منگل، 3 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

میرا تعارف،یاسمین اختر طوبیٰ

نقطہ نظر

بعض لوگ اپنی شناخت کسی ایک شہر، ایک خطے یا ایک پیشے کے حوالے سے متعین کرتے ہیں مگر کچھ لوگوں کی شخصیت میں کئی شہروں کی مٹی، مختلف موسموں کی خوشبو اور زندگی کے متنوع تجربات اس طرح گھل مل جاتے ہیں کہ انہیں کسی ایک تعارف میں سمیٹنا آسان نہیں رہتا۔ میرا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ میرا نام یاسمین اختر طوبیٰ ہے۔ میری پیدائش بلوچستان کے خوب صورت، تاریخی اور تہذیبی شہر کوئٹہ میں ہوئی، جہاں بلند و بالا پہاڑوں کی خاموشی، موسموں کی رنگا رنگی اور فطرت کے دل کش مناظر زندگی کو ایک خاص رومانوی کیفیت عطا کرتے ہیں۔ تاہم، زندگی نے اپنی گردشوں میں مجھے پنجاب کی سرزمین تک پہنچا دیا اور اب تحصیل گوجرہ، ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں میری مستقل رہائش ہے۔ یوں میرے وجود میں کوئٹہ کی مٹی کی خوشبو بھی رچی بسی ہے اور پنجاب کی اپنائیت کی مٹھاس بھی۔ ایک شہر نے مجھے جنم دیا اور دوسرے نے اپنی آغوش میں لے لیا

گویا میری شخصیت کے آدھے رنگ بلوچستان سے آئے ہیں اور باقی پنجاب نے اپنے دامن میں سمو لیے ہیں۔

زندگی کی کتاب کے ابتدائی صفحات اگرچہ کچھ اداس ہیں مگر ان میں محبت، قربانی اور حوصلے کی ایسی روشن تحریر بھی موجود ہے جسے وقت کی کوئی گرد دھندلا نہیں سکتی۔ ابھی بچپن کی دہلیز ہی پر تھی کہ والدہ اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ ماں کی آغوش، اس کی شفقت اور دعاؤں سے محرومی کا احساس ایسا نہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ختم ہو جائے؛ ہاں، انسان اس احساس کو اپنے وجود کا حصہ بنا کر جینا ضرور سیکھ لیتا ہے۔ زندگی نے اس کمی کا احساس تو ہمیشہ دلایا، مگر اللہ تعالیٰ نے والد صاحب کی صورت میں ایک ایسی مضبوط چھاؤں عطا فرمائی جس نے اس محرومی کی تپش کو بڑی حد تک اپنے حصار میں لے لیا۔ انہوں نے صرف باپ ہونے کا فرض ادا نہیں کیا بلکہ ماں کی

ممتا، دوست کی بے تکلفی اور ایک شفیق رہنما کی بصیرت بھی عطا کی۔ شاید اسی لیے میرے بچپن کی یادوں میں محرومی کے ساتھ ایک مضبوط محبت کا احساس بھی ہمیشہ موجود رہا۔


والد صاحب پاک فوج سے وابستہ رہے۔ ان کی شخصیت میں نظم و ضبط، اصول پسندی، استقامت اور احساسِ ذمہ داری نمایاں تھے۔ فوجی زندگی نے ان کے مزاج میں جو ترتیب اور وقار پیدا کیا تھا، وہ ان کی گھریلو زندگی اور تربیت میں بھی پوری طرح جھلکتا تھا۔ ان کی نگاہ میں بیٹی ہونا کسی کمزوری یا محرومی کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل، باوقار اور خودمختار شناخت تھی۔ انہوں نے مجھے خود اعتمادی، حوصلے اور اپنی ذات پر بھروسا کرنا سکھایا۔ میری تعلیم، تربیت اور شخصیت سازی میں ان کا کردار بنیادی رہا۔ انہوں نے میری خواہشات کو اہمیت دی، میری صلاحیتوں پر اعتماد کیا اور مجھے اپنے خوابوں کی تعبیر تلاش کرنے کا حوصلہ دیا۔ آج جب اپنی زندگی کے کسی کامیاب مرحلے پر نظر ڈالتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ اس کامیابی کی بنیاد میں ان کی محنت، خلوص اور دعاؤں کا حصہ سب سے نمایاں ہے۔

افسوس کہ زندگی کی یہ مضبوط چھاؤں بھی اب میرے سر پر نہیں رہی۔ والد صاحب اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں مگر بعض رشتے جسمانی موجودگی کے محتاج نہیں ہوتے۔ وہ انسان کے کردار، سوچ، رویوں اور یادوں میں اس طرح زندہ رہتے ہیں کہ ان کی عدم موجودگی بھی ایک مستقل موجودگی کا احساس دلاتی ہے۔ میرے والد صاحب بھی میرے لیے ایسی ہی ایک روشن حقیقت ہیں۔ آج بھی کوئی کامیابی حاصل ہو تو دل کے کسی گوشے سے ایک آواز ضرور اٹھتی ہے کہ کاش وہ آج میرے پاس ہوتے، اپنی محبت بھری نگاہوں سے میری خوشی دیکھتے اور حسبِ معمول اپنی مخصوص مسکراہٹ سے میری حوصلہ افزائی کرتے۔ بعض خوشیاں اپنی تکمیل کے باوجود ادھوری رہ جاتی ہیں کیونکہ انہیں دیکھنے والی کوئی عزیز آنکھ دنیا میں موجود نہیں رہتی۔ اللہ تعالیٰ ان کی کامل مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔

زندگی کے ان تجربات نے یقیناً میری طبیعت میں حساسیت اور احساس کی گہرائی پیدا کی ہے مگر میں نے زندگی کو صرف سنجیدگی کے چشمے سے دیکھنے کی عادت نہیں اپنائی۔ دکھ کو محسوس کرنا اپنی جگہ، لیکن اس کے باوجود مسکرانے کا ہنر برقرار رکھنا بھی ضروری سمجھتی ہوں۔ آخر زندگی پہلے ہی اتنی سنجیدہ ہے کہ اگر ہم بھی ہر وقت سنجیدہ رہیں تو مسکراہٹ بیچاری کہاں جائے؟ میرا خیال ہے کہ انسان کو اپنے اندر ایک ایسا گوشہ ضرور محفوظ رکھنا چاہیے جہاں حالات کی سختی بھی داخل ہونے سے پہلے کچھ دیر ٹھہر کر سوچنے پر مجبور ہو جائے۔ کبھی ایک بے ساختہ مسکراہٹ وہ کام کر جاتی ہے جس کے لیے طویل تقریر بھی ناکافی ثابت ہو سکتی ہے۔ شاید اسی لیے میری شخصیت میں سنجیدگی اور شگفتگی دونوں کو جگہ ملی ہے۔ میں زندگی کے دکھوں کو نظرانداز نہیں کرتی، مگر انہیں اپنی مسکراہٹ کا مستقل حریف بھی نہیں بننے دیتی۔

تعلیم میرے نزدیک محض اسناد جمع کرنے یا نام کے ساتھ القابات بڑھانے کا عمل نہیں بلکہ شعور، آگہی اور شخصیت کی تعمیر کا ایک مسلسل سفر ہے۔ اسی سفر کی جستجو نے مجھے ایم اے پنجابی، ایم اے اردو اور ایم ایڈ تک پہنچایا، جب کہ ایم فل اردو میں طلائی تمغہ حاصل کرنا میرے لیے ایک یادگار اعزاز رہا۔ گولڈ میڈل کی خوشی اپنی جگہ، کیونکہ محنت کا صلہ ملے تو خوشی کا اظہار بھی بنتا ہے؛ تاہم میرا یقین ہے کہ علم کی اصل چمک کسی تمغے یا سند میں نہیں بلکہ اس شعور میں ہوتی ہے جو انسان کی سوچ کو وسعت، نگاہ کو گہرائی اور کردار کو وقار عطا کرتا ہے۔ ہاں، یہ الگ بات ہے کہ جب برسوں کی محنت ایک سنہری تمغے کی صورت میں سامنے آئے تو طالب علم کے چہرے پر مسکراہٹ کچھ زیادہ ہی روشن ہو جاتی ہے۔

الحمدللہ، پی ایچ ڈی کا سفر بھی اپنے آخری مراحل میں ہے۔ مقالے کی تکمیل کے بعد اب مجلسی دفاع کا مرحلہ درپیش ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس علمی سفر کی آخری منزل بھی آسان فرمائے۔ حصولِ علم کا معاملہ بھی خاصا دلچسپ ہے، ایک ڈگری مکمل ہوتی ہے تو خیال آتا ہے کہ اب کچھ فرصت میسر آئے گی مگر اگلا مرحلہ پہلے سے زیادہ سوالات اور ذمہ داریوں کے ساتھ سامنے کھڑا ہوتا ہے۔ کبھی محسوس ہوتا ہے کہ ڈگریاں تو مکمل ہو رہی ہیں، مگر طالب علمی ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی۔ شاید علم کی دنیا کا یہی حسن ہے کہ یہاں کوئی شخص مکمل طور پر فارغ التحصیل نہیں ہوتا۔ ایک سوال کا جواب ملتا ہے تو کئی نئے سوال جنم لے لیتے ہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ علم کی منزل دراصل کوئی آخری مقام نہیں بلکہ ایک ایسا راستہ ہے جس پر چلنے والے کو ہر قدم پر نئی دنیا دریافت ہوتی ہے۔

جہاں تک قلم سے میرے تعلق کا سوال ہے تو یہ رشتہ محض اتفاق یا وقتی شوق کا نتیجہ نہیں بلکہ میری طبیعت کا ایک فطری تقاضا ہے۔ ابتدا میں قلم صرف ہاتھ میں تھا، پھر رفتہ رفتہ دل و دماغ میں بھی اتر گیا۔ لفظوں سے دوستی بڑھی تو خیالات نے تحریر کا روپ دھار لیا اور احساسات نے اظہار کے لیے اپنا راستہ تلاش کر لیا۔ میرے لیے لکھنا محض مشغلہ نہیں بلکہ اپنے ماحول، مشاہدات اور باطن سے مکالمے کا ایک خوب صورت وسیلہ ہے۔ بعض باتیں زبان ادا نہیں کر پاتی، مگر قلم انہیں بڑی خاموشی اور مہارت سے قرطاس پر منتقل کر دیتا ہے۔ کبھی کوئی خیال اچانک دستک دیتا ہے، کبھی کوئی منظر ذہن میں ٹھہر جاتا ہے اور کبھی کوئی معمولی سا واقعہ پوری تحریر کا نقطۂ آغاز بن جاتا ہے۔ لفظوں سے دوستی ہو جائے تو تنہائی بھی زیادہ دیر تنہا نہیں رہنے دیتی؛ کبھی کوئی خیال ہم کلام ہو جاتا ہے اور کبھی کوئی جملہ پوری رات ذہن کے دریچے کھٹکھٹاتا رہتا ہے۔ بعض اوقات تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قلم ہاتھ میں نہیں بلکہ قلم نے مجھے ہاتھ میں لے رکھا ہو۔


الحمدللہ، بحیثیتِ معلمہ، شاعرہ، محققہ، مبصرہ، انشاپرداز اور افسانہ نگار میری ادبی شناخت مختلف جہتوں پر محیط ہے۔ میری تحریریں قومی و بین الاقوامی علمی و ادبی جرائد و رسائل میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ کبھی شاعری کے ذریعے احساسات کو لفظوں کا لباس پہناتی ہوں، کبھی تحقیق کے ذریعے ادب کے مخفی گوشوں کی بازیافت کرتی ہوں، کبھی تنقیدی و تجزیاتی نگاہ سے تخلیقات کا مطالعہ کرتی ہوں اور کبھی افسانے کے قالب میں زندگی کے ان کرداروں کو پیش کرنے کی کوشش کرتی ہوں جو بظاہر عام ہوتے ہیں، مگر اپنے اندر غیر معمولی کہانیوں کا ایک پورا جہان آباد کیے رکھتے ہیں۔ میرے نزدیک ادب کا ہر شعبہ ایک الگ دریچہ ہے، جس سے زندگی کو دیکھنے کا زاویہ بدل جاتا ہے۔ شاعری دل کی آواز ہے، تحقیق ذہن کی جستجو، تنقید فکری بصیرت اور افسانہ انسانی زندگی کے ان گوشوں کی ترجمانی ہے جو اکثر روزمرہ کی مصروفیات میں ہماری نگاہوں سے اوجھل رہ جاتے ہیں۔

ان تمام ادبی جہتوں میں انشاپردازی سے مجھے خاص شغف ہے کیونکہ اس میں فکر کی سنجیدگی اور اظہار کی شگفتگی کو ایک ساتھ برتنے کی گنجائش موجود ہے۔ مجھے ایسی تحریر پسند ہے جس میں بات بھی ہو، بات کا سلیقہ بھی ہو اور کہیں کہیں مسکراہٹ کی ہلکی سی چاشنی بھی شامل ہو۔ میرے خیال میں قاری کو متاثر کرنے کے لیے ضروری نہیں کہ ہر دوسرے جملے پر اسے لغت کھولنی پڑے یا تحریر پڑھتے ہوئے چہرے پر سنجیدگی کا مستقل تالا لگانا پڑ جائے۔ مشکل الفاظ اور ثقیل تراکیب اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں لیکن اصل کمال تو یہ ہے کہ بات دل تک پہنچے، ذہن میں کوئی دریچہ کھولے اور قاری کو کچھ دیر اپنے ساتھ بٹھا لے۔ تحریر اگر صرف اپنی علمی نمائش میں مصروف رہے تو ممکن ہے قاری اس کے الفاظ سے مرعوب ہو جائے، تاہم اگر اس میں احساس، روانی اور شگفتگی بھی شامل ہو تو وہ اس کے دل میں جگہ بنا سکتی ہے۔ میرے نزدیک ادب کا حسن اسی دل نشینی میں پوشیدہ ہے۔


میں ادب کو زندگی سے الگ کوئی جزیرہ نہیں سمجھتی بلکہ اسے زندگی ہی کا ایک بامعنی، حساس اور تخلیقی عکس تصور کرتی ہوں۔ اس میں انسانی دکھ، خوشیاں، رشتے، معاشرتی رویے، تضادات، خواب، محرومیاں اور امیدیں سبھی اپنے اپنے رنگوں کے ساتھ موجود ہوتے ہیں۔ ایک ادیب کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے گردوپیش سے آنکھیں بند نہ کرے بلکہ لوگوں کے چہروں کے پیچھے چھپے موسم بھی دیکھے اور معمولی دکھائی دینے والے واقعات میں غیر معمولی معنویت تلاش کرے۔ بسا اوقات ایک خاموش چہرہ پوری داستان سنا رہا ہوتا ہے، ایک معمولی سا جملہ کسی عہد کی نفسیات کا آئینہ بن جاتا ہے اور ایک چھوٹا سا واقعہ معاشرتی رویوں کی پوری کتاب کھول دیتا ہے۔ میرا یقین ہے کہ ہر انسان اپنے اندر ایک مکمل داستان رکھتا ہے؛ فرق صرف اتنا ہے کہ کوئی اسے زبان سے بیان کر دیتا ہے اور کوئی خاموشی سے اپنے دل میں لیے پھرتا ہے۔ شاید افسانہ نگار کا کام بھی انہی خاموش داستانوں کو آواز دینا ہے۔

میری خواہش ہے کہ میرا قلم تحقیق کی دیانت، تخلیق کی تازگی، اظہار کی شائستگی اور فکر کی بالیدگی سے عبارت رہے۔ میری تحریر محض صفحات کی زینت نہ بنے بلکہ قاری کے ذہن میں کوئی سوال، دل میں کوئی احساس اور لبوں پر کبھی ایک بے ساختہ مسکراہٹ بھی چھوڑ جائے۔ میں نہیں چاہتی کہ میری تحریر پڑھ کر قاری صرف یہ سوچے کہ اچھے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں؛ میری خواہش ہے کہ وہ یہ بھی محسوس کرے کہ ان لفظوں کے پیچھے ایک زندہ دل، حساس اور سوچنے والا ذہن موجود ہے۔ اگر میری کوئی تحریر کسی ایک شخص کو بھی سوچنے، محسوس کرنے، اپنے رویے پر نظرثانی کرنے یا مسکرانے کا موقع فراہم کر سکے تو میں اسے اپنی ادبی کاوش کی کامیابی سمجھوں گی کیونکہ میرے نزدیک قلم کی اصل قدر بھی شاید اسی میں ہے کہ وہ کاغذ سے آگے بڑھ کر کسی دل یا ذہن تک رسائی حاصل کر لے۔

اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ یاسمین اختر طوبیٰ کو چند لفظوں میں کیسے متعارف کرایا جا سکتا ہے تو شاید میرا جواب ہو کہ میں ایک ایسی طالبہ ہوں جس کی تعلیم ابھی جاری ہے، ایک ایسی محققہ ہوں جس کے سوال ابھی ختم نہیں ہوئے، ایک ایسی قلم کار ہوں جسے ابھی بہت کچھ لکھنا ہے اور ایک ایسی شاعرہ ہوں جس کے اندر احساس کے موسم آج بھی بدلتے رہتے ہیں۔ میں کوئٹہ میں پیدا ہونے والی اور گوجرہ میں رہائش پذیر ایک ادبی مسافر ہوں، جس کے وجود میں دو خطوں کی مٹی کی خوشبو، زندگی کے تجربات اور لفظوں سے محبت کے کئی رنگ یکجا ہیں۔ میری شخصیت میں کبھی بلوچستان کے پہاڑوں جیسی خاموشی اتر آتی ہے اور کبھی پنجاب کی مٹی جیسی بے تکلف اپنائیت۔ شاید اسی امتزاج نے مجھے زندگی کو مختلف زاویوں سے دیکھنے اور اپنے احساسات کو مختلف پیرایوں میں بیان کرنے کا ہنر عطا کیا ہے۔

ڈگریاں، اعزازات، علمی اسناد اور ادبی حوالوں کی اپنی اہمیت ہے مگر میری نظر میں میری اصل پہچان میرا فکری و تخلیقی سفر ہے۔ اس سفر میں والد صاحب کی تربیت میرا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ ان کی عدم موجودگی کا احساس اپنی جگہ، لیکن ان کے دیے ہوئے حوصلے نے مجھے زندگی کے ہر موڑ پر آگے بڑھنے کا سلیقہ سکھایا ہے۔ میں نے زندگی سے یہی سیکھا ہے کہ محرومیاں انسان کی پوری کہانی نہیں ہوتیں؛ اصل کہانی تو یہ ہوتی ہے کہ وہ ان محرومیوں کے باوجود اپنے اندر امید، محبت اور تخلیق کی شمع کیسے روشن رکھتا ہے۔ انسان کے پاس جو کچھ نہیں ہوتا، زندگی کا سارا حساب اسی کے گرد نہیں گھومتا؛ کبھی کبھی جو کچھ اس کے اندر موجود ہوتا ہے، وہی اسے آگے بڑھنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ میں نے اپنے والدین کی محبت، ان کی یادوں اور ان کی تربیت کو اپنی زندگی کا ایسا سرمایہ بنایا ہے جسے وقت کی کوئی گردش مجھ سے جدا نہیں کر سکتی۔

سو، میں یاسمین اختر طوبیٰ ہوں؛ ایک ایسی بیٹی جس نے زندگی میں ماں کی آغوش اور باپ کا سایہ کھویا، مگر ان کی محبت اور یادوں کو اپنے وجود کا حصہ بنا کر آگے بڑھنا سیکھا۔ ایک ایسی طالبہ جس کا سیکھنے کا عمل جاری ہے، ایک ایسی قلم کار جس کے لفظ ابھی تشنۂ اظہار ہیں اور ایک ایسی مسافر جسے ہر نئے خیال میں ایک نیا راستہ دکھائی دیتا ہے۔ کبھی سنجیدگی سے زندگی کو پڑھتی ہوں، کبھی شگفتگی سے اس پر مسکراتی ہوں اور کبھی قلم اٹھا کر ان دونوں کیفیات کو لفظوں میں محفوظ کر لیتی ہوں۔ میری کوشش یہی ہے کہ زندگی کی تلخیوں کو محسوس کرتے ہوئے اس کی مٹھاس سے رشتہ برقرار رہے اور لفظوں کی دنیا میں قدم رکھتے ہوئے انسانوں کی دنیا سے تعلق کبھی کمزور نہ ہونے پائے۔

بقولِ دل، ابھی تو بہت کچھ کہنا اور بہت کچھ لکھنا باقی ہے۔ زندگی کا سفر جاری ہے، خیالوں کی آمدورفت بھی اور لفظوں کی دستک بھی۔ مجھے یقین ہے کہ جب قلم ہم سفر بن جائے تو زندگی کا ہر تجربہ ایک نیا عنوان اور ہر احساس ایک نئی کہانی بن جاتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مجھے اپنی زندگی کسی مکمل کتاب سے زیادہ ایک زیرِ تحریر مسودہ محسوس ہوتی ہے، جس کے کئی صفحات ابھی خالی ہیں اور کئی عنوانات ابھی ذہن کے دریچوں میں دستک دے رہے ہیں۔ ابھی کچھ خواب تعبیر کے منتظر ہیں، کچھ سوال، جواب چاہتے ہیں اور کچھ لفظ قرطاس پر اترنے کے لیے بے تاب ہیں۔ جہاں تک میرے قلم کا تعلق ہے، اسے ابھی بہت کچھ کہنا ہے؛ اس لیے فی الحال اس کا سفر سے واپسی کا کوئی ارادہ نہیں۔ آخر لفظوں سے دوستی کر لینے والوں کے لیے خاموشی بھی ایک مستقل منزل کہاں بن پاتی ہے۔