا میں سب سے بڑا ظلم کسی کو چپ کروا دینا ہے۔ اور میں نے طے کر لیا تھا کہ میں چپ نہیں رہوں گی۔

پھر نہم جماعت آئی۔ لوگوں کے لیے نہم جماعت صرف ایک کلاس تھی، میرے لیے وہ میری پہلی جنگ تھی۔ اس کلاس کی آخری بینچ پر بیٹھ کر میں نے پہلی بار اپنے دل کی بات کاغذ پر اتاری۔ وہ کوئی نظم نہیں تھی، وہ ایک اعلان تھا۔ اعلان یہ کہ میں لڑکی ہو کر بھی سوچ سکتی ہوں، لکھ سکتی ہوں، اور اپنی سوچ کو دنیا کے سامنے رکھ سکتی ہوں۔ اس دن میری کاپی کا پہلا صفحہ میری پہلی فتح تھا۔

شروع میں میرا قلم تنہا تھا۔ میں رات کو جب سب سو جاتے تو ڈائری کھولتی۔ کبھی اپنی ماں کی تھکی ہوئی آنکھوں پر لکھتی، کبھی اپنے باپ کی خاموش قربانی پر، کبھی اس سہیلی پر جو سب کے سامنے ہنستی تھی مگر اکیلے میں روتی تھی۔ میں لکھتی تھی اور پھر خود ہی اپنے الفاظ سے ڈر جاتی تھی کہ اتنا سچ لکھنا کہیں گناہ تو نہیں؟ پھر دل کہتا کہ سچ لکھنا گناہ نہیں، سچ چھپانا گناہ ہے۔ اور میں پھر لکھنے لگتی۔

پھر 2025 آیا، اور 2025 نے مجھے چھپنے سے نکال کر سامنے لا کھڑا کیا۔

2025 میں میں نے باقاعدہ طور پر مختلف پلیٹ فارمز پر اپنی تحریریں شائع کروانا شروع کیں۔ فیس بک کے ادبی پیجز، واٹس ایپ کے ادبی گروپس، آن لائن میگزینز، کہانیوں کے بڑے فورمز۔ میں نے اپنا نام چھپایا نہیں، میں نے اپنا تعارف چھپایا نہیں۔ میں نے دنیا کو بتایا کہ ہاں، میں اوکاڑہ سے ہوں، میں نہم جماعت سے لکھ رہی ہوں، اور مجھے اپنے قلم پر فخر ہے۔ اور پھر جو ہوا وہ کسی کہانی سے کم نہیں تھا۔ میری تحریریں ہزاروں لوگوں تک پہنچیں۔ کئی تحریریں وائرل ہوئیں۔ کئی لڑکیوں نے مجھے لکھا کہ تم نے وہ بات لکھ دی جو ہم برسوں سے دل میں دبائے بیٹھی تھیں۔ کئی لوگوں نے کہا کہ تمہاری تحریر میں آگ ہے، تمہاری تحریر میں درد ہے، تمہاری تحریر میں سچ ہے۔ کئی بڑے ادبی گروپس نے مجھے اپنی ٹیم میں شامل کیا۔ کئی سینئر لکھاریوں نے کہا کہ اس عمر میں اتنی ہمت اور اتنی گہرائی بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے۔

میری کامیابی لائکس اور فالوورز میں نہیں ہے۔ میری کامیابی اس لڑکی کے میسج میں ہے جس نے کہا کہ تمہاری تحریر پڑھ کر میں نے خودکشی کا ارادہ چھوڑ دیا۔ میری کامیابی اس ماں کے آنسوؤں میں ہے جس نے کہا کہ تم نے میری زندگی لکھ دی۔ میری کامیابی اس خاموش لڑکی کی ہمت میں ہے جو آج خود لکھنے لگی ہے۔

میں کس پر لکھتی ہوں؟ میں ان لڑکیوں پر لکھتی ہوں جن کے خوابوں کو رسموں کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے۔ میں ان ماؤں پر لکھتی ہوں جو ساری عمر دوسروں کے لیے جیتی ہیں اور آخر میں بھی ان کا نام نہیں لیا جاتا۔ میں ان رشتوں پر لکھتی ہوں جہاں محبت کے نام پر قید کر دیا جاتا ہے اور عزت کے نام پر آواز دبا دی جاتی ہے۔ میں اس معاشرے پر لکھتی ہوں جو لڑکی کے ہنسنے پر سوال اٹھاتا ہے، مگر اس کے رونے پر خاموش رہتا ہے۔ میرا قلم کسی کو خوش کرنے کے لیے نہیں چلتا۔ میرا قلم سچ بولنے کے لیے چلتا ہے۔ اور سچ اکثر لوگوں کو چبھتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ تھوڑا نرم لکھو، تھوڑا سوچ کر لکھو، لوگ کیا کہیں گے؟ میں کہتی ہوں کہ لوگوں نے تو انبیاء کو بھی نہیں چھوڑا، میں کیا چیز ہوں؟ مجھے لوگوں کی نہیں، اپنے ضمیر کی پرواہ ہے۔

میرا خواب صرف کتاب چھاپنا نہیں ہے۔ میرا خواب یہ ہے کہ اوکاڑہ کی کوئی لڑکی جب قلم اٹھائے تو اسے چھپنا نہ پڑے۔ اسے ڈرنا نہ پڑے۔ اسے یہ نہ سننا پڑے کہ لڑکیاں نہیں لکھتیں۔ میرا خواب ہے کہ میری کتاب کسی لڑکی کے ہاتھ میں ہو اور وہ کہے کہ اگر اوکاڑہ کی ایک لڑکی یہ کر سکتی ہے تو میں کیوں نہیں؟

میں ابھی سفر میں ہوں۔ میں ابھی سیکھ رہی ہوں، گر رہی ہوں، اٹھ رہی ہوں۔ لیکن ایک بات طے ہے، میں نے جو قلم نہم جماعت میں اٹھایا تھا، وہ اب قبر تک نہیں رکھوں گی۔ کیونکہ مجھے خاموش کرنے کی کوشش کی گئی تھی، اور میں آواز بن گئی۔

مجھے دبانے کی کوشش کی گئی تھی، اور میں بغاوت بن گئی۔

میں اوکاڑہ کی بیٹی ہوں۔

میں باغی ہوں۔

اور میری بغاوت ابھی شروع ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں