محمد احسان ثانی ۲۷ فروری ۱۹۹۴ء کو شہر لاہور میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والدِ محترم کا نام محمد رمضان صاحب ہے۔ آپ کے دادا جان، خوشی محمد، بھارتی پنجاب کے ضلع امرتسر سے قیامِ پاکستان کے وقت ۱۹۴۷ء میں ہجرت کر کے لاہور کے دیہات موضع جیابگا میں آ کر آباد ہو گئے۔ یہی دیہات جیابگا آپ کی جائے ولادت ہے، جب کہ آپ کا بچپن ضلع قصور کے دیہات رائے کلاں میں گزرا۔ دیہی ماحول میں گزرنے والے بچپن نے آپ کو اپنے علاقے، اس کی تہذیب، روایات اور لوگوں سے ایک خاص نسبت عطا کی، جس کا عکس آپ کی ادبی دلچسپیوں اور تحقیقی کاموں میں بھی دکھائی دیتا ہے۔
آپ نے ابتدائی تعلیم سرسید ہائی اسکول سے حاصل کی۔ میٹرک کا امتحان ۲۰۱۱ء میں گورنمنٹ ہائی اسکول جیابگا لاہور سے پاس کیا۔ اس کے بعد ایف اے گورنمنٹ ڈگری کالج رائے ونڈ لاہور سے کیا، جب کہ بی اے کی ڈگری ۲۰۲۴ء میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے حاصل کی۔ حصولِ تعلیم کے ساتھ ساتھ آپ نے عملی زندگی میں بھی اپنی ذمہ داریوں کو احسن انداز میں نبھایا اور علم و ادب سے اپنی وابستگی برقرار رکھی۔
محمد احسان ثانی ۱۲ دسمبر ۲۰۱۷ء کو پنجاب پولیس میں بطور کانسٹیبل ضلع لاہور سے بھرتی ہوئے۔ آپ ضلع لاہور کے مختلف تھانہ جات میں اپنے فرائضِ منصبی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، ذمہ داری اور محنت کے بل بوتے پر احسن انداز میں ادا کر رہے ہیں۔ سرکاری ملازمت کے مصروف معمولات کے باوجود ادبی سرگرمیوں کے لیے وقت نکالنا آپ کی ادب سے گہری دلچسپی اور مستقل مزاجی کا مظہر ہے۔
محمد احسان ثانی کا اصل نام محمد احسان ہے، جب کہ ثانی آپ کا تخلص ہے۔ اردو اور پنجابی زبان کے شاعر ہونے کی وجہ سے آپ اپنے نام کے ساتھ ثانی تخلص استعمال کرتے ہیں۔ آپ ۲۰۱۳ء سے اردو شعر و ادب کے ساتھ منسلک ہیں۔ اس عرصے میں آپ نے شاعری، نثر، تحقیق اور ادبی تنظیمی سرگرمیوں کے مختلف میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ آپ کی اردو شاعری کی پہلی کتاب یکم مئی ۲۰۱۹ء کو شائع ہوئی۔ اس کے بعد پنجابی شاعری کی کتاب ’’امبر تارے‘‘ ۲۰۲۰ء میں منظرِ عام پر آئی۔ اس کتاب کی کئی پنجابی غزلوں اور نظموں کو مقامی و صوفی گائیک سر رضوان حمید بلوچ صاحب نے اپنی آواز میں گنگنایا، جس سے آپ کے کلام کو سامعین تک پہنچنے کا ایک نیا ذریعہ میسر آیا۔
محمد احسان ثانی کی تیسری کتاب ’’لہندے لہور دے پنجابی شاعر‘‘ ہے، جو ایک تحقیقی کتاب ہے اور پنجابی زبان میں شائع ہوئی۔ اس کتاب کے ذریعے آپ نے پنجابی شاعری اور اس سے وابستہ ادبی شخصیات کے حوالے سے تحقیقی کام پیش کیا۔ آپ کی دیگر مطبوعہ کتب میں ’’تاریخ جیابگا‘‘ (تاریخ)، ’’شیشہ افکار‘‘ (مضامین)، ’’کفارہ عشق‘‘ (مضامین)، ’’صاحب اسرار‘‘ (تبصرے و مضامین)، ’’جہان محترم‘‘ (مضامین) اور ’’محترم کا سیہون نگر‘‘ (مضامین) بالترتیب شامل ہیں۔ ان کتب کے موضوعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کی ادبی دلچسپی محض شاعری تک محدود نہیں، بلکہ تاریخ، تحقیق، تنقید، تبصرہ اور نثری اظہار کے مختلف پہلوؤں تک پھیلی ہوئی ہے۔ آپ کی غیر مطبوعہ کتب میں ’’تاریخ رائے کلاں‘‘ اور ’’اعتراف‘‘ جیسی کتب شامل ہیں، جو آپ کے جاری ادبی و تحقیقی سفر کا حصہ ہیں۔
ادبی صحافت اور رسائل و جرائد سے وابستگی بھی آپ کی سرگرمیوں میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔ محمد احسان ثانی مجلہ قلزم لاہور پاکستان کے چیف ایڈیٹر رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ماہنامہ ندائے گل لاہور پاکستان کے لاہور کوآرڈینیٹر اور مجلہ بول پنجابی لہور پاکستان کے ڈپٹی ایڈیٹر بھی ہیں۔ ان ذمہ داریوں کے ذریعے آپ کو ادبی تحریروں، تخلیق کاروں اور ادبی سرگرمیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کا موقع ملا۔
محمد احسان ثانی حلقہ اردو پسند لاہور کے بانی و سرپرست ہیں۔ یہ ادبی تنظیم ۱۹ جولائی ۲۰۱۷ء کو قائم کی گئی تھی، جس کے تحت سالانہ مشاعرے، اردو کانفرنس اور تقسیمِ انعامات کی تقریبات کا انعقاد ہوتا رہا ہے۔ ان مشاعروں کی سرپرستی استادِ محترم محمد ساجد صاحب کرتے رہے ہیں۔ بزم بشیر رحمانی پاکستان کے روحِ رواں سر محمد نوید مرزا نے ۲۰۲۳ء سے اب تک تنظیم کے جوائنٹ سیکرٹری کے طور پر آپ کو عزت افزائی کا موقع دیا، جب کہ آپ کو فرغِ شعر و ادب کی تنظیم ’’مجلس بابا طفیل پرویز محترم پاکستان‘‘ کے جنرل سیکرٹری کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ ادبی تنظیموں سے یہ وابستگی اس بات کی عکاس ہے کہ آپ تخلیقی کام کے ساتھ ساتھ ادبی سرگرمیوں کے فروغ اور اہلِ قلم کے باہمی رابطے کو بھی اہمیت دیتے ہیں۔
محمد احسان ثانی کو ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں مختلف اداروں اور ادبی تنظیموں کی جانب سے اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ المشرق سائنس کالج گوجرانوالہ نے ۲۰۲۲ء میں آپ کی ادبی خدمات کے اعتراف میں گولڈ میڈل پیش کیا۔ ۲۰۲۳ء میں ’’ایف جے رائٹرز فورم‘‘ کی جانب سے چوہدری تنویر سرور نے بھی آپ کو ادبی خدمات کے اعتراف میں گولڈ میڈل سے نوازا۔ اس کے بعد بھیل انٹرنیشنل ادبی فاؤنڈیشن ننکانہ صاحب اور بزم بشیر رحمانی پاکستان لاہور کی جانب سے آپ کو دو دو مرتبہ شیلڈز، اسناد اور گولڈ میڈلز پیش کیے گئے۔ اس کے علاوہ آپ کی مطبوعہ کتب اور ادبی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے پنجاب کی درجنوں ادبی تنظیموں کی جانب سے سیکڑوں اسناد اور بیسیوں شیلڈز بھی پیش کی جا چکی ہیں۔ یہ اعزازات آپ کی مسلسل ادبی جدوجہد اور مختلف ادبی حلقوں میں آپ کی خدمات کے اعتراف کی حیثیت رکھتے ہیں۔
محمد احسان ثانی ستمبر ۲۰۲۶ء سے باغی ٹی وی سے منسلک ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر کالمز لکھ رہے ہیں۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے آپ اپنے خیالات، مشاہدات اور سماجی و ادبی موضوعات پر اپنی رائے قارئین تک پہنچا رہے ہیں۔ شاعری، نثر، تحقیق، ادبی صحافت اور تنظیمی سرگرمیوں سے وابستگی آپ کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو نمایاں کرتی ہے۔ یوں آپ کا ادبی سفر مسلسل مطالعے، تخلیقی اظہار اور ادب سے وابستگی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔
مزید پڑھیں




