ہفتہ، 7 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

میرا تعارف،عارف محمود

نقطہ نظر

صحافت میرے نزدیک محض خبر دینے یا واقعات بیان کرنے کا نام نہیں، بلکہ معاشرے کی نبض پر ہاتھ رکھنے، عوامی مسائل کو سمجھنے اور حقائق کو بے خوف انداز میں منظرعام پر لانے کا ایک ذمہ دارانہ شعبہ ہے۔ میں نے صحافت کو ہمیشہ ایک مشن، ایک ذمہ داری اور معاشرتی خدمت کا ذریعہ سمجھا ہے۔


میرا نام *ڈاکٹر عارف محمود* ہے۔ میں صحافی، نیوز رپورٹر اور کالم نگار ہوں۔ میرے صحافتی سفر کا آغاز 2009ء میں روزنامہ خبریں سے بطور رپورٹر ہوا۔ اس کے بعد مجھے مختلف اخبارات اور نیوز اداروں میں کام کرنے کا موقع ملا، جہاں میں نے بطور رپورٹر، تحصیل رپورٹر اور بیورو چیف اپنی صحافتی ذمہ داریاں انجام دیں۔


میرے صحافتی سفر میں روزنامہ خبریں، روزنامہ آپ لاہور، یو این پی، آن ٹی وی، تہلکہ نیوز، محبوبِ انسان، روزنامہ وائز اور روزنامہ میرا شہر ڈیلی سی این این؛؛باغی ٹی وی سمیت مختلف اداروں سے وابستگی شامل رہی ہے۔


میں نے سیالکوٹ، ڈسکہ اور گردونواح میں صحافتی خدمات انجام دیتے ہوئے عوامی مسائل، سیاسی و سماجی سرگرمیوں، انتظامی معاملات اور علاقائی حالات کو قریب سے دیکھا اور رپورٹ کیا۔ مختلف اداروں میں کام کرنے کے تجربے نے میرے مشاہدے، سوچ اور صحافتی صلاحیتوں کو مزید نکھارا۔


میری شناخت صرف رپورٹنگ تک محدود نہیں۔ میں کالم نگاری کے میدان میں بھی اپنی تحریری صلاحیتوں کا اظہار کرتا رہا ہوں۔ میرے کالم مختلف اخبارات اور جرائد میں شائع ہوتے رہے ہیں، جن میں ہفت روزہ القلم پشاور، روزنامہ عظمت لاہور، ہفت روزہ محبوبِ انسان لاہور، ہفت روزہ وجدان ڈسکہ، ہفت روزہ آبزرویشن ڈسکہ، ماہنامہ حلیف سیالکوٹ، روزنامہ افکارِ جہاں گوجرانوالہ، ہفت روزہ صدائے امن ڈسکہ، ہفت روزہ نوائے ڈسکہ، ہفت روزہ کائنات گوجرانوالہ اور روزنامہ نوائے شمال سیالکوٹ شامل ہیں۔


تعلیمی اعتبار سے میں نے ڈی ایچ ایم ایس (ڈپلومہ اِن ہومیوپیتھک میڈیسن اینڈ سائنس) کی تعلیم حاصل کی ہے۔ اس کے علاوہ میرے پروفیشنل پروفائل میں AFP کا ڈپلومہ بھی شامل ہے، جس کا تعلق مؤثر انداز میں معلومات کی تلاش اور مطلوبہ نتائج کے حصول سے ہے۔


میں سمجھتا ہوں کہ صحافت کی اصل طاقت سچائی، غیر جانب داری، دیانت داری اور مضبوط مشاہدے میں پوشیدہ ہے۔ ایک صحافی کی ذمہ داری صرف خبر شائع کرنا نہیں بلکہ ان آوازوں کو بھی سامنے لانا ہے جو معاشرے میں اکثر نظرانداز کر دی جاتی ہیں۔


میری کوشش رہتی ہے کہ میرا قلم معاشرتی ناانصافی، عوامی مسائل، انسانی رویوں، سیاسی و سماجی حالات اور زندگی کے مختلف پہلوؤں کی حقیقی ترجمانی کرے۔


میں شہرت کے بجائے اپنے کام کی پہچان، تعریف کے بجائے قارئین کی رائے اور الفاظ کی خوب صورتی سے زیادہ ان کے اثر کو اہمیت دیتا ہوں۔


*میرا یقین ہے کہ قلم کی اصل طاقت اس کی سچائی ہے۔ میں صحافت کو اپنا پیشہ ہی نہیں بلکہ اپنی ذمہ داری اور اپنی پہچان سمجھتا ہوں۔*


*میں عارف محمود ہوں؛ ایک صحافی، ایک رپورٹر اور ایک کالم نگار، جو اپنے قلم کے ذریعے معاشرے کی آواز بننے کا خواہش مند ہے۔*

مزید پڑھیں