منگل، 3 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

میرا تعارف ، مہوش شفیق

نقطہ نظر

قدرت کی حسین رعنائیاں ازل سے میرے دل کے نہاں خانوں میں آسودہ ہیں۔ مجھے اس حقیقت پر کامل یقین ہے کہ فطرت کے دلکش نظارے انسان کے باطن میں تخلیق و تحیر کے وہ چراغ فروزاں کرتے ہیں جو فکر و نظر کو نئے افق سے آشنا کرتے ہیں۔میں مہوش شفیق ضلع نارووال کے ایک نواحی گاؤں کی سوندھی مٹی میں گندھی ہوئی ایک ادب پرور روح ہوں۔

میں نے بی ایس اردو میں اپنے تعلیمی سفر کی تکمیل کی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ تحریر و تدریس سے متعلق مختلف کورسز بھی کیے ہیں تاکہ لفظ کو بہتر طور پر سمجھ سکوں۔ پیشے کے اعتبار سے میں ایک معلمہ ہوں، اور میرے نزدیک تدریس محض حصولِ معاش کا ذریعہ نہیں، بلکہ علم و آگہی کی مقدس شمع سے تاریک دلوں کو منور کرنے کی ایک عظیم امانت ہے۔ بچپن ہی سے ادب کی محبت میری رگ و پے میں لہو کی صورت رواں دواں ہے۔ باقاعدہ لکھنے کا آغاز میں نے طالب علمی کے زمانے سے کیا۔ میری نگاہ میں شاعری محض الفاظ کی حسین ترتیب نہیں، بلکہ احساس کی وہ مترنم اور دلنشیں موسیقی ہے جو روح کو آسودگی اور قلب کو قرار بخشتی ہے۔ وہ موسیقی جو دل کے ان بند دریچوں پر آہستہ سے دستک دیتی ہے جہاں جذبے خاموشی کی چادر اوڑھے محوِ خواب رہتے ہیں۔ ادب کے ساتھ میری عملی وابستگی کا سب سے روشن باب کتابِ نورِ عزم میں بطورِ مربی خدمات ہیں۔ یہاں میں نے نوآموز قلم کاروں کی رہنمائی اور ان کی تحاریر کی اصلاح کا کام کیا، جو میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔ اس کے علاوہ میں مختلف آن لائن ادبی فورمز کی فعال رکن ہوں۔

فی الحال میری کوئی ذاتی کتاب زیورِ طباعت سے آراستہ نہیں ہوئی۔ میری تحریریں زیست کے نشیب و فراز، جذبات کی بحرِ بیکراں کی اتھاہ گہرائیوں اور امید کی سحر انگیز کرنوں کی امین ہیں اور مختلف ادبی فورمز پر بکھری ہوئی ہیں۔مختلف ادبی فورمز کی جانب سے بہترین تحریر پر اعزازی اسناد سے نوازا گیا ہے۔

میرے نزدیک قلم محض لکھنے کا بے جان آلہ نہیں، بلکہ خود آگہی اور خود شناسی کا وہ شفاف و روشن آئینہ ہے جس میں انسان اپنی اصل حقیقت دیکھ پاتا ہے۔ میری آرزو یہی ہے کہ میرے بکھرے ہوئے حرف کسی شکستہ دل کے لیے امید کی لو بن جائیں، کسی تھکے ہارے مسافر کے لیے احساس کی خنک اور گھنی چھاؤں بن جائیں۔