منگل، 3 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

میرا تعارف،پیر انتظار حسین مصور

نقطہ نظر

​قلمی نام: پیر انتظار حسین مصور

اصل نام: پیر انتظار حسین شاہ

​تعلیم اور فکری سفر:

تعلیم صرف کاغذ کا ٹکڑا یا سند پانے کا نام نہیں، بلکہ سوچ کی پختگی اور ضمیر کی بیداری کا نام ہے۔ میں نے باقاعدہ صحافت اور جرنلزم کا آن لائن ڈپلومہ حاصل کیا، جس نے میرے قلمی سفر کو اصولوں کی روشنی میں مزید نکھارا۔

​طویل قلمی اور صحافتی سفر:

میرا قلمی سفر سن دو ہزار سے شروع ہوا اور دو دہائیوں سے زائد عرصے سے مسلسل جاری ہے۔ میرے لکھنے کا مقصد کبھی شہرت یا مفاد نہیں رہا، بلکہ ہمیشہ سچ کا ساتھ دینا، ظلم کے خلاف آواز اٹھانا اور عام لوگوں کے دکھ درد کو کاغذ پر اتارنا رہا ہے۔

​بطورِ آزاد کالم نگار میری تحریریں مختلف اخبارات اور ویب سائٹس پر شائع ہوتی رہی ہیں، جن میں روزنامہ سچ بات، ایکسپریس نیوز (اردو بلاگز)، ہم سب، ڈیلی اردو کالمز، سلام اردو، روزنامہ مشرق، روزنامہ اندلس ٹائمز، روزنامہ خبریں پوائنٹ، روزنامہ لاہور رنگ اور میرا اپنا بلاگ شامل ہیں۔

​باغی ٹی وی اور مبشر لقمان صاحب:

جناب مبشر لقمان صاحب کی سرپرستی میں چلنے والا 'باغی ٹی وی' اور 'باغی رائٹرز فورم' ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں بے باک اور سچی بات کہنے والوں کی قدر کی جاتی ہے۔ میں مبشر لقمان صاحب اور ان کی ایڈیٹوریل ٹیم کا شکر گزار ہوں جو ہم جیسے آزاد لکھاریوں کی تحریروں کو جگہ دیتے ہیں۔

​تصانیف، ناول اور شاعری:

​قلم کی دہشت گردی: میری یہ کتاب میری فکری اور صحافتی جدوجہد کا نچوڑ ہے۔

​باغ علی باغی (ناول): یہ ایک ایسے خوددار اور باغی کردار کی کہانی ہے جو کسی کے سامنے جھکنے کے بجائے حق کی راہ پر ڈٹ جاتا ہے۔ اس کی متعدد قسطیں شائع ہو چکی ہیں۔

​شاعری: اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں دل کے جذبے شعر کے قالب میں ڈھالے ہیں۔ میری غزل کا ایک نمونہ یہ ہے:

​مخلصوں کا اصول ہے کہ اعتبار سلامت رہے

سچ کی بنیاد سے اٹھا ہو تو منار سلامت رہے

​ظلمتِ شب میں جو شمعِ حق جلا کے رکھے

غریبِ شہر کا وہ حوصلہ، وہ پیار سلامت رہے

​جس میں سچ کی خوشبو اور وفا کی مہک رچی ہو

میرے ملک کا ایسا حسیں دیار سلامت رہے

​جبر کی آندھیوں میں بھی جو جھکا نہیں کبھی

سچ کی راہ پر گامزن وہ شہسوار سلامت رہے

​حق پہ قائم رہنے کی قیمت جو بھی ہو مصور!

جان جاتی ہے تو جائے، قلم کا کردار سلامت رہے

​بیٹی اور میری بینائی:

آنکھوں کی بینائی اب وہ ساتھ نہیں دیتی جو جوانی میں ہوا کرتی تھی، لیکن میری بیٹی نے مجھے کبھی تنہا نہیں ہونے دیا۔ میرے خیالات کو لفظوں کا روپ دینا ہو یا ای میل آگے بھیجنی ہو، وہ ہر قدم پر میرا ہاتھ تھامے رکھتی ہے اور میری بینائی بن جاتی ہے۔ میں اپنی اس بیٹی اور ان تمام بیٹیوں کو سلام پیش کرتا ہوں جو مشکل وقت میں اپنے باپ کا مان بنتی ہیں۔

​پیغام:

قلم اللہ کی امانت ہے اور اس کی سچائی پر کبھی سودا نہیں ہونا چاہیے۔ لکھاری کا کام صرف لفظ جوڑنا نہیں، بلکہ معاشرے کے اندھیروں میں سچ کا چراغ جلانا ہے۔