میرا نام عندلیب اشفاق ہے۔ میرا تعلق پنجاب کے شہر گوجرانوالہ سے ہے، تاہم ان دنوں میری رہائش راولپنڈی میں ہے۔ جب میں اپنے ادبی سفر کے آغاز پر نظر ڈالتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ سفر کسی باقاعدہ منصوبہ بندی یا ادبی ماحول کی دین نہیں، بلکہ بچپن کی چند خوب صورت یادوں، بزرگوں کے شوقِ مطالعہ اور چند ایسے لمحوں کا نتیجہ ہے جنہوں نے رفتہ رفتہ مجھے لفظوں کی دنیا سے جوڑ دیا۔
ہمارے گھر کا ماحول بظاہر ایسا نہیں تھا جسے مکمل طور پر ادبی کہا جا سکے، لیکن ہمارے بزرگوں میں پڑھنے لکھنے کا شوق بہت زیادہ تھا، اور آج بھی ہے۔ ہمارے گھر میں ہر ہفتے بچوں کے لیے ایک اخبار آیا کرتا تھا، جسے سب بے چینی سے انتظار کرکے پڑھتے تھے۔ میرے چاچو ہم سب بچوں کو اپنے پاس بٹھاتے اور اردو پڑھنے کی ترغیب دیتے۔ اس وقت شاید مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ چھوٹی چھوٹی نشستیں میرے اندر زبان و ادب سے محبت کی بنیاد رکھ رہی ہیں۔
ابتدا میں مجھے اردو سے کوئی خاص لگاؤ نہیں تھا۔ میرے لیے اردو بھی دوسرے مضامین کی طرح ایک مضمون ہی تھی، مگر شاید میرے استاد نے میرے اندر چھپی کسی صلاحیت کو پہچان لیا تھا۔ اسکول میں میری اردو کی ٹیچر نے ایک دن کہا کہ مجھے اردو میں اپنی تعلیم جاری رکھنی چاہیے، کیونکہ میں اس میدان میں بہت آگے جا سکتی ہوں۔ اس وقت میں ان کی بات کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیتی تھی۔ مجھے اردو اور اپنے درمیان ایک فاصلہ محسوس ہوتا تھا، لیکن آج سوچتی ہوں تو لگتا ہے کہ میرے ادبی سفر کی پہلی دستک وہیں سنائی دی تھی۔
اسی دوران اسکول کے میگزین میں میری پہلی تحریر شائع ہوئی۔ وہ کسی تحریر سے متاثر ہو کر اپنے انداز میں لکھنے کی ایک ابتدائی کوشش تھی، مگر اس اشاعت نے میرے اندر ایک نیا حوصلہ پیدا کیا۔ یوں محسوس ہوا جیسے میرے خیالات کو پہلی بار ایک راستہ مل گیا ہو۔ یہی وہ لمحہ تھا جب لکھنے کا شوق آہستہ آہستہ جنون میں بدلنے لگا۔
کالج کا زمانہ آیا تو مطالعے کا شوق مزید بڑھ گیا۔ ڈائجسٹ پڑھنے کی عادت ایسی تھی کہ کبھی گھر والوں سے چھپ کر پڑھتی اور کبھی سب کے سو جانے کے بعد لائٹ جلا کر مطالعے میں مصروف ہو جاتی۔ ڈائجسٹ ہاتھ میں آتا تو کوشش ہوتی کہ اسے شروع سے آخر تک پڑھ کر ہی رکھوں۔ کتابوں اور رسائل کی یہی دنیا مجھے اپنے سحر میں جکڑتی چلی گئی۔ کالج میں بھی میری تحریر میگزین کی زینت بنی، اور یوں لکھنے پڑھنے کا سلسلہ آگے بڑھتا رہا۔
یونیورسٹی کے زمانے میں مطالعے کا دائرہ مزید وسیع ہوا۔ مجھے ہر طرح کا ادب پڑھنے اور مختلف موضوعات پر طبع آزمائی کرنے کا شوق تھا۔ کبھی دل کی کوئی کیفیت لفظوں میں ڈھل جاتی، کبھی کسی معاشرتی رویے پر قلم اٹھانے کو جی چاہتا، اور کبھی لکھنے کے باوجود اپنی تحریر دوسروں کو دکھانے کا حوصلہ نہ ہوتا۔ مگر وقت کے ساتھ یہ احساس پختہ ہوتا گیا کہ لکھنا صرف الفاظ کو یکجا کرنے کا نام نہیں، بلکہ اپنے احساسات، مشاہدات اور خیالات کو مناسب زبان دینے کا فن ہے۔
میرا ماننا ہے کہ جذبات و احساسات ہر انسان کے اندر موجود ہوتے ہیں، اسی طرح اظہار کی کوئی نہ کوئی صلاحیت بھی ہر شخص میں پائی جاتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کوئی اسے پہچان لیتا ہے اور کوئی عمر بھر اس کی تلاش میں رہتا ہے۔ میرے لیے قلم اپنے احساسات کو زبان دینے اور معاشرے کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے کا ذریعہ بنا۔
وقت کے ساتھ میری تحریریں مختلف ادبی و صحافتی پلیٹ فارمز پر شائع ہونے لگیں۔ سرائے سخن انٹرنیشنل، سوشل تھاٹس، سخن آباد خواتین رائٹرز، مقابلہ گروپ، سٹی 9 نیوز اور المشرق گروپ آف میڈیا سمیت مختلف اداروں میں میری تحریروں کو جگہ ملی۔ اس کے علاوہ روزنامہ جھلک، روزنامہ وقت، ڈیلی سٹی 9 لاہور، یلغار مومن اور ہفتہ روزہ کارروائی کراچی میں بھی میری تحریریں شائع ہو چکی ہیں۔ مختلف ادبی مجموعوں اور انتھالوجیز میں شمولیت اور کتابی مقابلوں میں شرکت بھی اس سفر کے اہم حصے رہے ہیں۔ میری ایک کتاب تحریر ہو چکی ہے، جبکہ ایک کتاب زیرِ اشاعت ہے۔
اس تمام عرصے میں میں نے اپنی تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا اور ادب سے اپنے تعلق کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کی۔ میں خود کو کسی بڑے ادبی مقام پر فائز نہیں سمجھتی، بلکہ آج بھی خود کو سیکھنے کے مراحل میں موجود ایک طالبہ تصور کرتی ہوں۔ میرے نزدیک لکھنے والے کا سفر کبھی مکمل نہیں ہوتا؛ ہر نئی کتاب، ہر نئی تحریر اور ہر نیا تجربہ اسے کچھ نہ کچھ سکھاتا ہے۔
آج جب میں اپنے ماضی پر نظر ڈالتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ میرے ادبی سفر کی بنیاد گھر کے بزرگوں کے شوقِ مطالعہ، چاچو کی رہنمائی، استاد کے حوصلہ افزا الفاظ، اسکول میگزین میں پہلی اشاعت اور راتوں کو چھپ چھپ کر پڑھے جانے والے ڈائجسٹوں نے رکھی تھی۔ یہ سب بظاہر معمولی واقعات تھے، لیکن انہی نے میرے اندر ادب کی محبت کو پروان چڑھایا۔
اب اردو میرے لیے محض ایک مضمون نہیں رہی، بلکہ میرے احساسات، خیالات اور اظہار کا وسیلہ بن چکی ہے۔ میرا سفر ابھی جاری ہے، اور میری خواہش ہے کہ میرے الفاظ صرف پڑھے نہ جائیں بلکہ محسوس بھی کیے جائیں؛ وہ کسی کے دل تک پہنچیں، کسی سوچ کو بیدار کریں اور کسی احساس کو زبان دے سکیں۔ شاید میرے لیے ادبی سفر کی اصل کامیابی یہی ہے کہ میں اپنے لفظوں کے ذریعے اپنے احساسات کو دوسروں تک پہنچا سکوں۔
مزید پڑھیں




