منگل، 3 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

میرا تعارف،جواد اعوان

نقطہ نظر

قلم سے میرا تعلق محض ایک وقت گزاری یا اتفاقی وابستگی نہیں، بلکہ یہ ایک گہرا اور مقدس شعوری رشتہ ہے جو میری روح کی غذا اور میری فکر کی اصل پہچان ہے۔ میرے اس ادبی و فکری سفر کا پرشکوہ آغاز جامعہ کشمیر، مظفر آباد کی شاداب، پروقار اور علمی و ادبی فضاؤں میں پروان چڑھا، جہاں تعلیم کے زیور سے آراستہ ہونے کے ساتھ ساتھ مجھے جامعہ کی لٹریری سوسائٹی کے سینئر نائب صدر کی حیثیت سے اپنی ذمے داریاں احسن طریقے سے سنبھالنے کا موقع ملا. یہی وہ تعمیری دور تھا جس نے میری شخصیت میں فکری پختگی، سماجی شعور اور حق و صداقت کو بلاخوف و خطر بیان کرنے کی جرات پیدا کی. صحافت کے خارزار میں میرے قلم نے پہلا قدم روزنامہ "مون کریشن" کے صفحات سے اٹھایا، جہاں ایک سال تک مجھے حالاتِ حاضرہ کے نبض شناس کی حیثیت سے لکھنے کا موقع ملتا رہا. 2013ء میں ڈگری کی تکمیل کے بعد عملی زندگی کی تلخیوں، مصروفیت اور فکرِ معاش نے اگرچہ کچھ وقت کے لیے میرے قلم کی رفتار کو سست کر دیا، مگر میں نے لفظوں کا مقدس رشتہ کبھی ٹوٹنے نہ دیا اور اس خاموش دور میں بھی میں مسلسل لکھتا رہا، اگرچہ وہ تحریریں اس وقت منظرِ عام پر نہ آسکیں.

زندگی کے موڑ پر 2017ء میں رزقِ حلال کی تلاش مجھے دیارِ غیر سعودی عرب لے گئی. دیس سے دوری، تنہائی کے لمحات اور اجنبیت کا احساس میرے اندر کے ادیب کے لیے آبِ حیات ثابت ہوا، جس نے میرے فکری نگارخانے کو مزید جلا بخشی اور وہاں قیام کے دوران میرے قلم سے قریباً 200 افسانے، انشایئے اور سفرنامے تخلیق ہوئے. وطنِ عزیز واپسی کے بعد بھی تخلیق کا یہ دریا روانی کے ساتھ بہتا رہا اور آج میرا قلم افسانوں، افسانچوں اور بچوں کی کہانیوں کے روپ میں معاشرتی سچائیوں، رشتوں کی نزاکت اور انسانی رویوں کی گہری عکس بندی کر رہا ہے.

خدا کے فضل و کرم سے آج میری نگارشات اور کالم ملک کے انتہائی موقر اور معتبر ادبی و صحافتی رسائل کی زینت بن رہے ہیں، جن میں ماہنامہ دشتِ آرزو، ارمغانِ سحر، ہائے قلب، خیالات نگری، پیامِ سحر، قلمی آشیاں اور کاروانِ قلم جیسے باوقار جرائد شامل ہیں. اس کے علاوہ روزنامہ بدلتا دور، میرا پاکستان، عوامی خبریں، کیپیٹل نیوز، روزنامہ ون، خبر پوائنٹ اور کھری بات جیسے قومی اخبارات کے صفحات کے ذریعے میرا اور آپ تمام پرخلوص قارئین کا فکری و جذباتی رشتہ دن بہ دن مضبوط سے مضبوط تر ہو رہا ہے.

ادب کی اس مسلسل آبلہپائی اور سفرِ قلم کے ساتھ ساتھ، میں فی الوقت پاکستان فیڈرل یونین آف کالمسٹ (دستور باڈی) 2026ء میں بطور سیکرٹری جنرل اپنے معزز اور شانہ بشانہ کھڑے قلمی ساتھیوں کے ساتھ اپنی ذمے داریاں نبھا رہا ہوں, جو میرے ادبی و فکری شعور کے ساتھ ساتھ میری تنظیمی صلاحیتوں اور کاوشوں کا بین ثبوت ہے. حرف و حکایت کا یہ بساطِ شوق ابھی اختتام پذیر نہیں ہوا ہے. میری زیست کا حاصل اور اولین عزم یہی ہے کہ بدلتے ہوئے زمان و مکان، انسانی نفسیات کی پیچیدگیوں اور سماجی سچائیوں کو قرطاسِ سیمیں پر بکھیرتا رہوں. میری دعا اور پختہ عزم ہے کہ پروردگار میرے قلم کو ہمیشہ حق کا ساتھ دینے کی توفیق دے اور میری یہ عاجزانہ ادبی کاوشیں آنے والی نسلوں کے لیے روشنی کا منار بن سکیں. میں پوری توانائی اور خلوص کے ساتھ اس علمی و فکری مشن پر گامزن ہوں، کیونکہ میرا ایقان ہے کہ فانی انسان کے پاس "لفظ" ہی وہ واحد لافانی سہارا ہیں جو اسے فنا کے اندھیروں سے نکال کر بقا کی روشنی عطا کرتے ہیں، اور مجھے امید ہے کہ میرا یہ تخلیقی سفر آپ تمام ادب پرور قارئین کے ذوقِ طبع کے لیے ایک گراں قدر اور معنی خیز اضافہ ثابت ہوگا.