منگل، 3 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

میرا تعارف: اغنیٰ زہرا

نقطہ نظر

میں اکثر سوچتی ہوں کہ انسان کی پہچان اس کی جائے پیدائش سے ہے یا ان رشتوں سے جن پر چلتے ہوئے اس نے خود کو تراشا؟ میرا تعلق جنوبی پنجاب کے ایک پسماندہ علاقے تونسہ شریف سے ہے۔ جہاں خوابوں کی تعبیر ڈھونڈنا میرے لیے شروع سے ہی ایک چیلنج رہا ہے۔ مگر میرے خواب جب میرے حالات سے کچھ بڑے تھے، میں نے زندگی میں یہی سیکھا کہ آغاز چاہے کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو ہے، اگر ارادوں میں سچائی اور قدموں میں استقلال ہو تو راستہ خود ہی وسعت پکڑ لیتے ہے۔ تونسہ شریف میری شناخت کا پہلا حوالہ ہے۔ میں نے ابتدائی تعلیم یہاں سے حاصل کی اور یہاں سے انھیں حقیقت میں ڈھالنے کی کوشش بھی شروع کی۔

گورنمنٹ سکول سے میٹرک اور ایف ایس سی کے امتحان نمایاں نمبروں سے پاس کیے اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے کے لئے کیمپوڑ کورس میں نمایاں پوزیشن حاصل کی ہے۔ علاوہ ازیں پڑھائی کے ساتھ ساتھ تدریس کا کام بھی سر انجام دیا ہے۔

میری انتھک محنت نے مجھے طب کے ساتھ وابستہ کیا اور اب ایل ایچ وی کے سال میں ہوں اور ساتھ ساتھ ہیلتھ پاپولیشن ڈیپاڑٹمنٹ میں سرکاری فرائض سر انجام دے رہی ہوں۔ طب سے وابستگی نے مجھے انسانی زندگی اور خدمت کے کئی پہلو دکھائے، جنھیں صرف کتابوں سے سمجھنا ممکن نہیں۔


میں اپنے پیشہ ورانہ سفر کو محض ملازمت نہیں سمجھتی بلکہ انسان کی خدمت کا ایک ذریعہ تصور کرتی ہوں۔ مگر، اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ میرے اندر کا سب سے خاموش اور مستقل حوالہ کیا ہے؟ شاید میں ادب کا نام لوں۔ ادب سے میری دلچسپی میرے لیے محض ایک مشغلہ نہیں بلکہ اپنے خیالات کو لفظوں میں ڈھالنے کا ایک سلسلہ ہے۔ جب کوئی خیال دل میں آتا ہے، کوئی احساس ایک لفظ بناتا ہے، یا زندگی کا کوئی منظر مجھے اندر تک چھو جاتا ہے تو قلم خود بخود اس کا رستہ تلاش کرتا ہے۔ اسی ادبی وابستگی نے مجھے مختلف اداروں تک پہنچایا، مختلف زمہ داریاں سنبھالیں۔ ہر جگہ کچھ نہ کچھ سیکھا۔ تمام تجربات میرے لیے کسی درس گاہ سے کم نہیں، شاید انھی تجربات نے میرے اندر یہ خوش فہمی پیدا کی کہ ایک ادبی پلیٹ فارم قائم کروں جس میں میری ذاتی سوچ اور میرا اپنا وژن شامل ہو۔ اسی خواہش سے "زہرا آرگنائزیشن" کا آغاز ہوا۔ میرے لیے یہ محض ایک قدم نہیں بلکہ ان تمام تجربات کا تسلسل ہے جو میں نے مختلف ادارون میں کام کرتے ہوئے سیکھے۔ اس پلیٹ فارم کو ایک ایسی ادبی درسگاہ میں ڈھالا جائے جہاں ادب سے شغف رکھنے والوں کو اظہار کے مواقع ملیں۔ لکھاری کی حوصلہ افزائی ہو اور مختلف صلاحیتوں کو آگے بڑھنے کے لیے ایک پلیٹ فارم میسر آئے۔

میرے ادبی سفر میں قومی و بین الاقوامی ادبی سرگرمیوں میں اعزازی و امتیازی اسناد شامل ہیں۔ مختلف کتب و رسائل میں میرا کلام شائع ہو چکا ہے۔ میری زندگی کا اہم پہلو دینی خدمت بھی ہے۔ طب اور ادب سے وابستہ ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف اسلامی اکیڈمیز میں بلا معاوضہ کام کر رہی ہوں۔ میں نے متعدد دینی کورسز بھی کہے اور اس وقت انچارج کی حیثیت سے کام کر رہی ہوں۔

میرے لیے دین کی وابستگی ذاتی مطالعہ تک محدود نہیں، بلکہ جہاں ممکن ہوا اپنے علم اور وقت کو کسی خیر کے کام میں صرف کرنا بھی اسی وابستگی کا حصہ ہے۔ ان سب کے ساتھ ساتھ میرے دل میں ایک خواہش ہے کہ طبی حوالے سے عورتوں کے مسئلے پر ریسرچ کروں اور ان شاءاللہ اللہ نے چاہا تو یہ کام بھی عمل میں لاؤں گی۔ اس میدان میں با مقصد تحقیقی کام کر سکوں۔میں نے زندگی سے ایک بات ضرور سیکھی ہے، منزل مل جانے کے بعد سفر ختم نہیں ہوتا ہے، بلکہ انسان کے اندر ایک نئی منزل جنم لیتی ہے۔اج جو کچھ حاضر ہے اس پر شکر ضرور ہے، مگر میں اپنے سفر کو ایک جملے بیان کروں تو یہیں کہوں گی، " میں ایک چھوٹے سے شہر سے نکلی ہوں، مگر میرے خوابوں کی وسعت نے کبھی میرے شہر کی گلی کو حد نہیں مانا، اور شاہد یہی میرے سفر کی سب سے بڑی خوبصورتی ہے۔ آج بھی خود کو منزل پر کھڑی ہوئی نہیں، بلکہ راستے پر چلتی ہوئی دیکھتی ہوں، ایک ایسے راستے پر جہاں ہر نیا تجربہ مجھے کچھ سیکھاتا ہے۔ہر زمہ داری مجھے نئی وقت بخشتی ہے۔ ہر نیا خواب مجھے جینے کا نیا قرینہ سیکھاتا ہے اور آگے بڑھنے کی نئی وجہ عطا کر جاتا ہے۔