منگل، 3 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

میرا تعارف، مائرہ حمزہ

نقطہ نظر

میرا نام مائرہ حمزہ ہے۔ میرا تعلق پنجاب کے تاریخی اور زرخیز شہر ظفروال سے ہے، جہاں کی مٹی میں خلوص، محبت اور سادگی کی مہک بسی ہوئی ہے۔ میں اپنے والدین کی دوسری اولاد اللّٰہ کی رحمت بن کر اس گھر میں آئی۔ میرا ایک بھائی مجھ سے بڑا ہے اُن کا نام طیب رسول ہے؛ مجھ سے چھوٹے دو بھائی ہیں نبیل عارف اور ساحل عارف، یوں میں تین بھائیوں کی اکلوتی بہن ہوں۔ قدرت نے مجھ میں بیٹی کی نزاکت کے ساتھ ساتھ ایک بہادر بہن کا حوصلہ بھی رکھا ہے۔ شادی کے بعد اب میں روشنیوں کے شہر کراچی میں مستقل طور پر رہائش پذیر ہوں مگر ظفروال کی وہ گلیاں، وہ اسکول اور وہ شامیں آج بھی میری یادوں میں تازہ ہیں۔

میں ایک شادی شدہ خاتون اور دو پھول جیسے بیٹوں کی ماں ہوں۔ میرا بڑا بیٹا عبدلرافع تین سال کا ہے اور چھوٹا بیٹا عبدالحنان ایک سال کا ہے۔ یہ دونوں میری زندگی کا محور اور میرے آنگن کی رونق ہیں۔ اللّٰہ کا خاص کرم ہے کہ مجھے ایک بہت اچھے، سلجھے ہوئے اور حمایت کرنے والے شوہر کا ساتھ نصیب ہوا ہے۔ وہ میرے ہر خواب کو اپنا خواب سمجھتے ہیں۔ جب بچوں کی ذمہ داریوں میں میرا قلم تھک جاتا ہے تو وہی میرا حوصلہ بڑھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم لکھو کیونکہ لفظ تمہاری پہچان ہیں۔

تعلیمی لحاظ سے میں نے اپنی ابتدائی تعلیم ظفروال سے حاصل کی اور شادی کے بعد بھی بی اے کی تعلیم کے سلسلے کو جاری رکھا۔ تعلیم نے مجھے شعور دیا اور شعور نے مجھے قلم تھمایا۔

کب سے لکھنے کا آغاز کیا اور ادبی سفر۔

لفظ میری سانسوں میں بستے ہیں اور خیال میری سوچ کا محور ہے۔ بچپن سے ہی مجھے لکھنے کا جنون تھا۔ جب دوسری بچیاں گڑیوں سے کھیلتی تھیں تو میں کاغذ کے ٹکڑوں پر ادھورے جملے لکھتی تھی۔ وہی ادھورے جملے آہستہ آہستہ مکمل کہانیاں بن گئے؛ پھر میں نے افسانچے لکھے، کالم لکھے، افسانے اور نظمیں لکھیں۔ میرے نزدیک لکھنا محض ایک مشغلہ نہیں بلکہ یہ میرے دل کی دھڑکن، میری ذات کا اظہار اور میری روح کی تسکین ہے۔

میں نے باقاعدہ طور پر لکھنے کا آغاز اسکول کے زمانے سے کیا۔ میری پہلی تحریر میرے اسکول کے میگزین میں شائع ہوئی تو میری خوشی کی انتہا نہ رہی۔ اسی چھوٹی سی کامیابی نے مجھے بڑا لکھاری بننے کا خواب دکھایا۔ آج الحمدللہ وہ خواب حقیقت بن رہا ہے۔

میرا ادبی سفر آسان نہیں تھا۔ ایک عورت کے لیے، ایک ماں کے لیے، گھر اور قلم دونوں کو ساتھ لے کر چلنا بہت کٹھن ہوتا ہے۔ میں نے زندگی میں بہت سی مشکلات دیکھی ہیں۔ مُجھے کبھی حالات نے آزمایا اور کبھی وقت نے؛ اگر میں اپنی زندگی کی مکمل داستان سنانے لگوں تو شاید ایک پوری کتاب بن جائے؛ لیکن میں نے ہر مشکل کو اپنے قلم کی طاقت بنایا ہے۔ میری کہانیوں میں جو دکھ نظر آتا ہے، میرے کالموں میں جو سوز ہے، وہ میری اپنی آزمائشوں کا عکس ہے۔

شائع ہونے والی کتابیں اور تصانیف۔

ابھی تک میری کوئی باقاعدہ کتاب شائع نہیں ہوئی؛ لیکن میری تحریریں ہی میرا سرمایہ ہیں۔ میرے کئی کالم، افسانے، افسانچے، نظمیں اور غزلیں مختلف معروف اخبارات اور میگزینز کی زینت بن چکی ہیں۔ مجھے ایکسپریس نیوز ون، آوازِ خلق، نیوز اخبار، فِکرِ ظفر میگزین، آنگن میگزین، ماہ نور میگزین، زہرا رائٹرز گلڈ جیسے باوقار اداروں کے ساتھ لکھنے کا اعزاز حاصل رہا ہے۔ میں صحافت کی حقیقت نگاری اور ادب کی لطافت، دونوں سے جڑی ہوئی ہوں۔ ان شاء اللّٰہ بہت جلد میری تحریروں کو کتابی شکل میں بھی قارئین کے سامنے لانے کا ارادہ ہے۔

حاصل کردہ اعزازات، اسناد اور ایوارڈز۔

ادب سے میری محبت کو کئی اداروں نے سراہا ہے۔ الحمدللّٰہ مجھے اب تک مختلف ادبی و صحافتی اداروں کی جانب سے کئی اعزازی اسناد مل چکی ہیں۔ یہ اسناد میرے لیے کسی ایوارڈ سے کم نہیں ہیں۔ یہ میرے قلم کی سچائی کا ثبوت ہیں۔ جہاں تک ایوارڈ کی بات ہے تو میں سمجھتی ہوں کہ ایک لکھاری کا سب سے بڑا ایوارڈ اس کے قارئین کی محبت ہوتی ہے۔ البتہ میری دل سے خواہش اور کوشش ہے کہ میں اچھی صحافت اور سچے ادب کے فروغ کے لیے کام کرتی رہوں، ان شاء اللّٰہ ایک دن اللّٰہ کے کرم سے مجھے اچھی صحافت کا بڑا ایوارڈ بھی ضرور ملے گا۔ میں اسی جذبے کے ساتھ کوشش کرتی رہوں گی۔

ادبی خدمات، سماجی مقصد اور دیگر سرگرمیاں۔

میں صرف اپنے لیے نہیں لکھتی۔ میں دوسروں کے لیے بھی لکھنا چاہتی ہوں۔ میرا قلم صرف محبت کی کہانیاں نہیں لکھے گا؛ بلکہ میرے ملک کے لیے، میرے سماج کے لیے اور ہمارے معاشرے کے دکھتے ہوئے پہلوؤں کے لیے بھی لکھے گا۔ میں چاہتی ہوں کہ میری تحریر مظلوم کی آواز بنے۔ میں ان عورتوں کی آواز بننا چاہتی ہوں جو بول نہیں سکتیں، ان بچوں کی آواز بننا چاہتی ہوں جن کے خواب چھین لیے جاتے ہیں اور ان لوگوں کی آواز بننا چاہتی ہوں جنہیں معاشرہ نظر انداز کر دیتا ہے۔ میں اپنے ملک پاکستان کے لیے، اس کے روشن چہرے کے لیے اور سماجی و معاشرتی اصلاح کے لیے لکھوں گی۔ یہی میری صحافت کا مقصد ہے اور یہی میرے ادب کا مشن ہے۔

باغی ٹی وی کا شکریہ۔

آخر میں میں تہہ دل سے باغی ٹی وی اور باغی رائیٹرز فورم کی پوری انتظامیہ کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں۔ میں نے باغی ٹی وی جیسے باوقار بین الاقوامی ادارے کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا تھا۔ یہ ادارہ نئے لکھنے والوں کو، خاص طور پر خواتین لکھاریوں کو جس طرح عزت اور پہچان دیتا ہے، وہ واقعی قابلِ ستائش ہے۔ یہ صرف ایک چینل نہیں؛ بلکہ ایک ادبی تحریک ہے۔ مجھے فخر ہے کہ آج میرا تعارف اس فورم کا حصہ بن رہا ہے۔

دوسروں کے لیے تو ہم سب بہت لکھتے ہیں، آج پہلی بار اپنے لیے لکھا ہے تو دل بہت خوش ہے۔ امید ہے آپ سب کو میرا یہ تعارف پسند آئے گا۔

دعاؤں کی طلبگار،