کچھ زندگیاں ایک ہی راستے پر نہیں چلتیں ۔ ان میں کئی دنیائیں آباد ہوتی ہیں؛ ایک دنیا ذمہ داریوں کی ہوتی ہے، دوسری خوابوں کی، اور ایک ایسی دنیا بھی ہوتی ہے جہاں انسان اپنے دل کی آواز سنتا ہے۔ میری زندگی بھی انہی دنیاؤں کے درمیان سفر کرتی ہے۔ دنیا مجھے ایک آڈٹ اسپیشلسٹ اور ٹیکس کنسلٹنٹ کے طور پر جانتی ہے، جہاں میری ذمہ داری اعداد و شمار کی درستگی اور حساب کی باریکیوں کو سمجھنا ہے، لیکن میری ایک دوسری پہچان بھی ہے؛ میں لفظوں میں جیتا ہوں، احساسات کو لکھتا ہوں اور معاشرے کے ان رویوں پر سوال اٹھاتا ہوں جنہیں اکثر لوگ دیکھ کر بھی نظرانداز کر دیتے ہیں۔شاید یہ زندگی کا عجیب اتفاق ہے کہ میں دوسروں کے مالی حسابات میں معمولی سی غلطی بھی تلاش کر لیتا ہوں، مگر اپنے دل میں محفوظ کچھ یادوں اور احساسات کا حساب آج تک نہیں کر سکا ۔میں انیم چوہدری ہوں۔ میرے لیے لکھنا محض ایک مشغلہ نہیں، بلکہ اپنے اندر کی دنیا سے مکالمہ کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ گزشتہ دس برس سے قلم کے ساتھ میرا یہ رشتہ قائم ہے۔ اس دوران بہت سے موضوعات پر لکھا، بہت سے خیالات کو لفظ دیے اور زندگی کے مختلف رنگوں کو اپنے انداز میں بیان کرنے کی کوشش کی۔میں نہیں جانتا کہ میرے لفظ کتنے لوگوں تک پہنچیں گے، مگر میری خواہش ہمیشہ یہی رہی ہے کہ جب کوئی میری تحریر پڑھے تو اسے محسوس ہو کہ یہ الفاظ کسی ایسے شخص نے لکھے ہیں جو زندگی کو صرف دیکھتا نہیں، اسے محسوس بھی کرتا ہے۔کیونکہ میرے نزدیک اصل تعارف وہ نہیں جو انسان اپنے بارے میں لکھتا ہے، بلکہ وہ احساس ہے جو اس کے لفظ پڑھنے کے بعد کسی دوسرے کے دل میں باقی رہ جاتا ہے۔
تعلیم اور پیشہ ورانہ زندگی۔
تعلیمی اعتبار سے میں نے ایم فل اکاؤنٹنگ اینڈ فنانس مکمل کیا ہے، جبکہ سی ایم اے (CMA) کے تین پیپرز باقی ہیں۔ پیشہ ورانہ طور پر آڈٹ اسپیشلسٹ اور ٹیکس کنسلٹنٹ کی حیثیت سے تقریباً سولہ برس سے اس شعبے سے وابستہ ہوں۔اس دوران مقامی اور بین الاقوامی سطح پر مختلف پروفیشنل اور ادبی سرگرمیوں میں شرکت کے نتیجے میں 50 سے زائد سرٹیفکیٹس حاصل کیے۔ میرے لیے یہ اسناد صرف کاغذ کے ٹکڑے نہیں، بلکہ سیکھنے، آگے بڑھنے اور اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے سفر کی یادگار ہیں۔پیشہ ورانہ زندگی نے مجھے نظم و ضبط، باریک بینی اور ذمہ داری کا احساس دیا، جبکہ ادب نے زندگی کو محسوس کرنے اور انسانوں کے دکھ سکھ کو سمجھنے کا ہنر سکھایا۔ ایک طرف میں اعداد و شمار میں غلطی تلاش کرتا ہوں، دوسری طرف لفظوں میں زندگی کی حقیقتیں تلاش کرتا ہوں۔
ادبی سفر۔
لکھنے کا آغاز تقریباً دس برس قبل کیا۔ ابتدا میں یہ محض ایک شوق تھا۔ دل میں آنے والے خیالات کو کاغذ پر اتارنے سے جو سکون ملتا تھا، وہ آہستہ آہستہ میری زندگی کا حصہ بنتا گیا۔ وقت کے ساتھ مطالعے، مشاہدے اور تجربات نے اس شوق کو ایک سنجیدہ ادبی سفر میں بدل دیا۔میں نے شاعری، کالم نگاری اور نثر کے مختلف موضوعات پر لکھا۔ میری تحریروں میں معاشرتی مسائل، انسانی رویے، تعلیم، اخلاقیات، احساسات اور زندگی کے وہ پہلو شامل ہوتے ہیں جن پر اکثر گفتگو تو ہوتی ہے، مگر سنجیدگی سے سوچا کم جاتا ہے۔میں کوشش کرتا ہوں کہ میری تحریر محض الفاظ کا مجموعہ نہ ہو۔ اس میں کوئی سوال ہو، کوئی احساس ہو یا کوئی ایسی بات ہو جو پڑھنے والے کو چند لمحوں کے لیے رک کر سوچنے پر مجبور کر دے۔ میرے نزدیک اچھی تحریر وہ نہیں جو صرف داد سمیٹے، بلکہ وہ ہے جو قاری کے ذہن میں اپنا کوئی نشان چھوڑ جائے۔
کتابیں اور تصانیف۔
اب تک میرے ادبی سفر میں دو کتابیں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں:
1۔ اندھیروں سے نور تک کا سفر
یہ میری ایسی تصنیف ہے جس کے عنوان ہی میں زندگی کے ایک اہم احساس کی جھلک موجود ہے؛ اندھیروں سے نکل کر روشنی کی تلاش کا احساس۔
2۔ سخنِ انیم
یہ میری شعری کتاب ہے، جس میں مختلف جذبات، احساسات اور زندگی کے تجربات کو اشعار کی صورت میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔میرے لیے کتاب شائع کرنا صرف ایک ادبی سرگرمی نہیں، بلکہ اپنے خیالات اور احساسات کو قارئین کے حوالے کرنے کا ایک خوب صورت تجربہ ہے۔ انسان خود تو وقت کے ساتھ بدل جاتا ہے، مگر اس کے لکھے ہوئے لفظ بعض اوقات اس کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں۔
ادبی خدمات اور اعزازات۔
میرے قلمی سفر کو مختلف اخبارات، ادبی رسائل اور آن لائن پلیٹ فارمز پر اظہار کا موقع ملا۔روزنامہ ڈیلی پاکستان (بلاگ)میں تقریباً دو برس تک لکھتا رہا، بعدازاں اردو پوائنٹ کے لیے بھی کالم نگاری کی۔ اس وقت باغی ٹی وی پر محترم مبشر لقمان صاحب کی سرپرستی میں اپنے کالم اور تحریریں قارئین تک پہنچا رہا ہوں۔غنچہ اردو ادب کے متعدد شماروں میں میری تحریریں شائع ہوئیں۔ اسی ادبی پلیٹ فارم پر میری ایک تخلیق کو بہترین شاعری کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس موقع پر کتاب اور تعریفی سند بھی پیش کی گئی۔یہ اعزاز میرے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ لکھنے والا جب اپنے لفظوں کو دوسروں کے دلوں تک پہنچتا دیکھتا ہے تو اسے اپنی محنت کا ایک خوب صورت جواب ملتا ہے۔ ادبی پذیرائی یقیناً حوصلہ بڑھاتی ہے، مگر میرے لیے قارئین کی محبت اور کسی تحریر کا دلوں میں جگہ بنا لینا بھی کسی اعزاز سے کم نہیں۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور دینی سرگرمیاں۔
ادب کے ساتھ ساتھ دینی شعور اور مثبت پیغام کی ترویج بھی میری دلچسپیوں میں شامل ہے۔ اسی مقصد کے تحت میں اپنا یوٹیوب چینل Islamic Insight by Aneem Chaudhary چلا رہا ہوں، جہاں اسلامی معلومات، اصلاحی موضوعات اور دینی پیغام کو عام کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔اسی طرح فیضانِ قرآنِ کریم کے نام سے میرا فیس بک پیج بھی ہے، جس کے ذریعے قرآنِ کریم کی تعلیمات، دینی معلومات اور اسلامی پیغام لوگوں تک پہنچانے کی کوشش جاری ہے۔میرا ماننا ہے کہ علم اور اچھی بات کو صرف اپنے تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ اگر ہماری کسی کوشش سے کسی کو دین سمجھنے، قرآن کی طرف متوجہ ہونے یا اپنی زندگی میں کوئی مثبت تبدیلی لانے کا موقع مل جائے تو اس سے بڑھ کر خوشی کیا ہو سکتی ہے۔
قلم کے بارے میں میرا نظریہ۔
میں نے اپنے دس سالہ ادبی سفر میں یہ محسوس کیا ہے کہ لکھنا صرف الفاظ کو ترتیب دینا نہیں۔ اس کے لیے مشاہدہ، مطالعہ، احساس اور اپنے ضمیر کے ساتھ سچائی ضروری ہے۔میں چاہتا ہوں کہ میرا قلم معاشرتی برائیوں پر سوال اٹھائے، ناانصافی کے خلاف آواز بنے، انسانیت کی بات کرے اور ان لوگوں کے احساسات کو بھی بیان کرے جن کی آواز اکثر بلند نہیں ہو پاتی۔مجھے ایسی تحریریں پسند ہیں جو قاری کو صرف متاثر نہ کریں بلکہ اس کے اندر سوچنے کا عمل بھی پیدا کریں۔ شہرت اور پذیرائی اپنی جگہ، لیکن میرے لیے سب سے قیمتی لمحہ وہ ہوتا ہے جب کوئی قاری یہ کہے کہ آپ نے وہ بات لکھ دی جو میرے دل میں مدت سے موجود تھی۔
سفر ابھی باقی ہے
میں خود کو ابھی بھی سیکھنے کے مراحل میں سمجھتا ہوں۔ تعلیم، پیشہ ورانہ زندگی اور ادب، تینوں میدانوں میں آگے بڑھنے کی خواہش آج بھی موجود ہے۔ ابھی بہت کچھ پڑھنا ہے، بہت کچھ سیکھنا ہے اور بہت سے موضوعات پر لکھنا باقی ہے۔اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ انیم چوہدری کی اصل پہچان کیا ہے تو شاید میرا جواب یہی ہوگا لکھتا ہوں تاکہ میرے لفظ وہاں بھی زندہ رہیں، جہاں میری آواز نہ پہنچ سکے۔کیونکہ زندگی مختصر ضرور ہے، مگر انسان کے اچھے خیالات، اس کی تحریریں اور اس کے چھوڑے ہوئے اثرات اس کی زندگی سے کہیں زیادہ طویل سفر کر سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں




