منگل، 3 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ڈرامہ " مٹی دے باوے" پنجاب کی مٹی سے جڑا شاہکار،تحریر: مر یم ڈار


گرین انٹرٹینمنٹ کا ڈرامہ "مٹی دے باوے" اس وقت سب سے زیادہ زیر بحث ڈرامہ ہے۔کیونکہ اس میں پہلی بار ماہرہ خان اور وہاج علی منفرد کرداروں ایک کے ساتھ سکرین پر آئے ہیں۔ملٹی ورس انٹرٹینمنٹ کی پروڈکشن مصنفہ فائزہ افتخار ،ہدایتکار سید وجاہت حسین ایک مکمل پیسہ وصول پروجیکٹ ہے۔ڈرامے کا نام پنجابی لوک داستانوں سے لیا گیا ہے، پہلی دو قسطوں میں دل کو چیرتی نوجوانی کی محبت اور بعد کی اقساط میں آہستہ آہستہ دشمنی اور انتقام میں بدلتی کہانی ہے۔عارف لوہار کی آواز میں او ایس ٹی ،وہاج اور ماہرہ اور اوپر سے ریمبو اور صاحبہ، سمعیہ ممتاز ، سہیل احمد ، امر خان کیا کہنا ہے بھئ ۔

پہلی قسط آہستہ سی لگی کیونکہ عموما ساس بہو کے ڈرامے میں پہلے سین کے بعد ہی سارے ڈرامے کی کہانی پتہ چل جاتی ہے کہ آگے کیا ہونے والا ہے ، تو ایسا ڈرامہ چلتے پھرتے دیکھا جا سکتا ہے، لیکن مٹی کے باوے نے تو اپنے سامنے بٹھا ہی لیا....جس طرح سے یہ کہانی شروع ہوئی، بالے کی اینٹری ، بلو کا ایمان ،گھر کا ماحول کیا بات ہے اور جس طرح سے کہانی بیکورڈ چلی ، کہانی کو بہت زیادہ غور سے دیکھنا پڑا اور جب دیکھا تو بس اَب کچھ نظر نہیں آ رہا ۔

پنجاب کے ایک دیہی گاؤں کے دو کرداروں بالا اور بلو کی محبت اور شدید دشمنی کی کہانی ہے۔یہ صرف محبت کی کہانی نہیں، بلکہ ذات پات، طبقاتی فرق، اور عزت کے نام پر ہونے والے فیصلوں پر ایک چبھتا ہوا سوال ہے۔

کہانی میں ایک سولہ سال پرانا خاندانی راز، طبقاتی طعنہ جیسے "بھوکے ننگے بھانڈ میراثی" اور "ڈھول بجانے والی کا بیٹا"

" جنانی دو ٹکے دی نکل آئے تے کاٹاای کاٹا" " بناسپتی عشق" جیسے جملے، اور رشتوں میں بدلتی وفاداریاں دکھائی گئی ہیں۔ ماہرہ خان نے بلو کے کردار میں شاندار کام کیا ہے، ان کی اداکاری کو سوشل میڈیا پر بھرپور پذیرائی مل رہی ہے۔ پچھلی فلم "لَوّ گرو" کے ہِٹ ہونے کے باوجود ماہرہ خان کو انکی بڑھتی عمر پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن اب کی باری ماہرہ خان کی ہے جس معصوم چہرے سے بِلو انتقام لے رہی ہے کوئی سرجری یا کریم یہ نہیں کر سکتی یہ صرف ایکٹنگ کا کمال ہے۔ وہاج علی بطور بالا ایک بار پھر اپنے پنجابی لہجے، آنکھوں کے تاثرات اور بے بسی سے دل جیت رہے ہیں۔ بالے کے کردار نے وہاج کو ایکٹنگ میں ایک نیا مقام دیا ہے اس ڈرامے کا خاص پہلو یہ ہے کہ سب سپورٹنگ کردار کسی ایک قسط میں لیڈ کرتے نظر آتے ہیں اور وہ قسط ان کے نام ہو جاتی ہے جیسے ریمبو اور صاحبہ ، دونوں نے اپنے کرداروں میں صرف اداکاری نہیں کی بلکہ انہیں جیا ہے۔ ریمبو کی پرفارمنس میں تجربے کی پختگی اور برجستگی نمایاں ہے، جبکہ صاحبہ نے اپنے کردار کے جذبات کو نہایت خوبصورتی سے اسکرین پر منتقل کیا۔ ریمبو اور صاحبہ ان دونوں کےکیا ایکسپریشنز ...... آنکھوں سے ہی بات کر گئے دونوں، پھر سمعیہ ممتاز کا کردار اور ساری قسط اس کی ہوئی ، فضل حسین، زرینہ ، کوثر باجی کا لہجہ اور جو جو کردار نظر آیا سب میں فائزہ افتخار کی بہت محنت نظر آئی۔سید وجاہت حسین نے 80 اور 90 کی دہائی کے پنجاب کو بہت خوبصورتی سے دکھایا ہے - کچے گھر، صحن میں چارپائی، گوبر سے لپٹی دیواریں، سرسوں کے کھیت۔ ہر فریم میں مٹی کی خوشبو ہے۔ لیکن یہ کیا بات ہے کہ بالا جرم کا مرتکب ہونے کے باوجود بھی دیکھنے والوں کے دل میں ہے، اورمعصوم شکل ، نمازی، پرہیز گار بِلو ظلم کا شکار ہونے کے باوجود بھی دیکھنے والوں کا دل نہیں جیت سکی ۔اگر بالا اس کا پردہ رکھ لیتا تو ....اور بلو کو طلاق نہ ہوتی تو .... لیکن یہی تو کہانی ہے ۔میری رائے میں ذات پات پر اتنے سخت جملے اور تھپڑ مارنے والے سین تکلیف دہ ہیں جبکہ ہمارا معاشرہ پہلے ہی ذات پات میں بٹا ہے اور جو ذاتیں استعمال ہوئی ہیں وہ حقیقاََ ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں۔کسی بھی قسم کے انتشار سے بچنے کے لیے احتیاط ضروری ہے۔فائزہ افتخار اس ڈرامے میں آپ نے جس طرح مَردوں کے ڈائیلاگز یا مکالمے لکھے ہیں آپ کے اس نئے انداز کا کیا کہنا! آپ کی اس تحقیق میں جس جس ساتھی نے آپ کا ساتھ دیا ہے وہ بھی قابلِ تعریف ہیں ۔

مٹی دے باوے روایتی رونا دھونا ڈرامہ نہیں ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہم آج بھی لوگوں کو ان کی ذات، پیشے اور ماضی کی بنیاد پر پرکھتے ہیں۔اگر آپ کو پنجاب کی ثقافت، گہری کہانی، اور طاقتور اداکاری پسند ہے تو یہ ڈرامہ ضرور دیکھیں۔پنجاب کی دھرتی سے جڑا ایسا ہی ایک ڈرامہ "راہیں ' نوے کی دہائی میں پی ٹی وی نے ٹیلی کاسٹ کیا تھا ۔توقیر ناصر کی کمال ایکٹنگ وہاج نے یاد کروا دی۔

مزید پڑھیں