میرا نام سائرہ حنان صنم ہے میری جائے پیدائش گجرات ہے۔ اور میرے گھرانے میں کوئی بھی ادبی ٬علمی شخصیت نہیں ہے۔میں اپنے خاندان کا پہلا فرد ہوں جو شاعری میں کچھ نہ کچھ کہہ لیتی ہے۔میرے ابو بیرون ملک مقیم تھے اور میری امی ایک ہاؤس وائف تھیں۔میں یہی کہہ سکتی ہوں کہ ایک عام پڑھاکو بچی تھی۔علم حاصل کرنے کا جنون تھا۔لیکن خاندان میں کوئی بھی پڑھا لکھا نہیں تھا ۔مجھے یہ فخرحاصل ہے کہ میں اپنے خاندان کی پہلی شخصیت تھی جو کالج تک پہنچی۔علم حاصل کرنے کے لیے میں نے بہت جدوجہد کی۔کھینچ تان کے میں اپنی تعلیم بی ایڈ تک لےہی گئی۔ہمارے گھر کا ماحول تو عام سا تھا ۔گھر میں کوئی ایسا پڑھا لکھا نہیں تھا والدین بھی معمولی تعلیم کے حامل تھے۔ہاں میں ذرا کچھ حساس طبیعت کی تھی ۔چھٹی کلاس میں تھی جب میں نے ملی نغموں کی ایک کتاب پڑھی۔اس کتاب نے مجھے روحانی ۔٬جذباتی اور ذہنی طور پر بہت متاثر کیا .اور میری کردار سازی میں بھی اہم کردار ادا کیا ۔ساتویں کلاس میں تھی جب میں نے خود باقاعدہ شاعری شروع کر دی ۔وہ بھی بس بیٹھے ہوئے دوستوں نے پلان بنایا دو دو تین تین شعر لکھ کے لانے ہیں ۔میرے پاس کچھ ایسا مواد تھا نہیں جہاں سے میں نقل کر سکتی تو میں نے خود سے شعر گھڑ لیے۔ اگلے دن دوستوں کو کلاس میں سنائے تو انہوں نے خوب واہ واہ کی ۔تھوڑا سا حوصلہ ملا تو خود سے لکھنا شروع کر دیا۔لیکن میٹرک تک اپنی کوئی بھی شاعری محفوظ نہ رکھ سکی ادھر ادھر سے کاغذ پہ لکھی ہوئی تھی۔میری بہت سی شاعری ضائع ہوئی ۔لیکن جب میں کالج لیول پہ آئی تو مجھے ایک نہایت اچھی استاد میسر آئیں۔میں نےدوستوں کے کہنے پر ہی ان کو اپنا نمونہ کلام دکھایا۔وہ ٹیچر بھی بہت امپریس ہوئیں اور مجھ سے یہ شاعری نیٹ کرنے کو کہا تھوڑا سا حوصلہ ملا تو میں نے اپنی شاعری کو ڈائری پہ لکھنا شروع کیا ۔اور باقاعدگی سے اپنی ٹیچر کو بھی چیک کرواتی رہی۔یوں یہ شاعری کا سلسلہ چل نکلا ۔پہلی شاعری مجھے بالکل بھی یاد نہیں میں نے کون سا شعر لکھا تھا ۔کیونکہ ابتدائی شاعری میری کافی ضائع ہو چکی تھی۔شاعری میں میں نے نظم ٬غزل٬ آزاد نظم٬ نثری نظم رعبایات ٬قطعات اور ہائیکوز بھی لکھے ہیں۔بہترین صنف تو میری مجھے نظم ہی لگتی ہے کیونکہ اس میں آپ کھل کے کسی ایک موضوع پر اظہار کر سکتے ہیں جبکہ غزل میں قافیہ اور ردیف کی پابندی کی وجہ سے اظہار نہیں ہو سکتا۔
صنم تخلص کا کوئی خاص مقصد تو نہیں ہے میں نے کافی زیادہ تخلص اپنائے اور وہ ان کو ضائع کیا ۔کئی تخلص اپنا کے شاعری کی لیکن دل کسی پہ بھی مطمئن نہیں ہوا ۔پھر مجھے صنم تخلص پسند آیا تو میں نے یہی اپنا لیا ۔کیونکہ جب میری شاعری جب استاد نے پڑھنا شروع کی تو انہوں نے یہی تخلص پڑھا تھا میں نے بھی پھر اس کے بعد تبدیل نہیں کیا ۔اور اب یہ مجھے پسند بھی ہے ۔
شاعری میں میں نے بے شمار شعراءکو پڑھا ہے جیسے امجد اسلام امجد٬ احمد فراز ٬فیض احمد فیض٬ اور ساغر٬ساحر لدھیانوی اور محسن نقوی جبکہ خواتین شعراء میں پروین شاکر تو کمال ہیں ہی۔ان سب کی شاعری سے بہت متاثر ہوں ۔باقی بھی بے شمار شعراء کو پڑھا ہے جنہوں نے اپنے اپنے طور بہت متاثر کیا۔ میری شاعری کے موضوعات ہجر ٫محبت ٬تنہائی٬ وصل ٬طبقاتی اونچ نیچ٬معاشرتی مسائل اور بے شمار موضوعات ہیں ۔
میرے نزدیک شاعری خداداد ہے انسان اپنے تخیل سے کام تو لے سکتا ہے لیکن اس کو الفاظ میں ڈھالنا یہ خدا کی طرف سے ہے ۔انسان بے شمار الفاظ استعمال کر سکتا ہے لیکن شعری قالب میں ڈھالنا مشکل ہے۔یہ صرف شاعر حضرات ہی کر سکتے ہیں ہاں ہمارے ارد گرد کے معاشرے میں جو ہو رہا ہے اس سے شاعر کافی انسپائر ہوتے ہیں ۔تخیل کو مددضرور ملتی ہے وسعت نظری آتی ہے لیکن ان کو الفاظ میں ڈھالنا شاعر ہی کا کمال ہے۔
میں بہت معمولی سی شاعرہ ہوں میری کوئی تخلیق کہیں پہ بھی شائع نہیں ہوئی ہاں فیس بک اور یہ واٹس ایپ گروپ میں تھوڑی سی مجھے پہچان ملی ہے اور اس بات کو ابھی صرف ایک دو ماہ ہوئے ہیں۔کامیابیاں اللہ آگے دے گا ۔ان شاءاللہ۔
شاعری میں نے صرف ابھی تک اپنی استاد کو ہی دکھائی تھی اورانہوں نے میری شاعری میں کبھی کوئی نقص نہیں نکالا کبھی کوئی اصلاح نہیں کی اور ہر شعر کو انہوں نے بہترین کہا ۔اس لیے ابھی تک میری کوئی اصلاح نہیں ہوئی نہ ہی شاعری میرا کوئی استاد ہے ۔
تنقید الفاظ کے بارے میں ہو تو وہ برداشت کی جا سکتی ہے۔لیکن ہمارے جذبات پہ تنقید ہو تو برداشت نہیں کی جاتی ۔اور شاعری صرف ہمارے جذبات ہی کا نام ہے ۔
شاعری کے میدان میں آپ اگر نظر دوڑائیں تو آپ کو بہت کم شاعرات نظر آئیں گی۔ اس کی وجہ سے یہ ہے کہ شاعرات کو مواقع ہی نہیں ملتے۔اور جن کو مواقع ملے ہیں ان کے لیے کوئی پذیرائی نہیں ۔اور مجھے لگتا ہے ایک شاعرہ ہونے کے ناطے مجھے بھی کوئی خاص پذیرائی نہیں ملے گی۔کیونکہ اس میدان میں بطور شاعرہ نام بنانا بہت ہی مشکل ہے۔
ادب کا تو شروع سےمقصد یہ رہا ہے کہ وہ معاشرے کی اصلاح کرے۔بے شمار معاشرتی موضوعات اور انسانی طبقات اور معاشرتی مسائل پر مصنفین نے تحریر کیا ۔شاعری نے بھی اس میدان میں اپنا حق ادا کیا ۔میری شاعری میں بھی معاشرتی مسائل کو اجاگر کیا گیا ہے لیکن میرا موضوع خاص طور پر رومانیت٬ ہجر اور درد ہے۔
عکسِ بسمل کی انتظامیہ نے معمولی سی شاعرہ کو موقع فراہم کیا ہے۔مستقبل بھی میں بھی انتظامیہ کے تعاون اور محبت کی امید ہے۔میری طرف سے جہاں تک ہو سکا بھرپور تعاون کروں گی ۔
ہو سکتا ہے مستقبل میں کوئی نہ کوئی کتاب میری چھپ جائے ۔میرے پاس تین چار کتابوں کا مواد پڑا ہے۔اور یو بھی آج سے تقریبا 20٬ ،22 سال پہلے کی لکھی ہوئی شاعری ہے ۔20 ،22 سال سے میں نے کچھ خاص نہیں لکھا۔اپنی گھریلو زندگی اور اپنے بچوں میں مصروف رہی ۔اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میرے بچے بڑے ہو چکے ہیں ۔اس کی وجہ سے مجھے تھوڑی سی فرصت ملی ہے ۔
باقی نئے لکھنے والوں کو میں ضرور کہوں گی کہ وہ جو لکھ رہے ہیں وہ اپنے خیالات کو کبھی بھی ادھورا نہ چھوڑیں ۔اپنے خیالات کو کسی نہ کسی طرح کاغذ پہ اتار لیا کریں۔میرے بے شمار خیالات٬ جذبات مصروفیت کی نظر ہو گئے۔لیکن آپ کسی بھی حال میں لکھنا نہ چھوڑیں ۔اس سے ہماری شخصیت کا کتھارسس ہوتا رہتا ہے۔باقی اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔بہت شکریہ۔
نمونہء کلام
لالہ و گل وہ رخسار ہوئے
ہماری نگاہوں سے جب دو چار ہوئے
ان نگاہوں کی حیا پر لٹے ہم جاناں!
ان ہونٹوں کی جنبش پر بےقرار ہوئے۔
شاعرہ :سائرہ حنان صنم
زلف بردوش آئے ہیں محفل میں
ہلچل سی ہونے لگی تھی دل میں
ان آنکھوں کی مستی سے گنہگار ہوا
کچھ قیامت چھپی تھی کاجل میں
صنف : نظم
عنوان : کبھی تو آؤ
شاعرہ : سائرہ حنان صنم
کبھی تو آؤ میرے گلشنِ دل میں
جہاں کھلتے ہیں گلاب تیری محبت کے
جہاں چہکتے ہیں پرندے تیرے نام سے
جہاں تیرے وصال کی بہاروں کو
کبھی زوال نہیں آتا
جہاں سمندر کی موجوں میں
تیرا عکس ملتا ہے ۔
تیرا عشق پوجا جاتا ہے صنم !
جہاں بارش کے موتیوں سے
تیرے حسن کی مالا پروئی جاتی ہے
کبھی آؤ تو اس بظاہر ویران نگر میں
مل جائے گا تمہیں اپنا سکون یہاں
اپنا احساس ٬ اپنا ایماں
یہیں سے ملے گا تم کو میرے محبوب!
یہیں سے ملے گا تم کو اپنا آپ۔
صنف : غزل
شاعرہ : سائرہ حنان صنم
اندھیری رات کی ظلمت اور میں تنہا
کی بھی ہوگی اس نے محبت اور میں تنہا
شب بھر جاگ لیا اب آنکھیں بند کر لو
ہر دن کی یہی حقیقت اور میں تنہا
تو تو اور میں میں کا اصول آیا اب
کس میں رکھ دی کس کی عظمت
سچ کا بوٹا لگایا جو پھل آیا تنہائی کا
رشتوں سے ہر دم فراغت اور میں تنہا
کوئی تعلق نکلا نہ کسی سے محبت کا
بند کمرے میں ہیں وحشت٬ اور میں تنہا
وہی عالمِ بالا کا سوداگر وہ رسیا پر ستاری کا
ساتھ رہے اسی کے عزت اور میں تنہا
محبت کی دیوار سے لگ کے انتظار کیا
برتتے رہے سدا وہ غفلت اور میں تنہا
بلندیوں پر پہنچتے پہنچتے یوں دیوانی ہوئی
کھو ہی گئی آخر رفعت اور میں تنہا
صنف :غزل
شاعرہ :سائرہ حنان صنم
محبتوں کا خمار ٹوٹے
نفرتوں کا مینار ٹوٹے
یہ وحشتیں کب تلک؟
پائلوں کی جھنکار ٹوٹے
سوہنی٬لیلیٰ٬شریں
کیسے کیسے شاہکارٹوٹے
جب دل لئے گزرے ہیں
اجالوں کے دربار ٹوٹے
زندگی مشکل تر ہے دوستو!
ٹوٹے٬اب تو انتظار ٹوٹے
خزاں بھی میسر ہو ہم کو صنم!
ازل سے مسلط بہار ٹوٹے
مزید پڑھیں




